کُردستان میں امن، اور ترکی میں متوقع تبدیلی

تُرک جنگی جہاز شمالی عراق کے قصبے قندیل کی برف سے ڈھکی پہاڑیوں پر کئی دہائیوں سے بمباری کررہے ہیں تاکہ ترکی میں کُردوں کے حقِ حکمرانی کے لیے ۱۹۸۴ء سے لڑنے والے کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے باغیوں کا صفایا کیا جاسکے۔ اب ترکی ایک دوسری طرز کی کارروائی کا سوچ رہا ہے۔ ملک کے وزیرِ تیل تانیر یلدیز کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوگیا تو ہم قندیل میں تیل تلاش کریں گے۔

تانیر یلدیز کا منصوبہ پی کے کے، کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں معنی خیز تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ جیل میں قید پارٹی کے رہنما عبداللہ اوکلان نے ۲۸ فروری کو ایک اجلاس میں اپنے ساتھیوں سے رواں موسمِ بہار میں مسلح جدوجہد کے خاتمے کا اعلان کرنے کو کہا ہے۔ شاید اوکلان اور انہیں قید کرنے والوں کے درمیان برسوں کے خفیہ روابط اب رنگ لانے والے ہیں۔ کُردوں کی سب سے بڑی باضابطہ جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے رہنما سری ثریا اوندر نے ٹیلی ویژن پر اوکلان کا بیان پڑھتے ہوئے بتایا کہ ’’ہم قیامِ امن سے اتنا قریب ہیں جتنا پہلے کبھی نہیں تھے‘‘۔

تُرک صدر رجب طیب ایردوان نے کُرد مسئلے کے حل کے لیے اپنے تمام پیشروؤں سے زیادہ کوشش کی ہے۔ کُردوں کا پُرامن سیاست کی جانب مائل ہوجانا نہ صرف ترکی بلکہ عراق اور شام میں بھی ثمرات کا حامل ہوگا، جہاں پی کے کے اور اس کے شامی اتحادی داعش کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے امریکی فضائی مدد حاصل کیے ہوئے ہیں۔ ایک مغربی سفارت کار کو امید ہے کہ ’’جب پی کے کے ترکی کو نشانہ بنانا بند کردے گی تو امریکا کے لیے پی کے کے کی حمایت کا جواز تلاش کرنا بھی آسان ہوجائے گا‘‘۔

ایردوان نے کُردوں کو رعایت دینے کی قیمت بھی طے کر رکھی ہے۔ وہ آئین میں ترمیم کے ذریعے نسبتاً محدود اختیارات کی حامل ملکی صدارت کو ایک صحیح معنوں میں طاقتور صدارت بنانا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی من چاہی ترمیم کے لیے ایردوان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ (اے کے) پارٹی کو ۷ جون کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی نشستیں درکار ہیں۔ اندازے لگائے جارہے ہیں کہ یہ اکثریت حاصل نہیں ہوپائے گی اور ایردوان کو کسی اور جماعت کی حمایت درکار ہوگی جو کہ ایچ ڈی پی ہوسکتی ہے۔

حزبِ اختلاف کی مرکزی سیکولر جماعت ری پبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت (اے کے پی) اور ایچ ڈی پی کے درمیان پہلے ہی خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے (ایچ ڈی پی کے شریک چیئرمین صلاح الدین دیمرطاس ان دعوئوں کو ’’جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہیں)۔ ان الزامات کو اس تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ کُردوں کی جماعت پارلیمان میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے درکار کم از کم ۱۰؍فیصد حصہ حاصل کرنے کی غرض سے سی ایچ پی کے ووٹروں کی جانب دیکھ رہی ہے۔ اگر ایچ ڈی پی اس رکاوٹ کو دور نہ کرسکی تو اے کے پارٹی اس کے زیرِ اثر علاقے کی زیادہ تر نشستیں چھین کر ایردوان کو فیصلہ کن اکثریت دلا سکتی ہے۔

ایچ ڈی پی کے کچھ رہنما خفیہ طور پر شکایت کرتے ہیں کہ اوکلان نے کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے: انہیں چاہیے تھا کہ اپنے امن کے اعلان کو اس چیز سے مشروط کردیتے کہ حکومت پہلے ایک متنازعہ سرکاری حکم نامے پر مبنی بِل کو منسوخ کرے۔ یہ مسودئہ قانون، جس کے بیشتر نکات اے کے پارٹی کی اکثریت رکھنے والی پارلیمان منظور کرچکی ہے، پولیس کو نئے فیصلہ کن اختیارات دیتا ہے، جن میں مظاہرین کو گولی مار دینے کا اختیار بھی شامل ہے۔ اگر کُرد پارلیمان میں نہیں پہنچ پاتے ہیں تو یہ قانون حکومت کو خاصی گنجائش فراہم کردے گا کہ وہ نتیجتاً ابھرنے والے کسی بھی عوامی احتجاج کو دبا سکے۔

تاہم ایردوان کے ارادوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی جماعت کے اندر سے پیدا ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم احمد داؤد اولو سمیت اے کے پارٹی کے متعدد رہنما تیزی سے غیر متوقع فیصلے کرتے صدرِ مملکت کی جانب سے اختیارات سمیٹ لینے پر شاکی نظر آتے ہیں۔ اس بات پر کھینچا تانی خارج از امکان نہیں کہ انتخابات کے لیے امیدواروں کی فہرستیں کون ترتیب دے گا۔ امکان یہی ہے کہ ایردوان ہی یہ کام کریں گے۔ پھر بھی یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ ان کے چُنے ہوئے نائبین وفادار بھی رہیں گے۔ لہٰذا جس طاقتور صدارت کی تمنا وہ کررہے ہیں، وہ ابھی تک پوری طرح قابلِ حصول نہیں ہے۔

(مترجم: حارث بن عزیز)

“Turkey’s Kurds: Put the weapon down”.
(“The Economist”. March 7, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*