ترکی: عوام نے فیصلہ دے دیا

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے بعد ۴۵ فیصد ووٹ حاصل کرنے پر فتح کا جشن منایا۔ یہ انتخابات رجب طیب اردوان کے اقتدار کے لیے ریفرنڈم کے طور پر دیکھے جارہے تھے۔ اردوان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے) پر کرپشن کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کے بیٹے اور چند اعلیٰ افسران پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ مگر اس کے باوجود عوام نے اے کے پارٹی پر پھر بھروسا کرکے ثابت کردیا کہ وہ رجب طیب اردوان کے اقتدار کو فی الحال ختم کرنے کے موڈ میں نہیں اور یہ کہ ان کی طرزِ حکمرانی پر بھروسا ہے۔ رجب طیب اردوان اگست میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں بھی امیدوار بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ عوام انہیں صدر کے روپ میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔

دارالحکومت انقرہ میں پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں ایک بالکونی سے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ ان کی نظر اب صدارتی محل پر ہے اور یہ کہ قوم نے جو بھی منصب سونپا، وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ ایمن کے علاوہ چھوٹا بیٹا بلال بھی ان کے ساتھ تھے۔ بلال پر کرپشن کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

اردوان اپنے حریفوں کو معاف کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کل ان کے بعض حریفوں کو بھاگنا پڑے گا۔ ان کا اشارہ واضح طور پر فتح اللہ گولن کی طرف تھا، جن کے حامیوں نے اردوان کی پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فتح اللہ گولن بنیادی طور پر تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں مگر اب ان کے حامیوں نے سیاست میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔ بہت سے اعلیٰ عہدوں پر فتح اللہ گولن سے ذہنی ہم آہنگی رکھنے والے فائز ہیں۔ یہ لوگ حکومت کے لیے پریشانی کا سامان کرتے رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ رجب طیب اردوان کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کے حصے کے طور پر جو ٹیپ ریکارڈنگ سامنے لائی گئی ہیں، ان کی پشت پر فتح اللہ گولن کے ہم خیال لوگ ہیں۔ ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو اور انٹیلی جنس چیف سمیت کئی اعلیٰ افسران کی گفتگو کا ٹیپ حال ہی میں جاری کیا گیا ہے، جس میں اس امر پر بحث شامل ہے کہ کس طور شام سے جنگ کی راہ ہموار کی جائے۔

ان خفیہ ریکارڈنگ نے ملک کی واحد سیکولر جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کچھ اضافہ نہیں کیا، جو اَب بھی ۲۸ فیصد ووٹوں کے ساتھ بہت پیچھے ہے۔ خیال کیا جارہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ری پبلکن پیپلز پارٹی حکمراں اے کے پارٹی کو دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں شکست سے دوچار کرے گی مگر انتخابات میں نتائج اس کے برعکس رہے۔ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال کلکدار اوغلو نے اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کی ہے جسے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا اور کمال اتا ترک کے ہم خیال افراد ان سے متفق دکھائی نہیں دیتے۔ بہت سے ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ری پبلکن پیپلز پارٹی کا قائد اب تبدیل کرلیا جائے۔ کمال کلکدار اوغلو کے خلاف بغاوت کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔ بہت سوں نے ان کی سیٹ کے نیچے لکڑیاں لگا کر اس پر مٹی کا تیل بھی چھڑک دیا ہے۔ اب صرف ماچس کی تیلی دکھانے کی دیر ہے۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کردستانی علاقے میں کردستان نواز پیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی نے بھرپور کامیابی حاصل کرتے ہوئے جنوب مغربی ترکی کے کرد علاقوں میں ۸ سے آگے بڑھ کر اب، ۱۱؍ شہروں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اس جماعت نے اے کے پارٹی سے بتلس، مردین اور اگری کا کنٹرول بھی چھین لیا ہے۔

ری پبلکن پیپلز پارٹی نے کرد علاقوں میں صرف ایک فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اپنے آبائی شہر تانسیلی کے سوا کمال کلکدار اوغلو نے انتخابی مہم کے دوران کسی بھی شہر میں قدم نہیں رکھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ رجعت پسندوں اور کردوں کو اپیل کرنے میں ناکامی ہی ری پبلکن پیپلز پارٹی اور اس کے قائد کی سب سے بڑی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ویسے ترکی میں بائیں بازو کی جماعتوں نے ایک تہائی سے زائد ووٹ کبھی حاصل نہیں کیے۔ اگر رجب طیب اردوان کو حقیقی مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے تو صرف اپنی ہی صفوں سے۔ مگر بلدیاتی انتخابات کے نتائج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صدارتی محل میں بھی انہیں کسی خاص پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

اردوان کا سخت گیر رویہ ان کے لیے پریشانی پیدا کرسکتا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو کچلنے کے معاملے میں غیر معمولی سختی دکھائی ہے۔ ٹوئٹر اور یو ٹیوب کو بلاک کرنے کا فیصلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسے اقدامات سے ان کا اور ان کی پارٹی کا ووٹ بینک کمزور نہ پڑے مگر عالمی سطح پر ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے انہیں زیادہ قابلِ اعتبار اور مستقل مزاج نہ سمجھا جائے۔ مغرب میں اردوان کے دوست ان کے رویے میں پائی جانے والی سختی سے غیر معمولی حد تک پریشان ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی بعض سخت پالیسیوں کی بدولت ترک معیشت عالمگیر کساد بازاری کے منفی اثرات سے بہت حد تک محفوظ رہی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مطمئن ہوکر بیٹھا جائے۔ ترک معیشت میں سست رفتاری کے آثار ہیں۔ ممکن ہے کہ اے کے پارٹی نے جن بڑے منصوبوں کا وعدہ کر رکھا ہے، ان کی تکمیل کی منزل تک نہ پہنچ پائے۔ مثلاً آبنائے باسفورس پر تیسرے پل اور استنبول میں تیسرے بڑے ایئر پورٹ کی تعمیر کا خواب جلد شرمندۂ تعبیر نہ ہو پائے۔ اس وقت اے کے پارٹی نے جو بھرپور کامیابی حاصل کی ہے، وہ اس کی ماضی کی کارکردگی کا ثمر ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا کی کارکردگی عمدہ بنانے میں اے کے پارٹی کی سخت گیر پالیسیوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

شام کا بحران اردوان کے لیے سب سے بڑا دردِ سر ثابت ہوسکتا ہے۔ اردوان کے لیے پریشانی کی بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے ہم مذہب علویوں کی اکثریت والے علاقے حاطے کا صدر مقام انتاکیہ انتخابی میدان میں اے کے پارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا۔ سرحد پر واقع یہ علاقہ شام سے نقل مکانی کرکے آنے والوں کا گڑھ رہا ہے۔ ان میں جہادی بھی شامل ہیں۔ ترکی میں بہت سے لوگ اردوان کی شامی باغیوں کے لیے حمایت کے مخالف ہیں۔ زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اردوان نے پارٹی ہیڈ کوارٹر سے خطاب میں کہا تھا کہ سلطنتِ عثمانیہ کا وارث (ترکی) اپنے ایک سابق بازو کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔

(“Turkey’s local elections: A referendum on Erdogan’s rule”.. “Economist”. March 31, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*