Abd Add
 

ترکی میں جمہوریت کا ’’زوال‘‘

گیارھا جون کو جب استنبول میں پولیس مظاہرین سے سختی سے نمٹ رہی تھی، تب وزیراعظم رجب طیب اردوان نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا رویہ سخت گیر اور غیر لچکدار ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کوئی مشتعل مظاہرین سے نمٹنے کو سختی کہہ رہا ہے تو اسے مایوسی ہوگی یعنی وزیر اعظم کے رویے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ استنبول کے تقسیم اسکوائر میں پولیس نے مظاہرین کو سختی سے کچلا۔

ترکی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب ۳۱ مئی کو پولیس نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے سِرے پر واقع غازی پارک کے نزدیک مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی شروع کی۔ اگر رجب طیب اردوان نے غازی پارک میں رہائشی کمپلیکس اور شاپنگ آرکیڈ بنانے کے ارادے کو پہلے ہی ملتوی کردیا ہوتا تو خرابی کو بہت حد تک ٹالا جاسکتا تھا۔ ترک وزیر اعظم نے افہام و تفہیم سے کام لینے کے بجائے ایسا رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں لاکھوں افراد اور بالخصوص نوجوانوں کے جذبات بھڑک اٹھے اور وہ تقسیم اسکوائر میں جمع ہونے والوں سے یکجہتی کے اظہار کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے۔ عوام کا ردعمل دیکھتے ہوئے اردوان نے ۱۲ جون کو اعلان کیا کہ غازی پارک میں شاپنگ آرکیڈ اور رہائشی کمپلیکس کی تعمیر کا معاملہ اب عوامی ریفرنڈم میں طے ہوگا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اردوان نے فوج سے اختیارات چھین تو لیے ہیں مگر یہی اختیارات اب بظاہر پولیس کو دے دیے گئے ہیں۔ اردوان اب بھی ملک کے مقبول ترین رہنما ہیں مگر ساتھ ہی ان کی قائدانہ صلاحیت پر شبہ بھی کیا جارہا ہے۔ پولیس کی طرف سے مظاہرین کے خلاف پرتشدد رویہ اپنائے جانے کے مناظر نے ایک ایسے ملک کے امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو طویل مدت سے اسلامی دنیا میں ماڈل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ترکی سے متعلق اوکسفرڈ کے ایک تجزیہ کار کرم اوکٹم کا کہنا ہے کہ اردوان اب زوال سے پہلے کے حسنی مبارک جیسے دکھائی دے رہے ہیں۔

اردوان نے ۱۲ جون کو جب تقسیم اسکوائر میں اور اس کے گرد جمع ہونے والوں سے مذاکرات کیے تب پولیس کے غیر لچکدار کریک ڈاؤن کو ایک دن ہی تو گزرا تھا۔ بائیں بازو کے سیاسی کارکنان نے تقسیم اسکوائر اور اس کے گرد ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ انہوں نے خاصا پرتشدد رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ دیواروں پر پولیس اور حکومت کے خلاف خاصی غیر مہذب زبان میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔

جب پولیس نے مظاہرین سے منتشر ہونے کو کہا تو انہوں نے بوتل بم پھینکنا اور پتھراؤ کرنا شروع کردیا۔ پولیس نے آبی توپوں سے کام لیا، پھر ربڑ کی گولیاں چلائیں مگر بات جب بگڑ گئی تو چند ایک گولیاں بھی داغی گئیں۔ استنبول کے گورنر نے وعدہ کیا تھا کہ غازی پارک میں جمع ہونے والوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا مگر اس وعدے کو بھلادیا گیا۔ پولیس نے غازی پارک میں جمع ہونے والوں کو بھی نہیں بخشا۔

جب معاملات اِس نہج پر پہنچے تو اردوان نے صاف کہہ دیا کہ جو لوگ حکومتی رٹ نہیں مانیں گے، اُن کے خلاف سختی کی جائے گی۔ امریکا اور دیگر مغربی دوستوں نے اردوان سے کہا کہ وہ مظاہرین سے نمٹنے کے معاملے میں ضبطِ نفس سے کام لیں مگر انہوں نے تمام مشورے بالائے طاق رکھ دیے۔ انہوں نے مظاہرین کو شرابی اور غنڈے تک کہا اور ان پر عثمانی دور کی ایک مسجد کی بے حرمتی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ معاملات کو بڑھا چڑھاکر بیان کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کینیڈین صحافیوں کو کچھ دیر کے لیے محبوس بھی رکھا گیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بیرونی قوتیں ترکی کے حالات خراب کرنے کے درپے ہیں۔ ان کے خیال میں بیرونی قوتیں ان کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ حکومت کے لیے کام کرنا مشکل تر بنادیا جائے، معیشت کو شدید نقصان پہنچایا جائے تاکہ ترکی ترقی کی راہ پر گامزن نہ رہے۔ حکومت نواز اخبارات اور جرائد میں امریکا اور اسرائیل کی سازش کے قصے بھرے ہوئے ہیں۔ اے کے پارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سب سے زیادہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ وزیراعظم اردوان اِن رپورٹس پر یقین بھی کرتے ہیں!

مظاہرین نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ کوئی انہیں ہدایات دے رہا ہے۔ ان میں علوی بھی ہیں، خواتین بھی، انارکسٹس بھی، سیکولر بھی اور جمہوریت نواز بھی۔ ہم جنس پرست بھی مظاہرین سے آملے ہیں۔ اردوان پر ایک بڑا الزام یا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے اے کے پارٹی کو ووٹ نہ دینے والی نصف آبادی کے جذبات نظر انداز کرتے ہوئے سماجی قدامت پرستی کو فروغ دیا ہے۔ پیپلز ری پبلکنز پارٹی کے ایکان ارمیر کہتے ہیں کہ عشروں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لوگ اجتماعی حقوق کے بجائے انفرادی یا ذاتی حقوق کے لیے میدان میں آئے ہوں۔

فوج اور عدلیہ کے خلاف رجب طیب اردوان کا جارحانہ رویہ خاصا بار آور ثابت ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے چند ہفتوں کے دوران اپنی تقاریر میں سابق سیکولر حکمرانوں کے ہاتھوں اسلام پسندوں کو دی جانے والی اذیتیں اس عمدگی سے بیان کی ہیں کہ ووٹروں کی نظر میں ان کا وقار بلند ہوگیا ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی کی ماہر بشریات اور ترکی سے متعلق امور کی ماہر جینی وھائٹ کہتی ہیں کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اردوان میں تحمل ختم ہوگیا ہے اور وہ آنکھیں بند کرکے کچھ بھی کرنے پر اتر آئے ہیں، انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اردوان نے مظاہرین کے خلاف طاقت اس لیے استعمال کی کہ مخالفت ایک ہی بار میں ختم ہو جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ بات یہ ہے کہ اردوان کی مقبولیت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انہوں نے معیشت کو بہت عمدگی سے مستحکم کیا ہے۔ لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ معیشت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی عمل کو کچلنا اردوان کے لیے لازم ہے۔ اردوان نہیں چاہتے کہ ترک معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو۔ جو کچھ انہوں نے مظاہرین سے نجات پانے کے لیے کیا، اس میں مستقبل کے حوالے سے ان کے ذہن میں پائی جانے والی تشویش بھی جھلکتی ہے۔

اردوان اور ان کی پارٹی کی مقبولیت اب کس مقام پر ہے، اس کا حقیقی اندازہ مارچ ۲۰۱۴ء میں ہونے والی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں ہوجائے گا۔ اگر اے کے پارٹی کی کارکردگی اطمینان بخش نہ رہی تو پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما اور ارکان اردوان سے جواب طلب کریں گے۔ معاملہ خواہ کچھ رہے، اس بات کا امکان ہے کہ اردوان مجوزہ آئین کے معاملے میں پیش رفت کے لیے کچھ کریں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کردوں سے مذاکرات کو داؤ پر لگادیں۔ کرد چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آئین پر نظر ثانی کی جائے، چند ترامیم کی جائیں۔ شام کے بحران سے بھی ترکی متاثر ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے بھی اردوان کی

تشویش قابلِ فہم ہے۔ بہت سے ترک اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اردوان شام کے باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس حمایت ہی کے نتیجے میں مئی میں ترک شام سرحد پر واقع شہر ریحانلی میں کار بم دھماکے میں ۵۲؍افراد مارے گئے تھے۔ بہر حال، اردوان نے مخالفین کو کچلنے کے لیے طاقت استعمال کرکے مبصرین کو یہ سوچنے کی تحریک دی ہے کہ بعض معاملات میں وہ واقعی پریشان ہیں۔ انہوں نے انقرہ اور استنبول میں ریلیوں کا اہتمام کرکے لوگوں کے ذہنوں میں شک کے مزید بیج بوئے ہیں۔ جینی وھائٹ کا کہنا ہے کہ ترکی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر اردوان نے اپنے حامیوں کو مخالفین پر حملوں کی تحریک دی، تو وہی منظر پیدا ہو جائے گا جو مصر میں نمودار ہوا تھا۔ ایسے میں اردوان کو ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔

(“Turkey’s Upheaval: Descent into Confrontation” “The Economist” London. June 15, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*