Abd Add
 

سعادت پارٹی اور ترک پارلیمانی انتخابات

۷ جون ۲۰۱۵ء کو ہونے والے ترک پارلیمانی انتخابات کے لیے ترکی کی اسلامی تحریک ’’سعادت پارٹی‘‘ اور دائیں بازو کی دو جماعتوں نے ایک نیا ’’سہ جماعتی‘‘ سیاسی اتحاد تشکیل دیا ہے۔ اس اتحاد میں شامل ’’گرینڈ یونین پارٹی‘‘ (BBP) اور ’’نیشن اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ سعادت پارٹی کے پرچم تلے انتخابات میں حصہ لیں گی۔ دونوں پارٹیوں کا مختصر تعارف یہ ہے:

۱۔ BBP نسبتاً ایک پرانی جماعت ہے۔ اس کی بنیاد ۱۹۹۳ء میں پانچ اراکینِ اسمبلی نے رکھی تھی۔ یہ جماعت اسلام اور تُرک قومیت کے نظریات کی حامل ہے۔ گزشتہ انتخابات میں اس جماعت کو ایک سے دو فیصد ووٹ پڑتے رہے ہیں۔ اس وقت بلدیاتی اداروں میں اس کے پاس ۹۱۹,۲ میں سے ۲۰ میونسپلٹیز ہیں۔ یہ جماعت ایک بڑی ترک قوم پرست جماعت ’’نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی‘‘ (MHP) کے بیشتر ناراض اراکین پر مشتمل ہے۔

۲۔ اتحاد میں شامل دوسری جماعت ’’نیشن اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ ہے۔ اس جماعت کے بانی ادریس نعیم شاہین ہیں۔ ادریس نعیم جنوری ۲۰۱۳ء تک ایردوان حکومت میں وزیرِ داخلہ رہے ہیں۔ اُن پر الزام ہے کہ یہ ’’گولن تحریک‘‘ سے مضبوط روابط رکھتے ہیں اور ایردوان حکومت کے خلاف کرپشن اسکینڈل بنانے کے پیچھے بھی بڑا ہاتھ انہی کا ہے۔ الزامات لگنے کے بعد ادریس نعیم نے ایردوان حکومت سے مستعفی ہو کر نومبر ۲۰۱۴ء میں ’’نیشن اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ذرائع کے مطابق نیشن اینڈ جسٹس پارٹی کو گولن تحریک کی خاموش مدد حاصل ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات میں فتح اﷲ گولن کے حامی ووٹ اسی پارٹی کے حصے میں آئیں گے۔

واضح رہے کہ ترک پارلیمنٹ میں دس فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کو نمائندگی کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعادت پارٹی سمیت کئی جماعتیں گزشتہ کئی انتخابات میں نمائندگی سے محروم چلی آرہی ہیں۔ تاہم اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ اتحاد اِن جماعتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے حوالے سے اہم کڑی ثابت ہو گا۔ دوسری طرف حکمران جسٹس پارٹی دو تہائی اکثریت کے حصول کے لیے پُرعزم دکھائی دیتی ہے۔

☼☼☼

Leave a comment

Your email address will not be published.


*