غیر سرکاری تنظیمیں: غیر مہذب معاشرہ

حال ہی میں اشتراکی جماعت تجاویز کا ایک پلندہ سامنے لائی ہے، جس کا مقصد اقتدار پر اپنی اجارہ داری کو درپیش چیلنجوں کی روک تھام کرنا ہے۔ یکم جولائی کو قومی سلامتی سے متعلق ایک قانون منظور ہوا، جس نے دشمن عناصر سے ملک کو بچانے کے لیے ’ہر ممکن اقدام‘ اٹھانے کی منظوری دی۔ اب غیر حکومتی تنظیموں (این جی اوز) کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں چین میں اپنی نوعیت کے پہلے قانون کا مسودہ لایا جا رہا ہے۔ اس قانون کو غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری خیال کیا جارہا ہے۔

مجوزہ قانون محدود پیش رفت اور ایک حساس مسئلے پر جماعت کی پالیسی میں تخفیف کو ظاہر کرتا ہے۔ ماوزے تنگ کے زمانے میں چین میں غیر حکومتی تنظیموں کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ مگر پچھلی دہائی میں لوگوں کی عام زندگیوں سے اشتراکی جماعت کی دوری کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کو پُر کرنے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کی تعداد میں گوناگوں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ یہ قانون غیر سرکاری تنظیموں کو قانونی درجہ اور جواز فراہم کرکے ان کی مدد کرے گا۔ مگر یہ غیر ملکی تنظیموں یا غیر ملکی امداد سے چلنے والی تنظیموں کو سخت شرائط کی پابندی کرنے پر بھی مجبور کرے گا۔ بیرونِ ملک سے کوئی امداد لینے کی اجازت نہ ہوگی۔ اور تمام غیر سرکاری تنظیموں کو ایک سرکاری تنظیم بطور اسپانسر تلاش کرنا ہوگی۔ اس کے بعد غیر سرکاری تنظیموں کو چین کے عوامی نگرانی کے کڑے نظام کے تحت اندراج کرانا ہوگا۔ یہ نظام اب غیر ملکی حمایت سے چلنے والے پورے طبقے کی نگرانی کرے گا۔

غیر سرکاری تنظیموں کے بہت سے کارکنان کو خدشہ ہے کہ جماعت ’این جی او‘ کی تعریف بدلنا چاہتی ہے تاکہ کسی بھی ایسی تنظیم کو، جسے وہ ناپسند کرے، بآسانی نکال باہر کیا جاسکے۔ بیجنگ میں موجود ایک غیر ملکی کارکن کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون اپنی مجوزہ شکل میں نافذ ہو گیا تو اس کا ایک ’وسیع اور یخ بستہ‘ اثر ہوگا۔ غیر ملکی گروپوں، سفارت کاروں اور تاجروں کی جانب سے قانون کی مخالفت نے پہلے ہی اشارے دے دیے ہیں کہ جماعت اپنے موقف میں تبدیلی لے آئے گی۔

چین میں کم و بیش ایک ہزار غیر ملکی این جی او سرگرم ہیں، جبکہ اس کے علاوہ ہزاروں تنظیمیں ایسی ہیں جو مالی اور دیگر معانت فراہم کرتی ہیں۔ کچھ بڑی تنظیمیں، مثلاً ’’سیو دی چلڈرن‘‘ کئی دہایوں سے سرگرم ہیں اور ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے، مگر کھلم کھلا مزدوروں یا انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے گروپوں کا خیر مقدم نہیں کیا جاتا۔

غیر ملکی پیسہ ایک اہم عنصر ہے، اگرچہ پیسے کے بہاؤ کا بالکل درست تخمینہ لگانا ناممکن ہے۔ تمام حساس مسئلوں، مثلاً قانون کی بالادستی کو فروغ دینا یا امتیازی سلوک کے خلاف پالیسیوں کی حمایت کرنے کے لیے مالی معاونت کا واحد ذریعہ بیرونِ ملک ہے۔ یہی وہ مالی معاونت ہے، جس کا راستہ اشتراکی جماعت بند کرنا چاہتی ہے۔

ابھی تک غیر ملکی اور چینی تنظیموں نے غیر واضح اصولوں کے تحت کام کیا ہے۔ کئی تنظیمیں مندرج نہیں ہیں مگر پھر بھی کام کر رہی ہیں۔ بعض کاروباری اداروں کے طور پر مندرج ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی کرنے کی کوئی خاص اجازت نہیں ہے۔ لیکن ان کا زیادہ تر کام چونکہ غربا اور خستہ حال افراد کے لیے ہے اور اس نے سماجی استحکام کو بڑھانے میں مدد دی ہے، اس لیے انہیں برداشت کیا گیا ہے۔ ورمونٹ کے مڈل بیری کالج کی جیسیکا ٹیٹس کا کہنا ہے کہ غیر واضح اصولوں والا راستہ خطرناک تھا مگر آزادی بھی دیتا تھا۔ آپ بہت کچھ کر گزرتے تھے۔ نئے مجوزہ قانون کا مقصد اسی غیر واضح راستہ سے جان چھڑانا دکھائی دیتا ہے۔

کچھ غیر سرکاری تنظیموں کا باقاعدہ اندراج کرکے یہ قانون پہلی بار ان کو بینک اکاوئنٹ کھولنے اور سرکاری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے گا۔ مگر اس قانون کے نتیجے میں زیادہ قریبی نگرانی ہوگی اور تنظیموں کو صرف سرکاری راستوں کو استعمال کرکے ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ حساس مسائل پر کام کرنے والے کسی بھی گروپ کو ممکنہ طور پر اسپانسر نہیں ملے گا اور اس کو بند ہونے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ قانون میں ’قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے‘ جیسی مبہم اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں جنہیں کسی بھی این جی او کے خلاف اقدام کے لیے بطور جواز استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہانگ کانگ میں چینی لیبر بلیٹن کے شان شائی کا کہنا ہے کہ ’جماعتی راہ نما آپ اپنے پاؤں پر کلہاڑا چلا رہے ہیں‘۔ ان کا موقف ہے کہ پولیس کے پاس ان ہزاروں غیر ملکی گروپوں سے نمٹنے کے لیے ذرائع یا معلومات نہیں ہیں جن کو اندراج کرانے کی ضرورت ہے۔ غالباً جماعت کو اس کی پروا نہیں ہے۔ شن گوائی یونیورسٹی کے این جی او تحقیقی مرکز کی جیا شی جن کا کہنا ہے کہ غربت کے خلاف ہونے والے کام میں خلل ڈالنا، ان گروپوں کے اوپر کنٹرول قائم رکھنے کی ناگزیر قیمت ہے، جنہیں جماعت موجودہ نظام کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

ایک بڑا جال

یہ قانون جس طرح لکھا گیا ہے، اس شکل میں بیرونِ ملک بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ کسی بھی بیرونی غیر منافع بخش تنظیم کو، جس کا چین میں دفتر موجود نہ ہو، وہاں کسی بھی قسم کے پروگرام میں حصہ لینے کے لیے ایک عارضی اجازت نامہ اور ایک سرکاری اسپانسر درکار ہوگا۔ کسی بھی بات یا کام کو بنیاد بنا کر جو بظاہر چین کے خلاف ہو، یونیورسٹی دورے پر آنے والے وفد سے لے کر سازندوں کے طائفے تک، کسی کا بھی داخلہ ممنوع قرار دیا جاسکتا ہے۔ چین میں کام کرنے والی امریکا کی ۴۰ سے زیادہ تجارتی کمپنیوں اور لابی گروپوں، بشمول امریکی چیمبر آف کامرس، نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قانون ان کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امکان ہے کہ جماعت ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ اسے بیرون ملک کاروبار کی پروا ہے۔ مگر اس خواہش کے اظہار میں وہ بے خوف دکھائی دیتی ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کو حکومت کے تابع ہونا چاہیے۔ بیجنگ میں ایک سابق سفارت کار کا کہنا ہے کہ ’’یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمیں آپ کی اقدار کی کچھ بھی ضرورت نہیں، ہم اپنے طور پر چیزوں کو کریں گے‘‘۔ بہت سے چینی حاکم غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو مغربی افکار کے ’ٹروجن ہارسز‘ سمجھتے ہیں۔ عرب بہار، یوکرین میں انقلاب اور گزشتہ سال ہانگ کانگ میں مظاہروں نے ان کے ذہنوں میں موجود شکوک کو تقویت دی ہے۔

صدر شی جن پنگ نے مغربی آزاد خیالی کو فروغ دینے والوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ گزشتہ اکتوبر میں پولیس نے چین کے ایک اصلاح پسند تھنک ٹینک کے سابق سربراہ کو زیرِ حراست لیا۔ جون میں اسی گروپ کے دو کارکنوں کو ’’قانون کی بالادستی‘‘ کے لیے کام کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح کے کئی گروپوں کو نیو یارک کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن سے مالی امداد ملی ہے، جو ایک ارب پتی انسانی ہمدرد جارج سوروز نے بنائی ہے۔ شہری حقوق کے کئی سو وکلا حال ہی میں گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

مذکورہ قانون کے مسودے کے سخت انداز نے بہت سوں کو حیران کیا ہے کیونکہ مقامی این جی اوز کے لیے ہونے والی قانون سازی نرم پڑ رہی تھی۔ ایک نیا خیرات کا قانون منظور ہونے والا ہے جس کا مقصد ذاتی و کاروباری اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے۔ پانچ سالوں میں خیرات کی سالانہ شراکت میں دس گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ ۱۵ء۲ بلین ڈالر تک چلی گئی ہے۔ گزشتہ سال چین نے ماحول کو ان مقامی گروپوں کے لیے کھول دیا، جنہیں وہ غیر سیاسی خیال کرتا تھا۔ اشتراکی جماعت کو معلوم ہو چکا تھا کہ نچلی سطحوں پر اس کی خدمات انجام دینے کی صلاحیت ناکام ہو رہی ہے اور اس نے یہ بھی جانا کہ اس کے خوف کے برعکس اس خلا کو پُر کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں مختلف نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نے ان کی حوصلہ افزائی اور مالی معاونت شروع کی۔ نومولود چینی فاؤنڈیشنوں اور انسانی ہمدرد شخصیات نے بھی ایسا کیا۔ ایک ماحولیاتی این جی او کے بانی موجون کا کہنا ہے کہ سماجی کام کرنے والے گروپ اب بلا اسپانسر بھی مندرج ہو سکتے ہیں۔ بعض دوسرے اب چین کے اندر مالی حمایت بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔

جہاں تک غیر ملکی تنظیموں کا تعلق ہے، اسپانسر کرنے کی مجاز سرکاری تنظیموں کی قلیل تعداد اور اسپانسر کا کردار نبھانے کے بدلے محدود فوائد کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر سیاسی تنظیموں کو بھی اسپانسر تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی۔ ہو سکتا ہے جو تنظیمیں خطرناک تصور نہ کی جائیں، انہیں بدستور خاموشی سے کام کرنے دیا جائے۔ جولائی کے اواخر میں عوامی سلامتی کے وزیر گوشانگ کان نے دعویٰ کیا کہ چین غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیوں کی حمایت کرتا ہے، اگر وہ ’دوستانہ تبادلے اور تعاون‘ کر رہی ہوں۔

مجوزہ قانون پر کام اشتراکی جماعت کی گزشتہ سال ہونے والے ایک اجلاس کے بعد شروع ہوا، جس میں اس بات کا چرچا ہوا تھا کہ چین کو ’’فزہی‘‘ (جس کا ترجمہ قانون کی بالادستی کیا جاتا ہے) کے مطابق کیسے چلایا جائے۔ مگر مس جیا نے نشاندہی کی ہے کہ ’’فزہی‘‘ سے مراد اس طرح قانون کی بالادستی نہیں جیسے مغرب میں اس سے مراد لی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ “Low based governance” ہونا چاہیے، یعنی قانون کے ہتھیار کو استعمال کر کے امن و امان قائم رکھنا۔

نیا قانون ضروری نہیں کہ حُرف بہ حُرف نافذالعمل ہو جائے۔ انٹرنیٹ کی طرح، اشتراکی جماعت این جی او کے شعبے کو بھی پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے، مگر اپنی شرائط پر۔ وہ سول سوسائٹی کی زبان استعمال کر کے دنیا کو یقین دلائے گی کہ یہ تصور چین میں بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن کوئی بھی شخص جو صحیح معنوں میں آزادی کے لیے دباؤ ڈالے، برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بتدریج اصلاح ممکن ہے، مگر بالآخر کنٹرول ہی سب کچھ ہے۔

(ترجمہ: طاہرہ فردوس)

“Non-governmental organisations: Uncivil society”. (“The Economist”. August 22, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*