Abd Add
 

متحدہ یورپ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا؟

متحدہ یورپ یا یونائیٹڈ یورپین اسٹیٹس ایک ایسا تصور ہے جو بیسویں صدی کی کئی دہائیوں سے یورپین سیاست دانوںکا ہدف رہا ہے۔ ایک لحاظ سے اسے امریکہ کے دیئے گئے نعرے نیو ورلڈ آرڈر کا متوازی کہا جاسکتاہے۔ اس تصور کی ابتداء فرانس اور جرمنی میں ہوئی اور موجودہ فرانسیسی صدر ژاک شیراک اور جرمن چانسلر گرہارڈ شروڈر نے اسے آگے بڑھانے اور اس کی عملی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یورپی یونین کا قیام (E.U.) دراصل اس مفروضہ پر عمل میں آیا تھا کہ مجموعی طور پر یورپ زوال پذیر ہورہا ہے اور اس کی مخصوص تہذیب و شناخت (جس پر مسیحیت کی گہری چھاپ ہے) اینگلو سیکسن تہذیب سے شدید طور پر متاثر ہورہی ہے، موخر الذکر کے بنیادی نمائندے انگلینڈ اور امریکہ ہیں۔ یہودیت نیز یہودیت کی حلیف مسیحیت نے اس کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور آج یہی مغربی تہذیب (یہودی و پروٹسٹنٹ) دنیا کی غالب تہذیب ہے، امریکہ اس کا مخصوص تہذیبی نمائندہ ہے۔ جس کی ثقافتی یلغار دنیا بھر پر ہورہی ہے۔ جن یورپین مفکروںاور سیاست دانوں کو اپنی الگ شناخت پر اصرار تھا، انہوںنے یورپ کے بڑھتے زوال اور ہر میدان میں امریکہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے یورپی یونین کے تصورکو بڑھاوا دیا۔ فرانس ماضی میں ایک بڑی قوت رہا ہے، فرانسیسی اپنی زبان اور تہذیبی شناخت کے حوالہ سے بہت زیادہ حساس ہیں۔ انہوںنے امریکی ثقافتی یلغار کو اپنی قومیت کے لئے خطرہ سمجھ کر اس کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کرلیا۔ یورپی مشترکہ منڈی اور پھر اس کے آگے بڑھ کر مشترکہ کرنسی ’’یورو‘‘ کے تجربات کئے گئے۔ یورو نے ڈالر کو پیٹ دیا۔ پھر یورپی یونین کی سرحدوںمیں توسیع کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ممبر ملکوں میں ویزہ وغیرہ میں سختیاں ختم کی گئیں۔ ایک دوسرے کی سرحدیں قانونی طور پر کھول دی گئیں اور یورپی یونین کامشترکہ دستور بنانے اور اس کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعہ منظورکرانے کے لئے کارروائیاں شروع کی گئیں۔ تاہم اب تک کامیابی سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے سفر میںیورپی یونین کو اس ریفرنڈم میں زبردست دھکا لگا ہے۔ اتنا زبردست شاک کہ شروڈر اور ژاک شیراک حیران و ششدر ہیں۔ ہالینڈ، فرانس اورجرمنی کی اکثریت نے اپنے ریفرنڈم میں یونین کے اس دستور کو مکمل طور پر مستر کردیا۔ انگلینڈ اور دوسرے کئی ملکوں نے اپنے ہاں ریفرنڈم کرانے سے انکار کردیا۔ اب دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں یورپی یونین کے مستقبل کو لے کر بحث شروع ہوگئی ہے۔ یورو تیزی سے گر رہا ہے اور اس زبردست داخلی بحران سے نمٹنے کے لئے ژاک شیراک اپنے کو بے دست و پا محسوس کررہے ہیں۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ میں داخلی بحران پیدا کرکے یورپین قوموں کو باہم لڑوانے سے ایک مخصوص قوم کو خاص دلچسپی رہی ہے۔ چنانچہ یہودیوں اور ان کے حلیفوں نے ہمیشہ ہی ایک متحدہ یورپ کے تصور کی شدید مخالفت کی ہے۔ آج بھی یورپی یونین سے امریکہ اور اس کے اتحادی مختلف امور پر شدید اختلافات رکھتے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی امریکہ کی دادا گیری اور عالمی دراوغۂ پنے کی مجنونانہ پالیسیوں سے اپنا اختلاف ڈھکا چھپا نہیں رکھا۔ چنانچہ عراق پر امریکی حملے کی مخالفت یورپی یونین برابر کرتی آرہی ہے اور یو این او میں عراق فلسطین و ایران وغیرہ سے متعلق مختلف امریکی پالیسیوں سے اپنا کھلا اختلاف فرانس اور جرمنی طاہر کرتے رہے ہیں۔ یورپی یونین میں جو تازہ بحران پیدا ہوا ہے اس کے پیچھے غالباً یہی حکمت عملی کام کررہی ہے کہ بحرانوں کی دلدل میں پھنس کر یورپی اقوام متحدہ محاذ کے خواب کو شرمندئہ تکمیل نہ کرسکیں۔ کیونکہ اس سے ان کے (صہیونیت کے حامیوں امریکہ وغیرہ) طویل مدتی منصوبوں اور مفادات کو زک پہنچے گی۔

بتایا جاتاہے کہ یورپ کے عوام کی اپنی قیادت سے زبردست ناراضگی اوریورپی یونین کے تصور سے مایوسی دراصل گلوبلائزیشن، کھلی مارکیٹ اور لبرل معاشی پالیسیوں کی پیدا کردہ ہے۔ جن کی وجہ سے مختلف ملکوں میں مہنگائی بڑھی، بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا اور یونین کے ذریعہ اچھے معیار زندگی، روزگارکی فراہمی، بہتر معیشت کے جو خواب دکھائے گئے تھے، وہ سراب ثابت ہوئے۔ کھلے بازارکی معیشت پر جن لوگوںکی اجارہ داری ہے، وہ بھی یورپی یونین سے نہیں بلکہ اس کے مخالف کیمپ سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر 80 کی دہائی میں وہ ایک جھٹکے میں ایشین ٹائیگرز (انڈونیشیا، ملائیشیا) کو معاشی طور پر تہہ و بالا کرسکتے تھے تو ایسا حربہ یورپی یونین کے خلاف اپنانے سے انہیں کون روک سکتا تھا۔ کل ملا کر اگر دیکھا جائے تو یہ صاف عیاںہے کہ یورپی یونین امریکہ کی طرح ایک عالمی سپر پاور بن کر سامنے آئے، یہ تصور عالمی یہودیت کو ہضم نہیں ہوتا، کیونکہ اس سے کیتھولک دنیا کے یہودیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بطور خاص اس صورت میں کہ موجودہ یورپ میں یہودیوں اور تارکین وطن (جن میں ایک بڑی تعدادمسلمانوں کی ہے) کے خلاف انتہاء پسندانہ مسیحی رجحانات ابھر رہے ہیں۔

حالیہ بحران سے نمٹنے کے لئے جلد ہی یورپی یونین کے لیڈروںکی کانفرنس ہونے والی ہے۔ جس میں اس بحران اور اس سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے پر غور کیا جائے گا اور یورپی یونین کی مستقبل کی پالیسی پر تبادلہ ٔ خیال کے ذریعے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘۔ دہلی۔ شمارہ۔ ۷ جولائی ۲۰۰۵ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*