امریکا میں ’’عیسائی‘‘ کم ہورہے ہیں!

’’پیو‘‘ تحقیقی مرکز کا ایک جائزہ

Five million fewer Americans identify as Christian now compared with 2007

ایک حالیہ جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا میں خود کو عیسائی ظاہر کرنے والوں کی تعداد میں محض سات برسوں کے دوران تقریباً ۸ فیصد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔ پیو تحقیقی مرکز (Pew Research Center) کے مطابق ۲۰۰۷ء میں ۷۸ فیصد امریکیوں نے خود کو عیسائی ظاہر کیا، لیکن ۲۰۱۴ء میں یہ شرح کم ہوکر ۷۱ فیصد رہ گئی۔ اسی عرصے کے دوران خود کو لادین کہنے والے امریکیوں کی شرح ۱۶؍فیصد سے بڑھ کر ۲۳ فیصد ہوگئی ہے۔ امریکا کے ۵۶ لاکھ شہری کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے اور یہ انجیلی مسیحیوں (Evangelicals) کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

اب بھی امریکا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ عیسائی رہتے ہیں اور ہر دس میں سے سات امریکی عیسائیت کے کسی نہ کسی فرقے کے پیروکار ہیں۔ پیو نے ۲۰۰۷ء اور پھر ۲۰۱۴ء میں ’’مذہبی منظرنامے کے مطالعے‘‘ کے دوران ہر دفعہ ۳۵ ہزار افراد کی رائے لی۔ پیو کے محققین کہتے ہیں کہ تعداد میں اس کمی کی بنیادی وجہ لبرل پروٹسٹنٹ اور کیتھولِک فرقوں کے ماننے والوں کا کم ہونا ہے اور یہ کمی امریکا کے تمام حصوں اور ہر طرح کی آبادیوں میں رہنے والے ہر عمر کے افراد میں ہوئی۔

۲۰۰۷ء میں ہونے والی تحقیق کے دوران خود کو عیسائی کہنے والے امریکیوں میں سے اب ۵۰ لاکھ افراد کم ہوگئے ہیں۔ ملک کے جنوبی حصوں میں لادین افراد آبادی کا ۱۹؍فیصد جبکہ شمال مشرق میں ۲۵ فیصد ہیں۔ مغربی حصے میں لادین افراد ۲۸ فیصد ہیں اور یہ تعداد وہاں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں سے زیادہ ہے۔

پیو کے ایسوسی ایٹ ریسرچ ڈائریکٹر گریگ اسمتھ نے کہا کہ تحقیقات محض یہ اجاگر نہیں کرتیں کہ لوگ اپنے بارے میں کیا بیان کرتے ہیں بلکہ یہ مذہب سے بیزار افراد میں پیدا ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ ۲۰۰۷ء کے بعد سے غیر مذہبی امریکیوں نے خود کو خاصا منظم کیا ہے اور مذہب کو عوامی زندگی سے باہر رکھنے کی خاطر سیاسی گروہ بھی بنالیے ہیں۔

سیکولر اتحاد برائے امریکا (Secular Coalition for America) سے وابستہ کیلی ڈیمرو (Kelly Damerow) نے بی بی سی کو بتایا کہ پیو کی تحقیقات نے ’’اُس نشونما کو اعتبار بخشا ہے جو ہم نے اپنی برادری میں دیکھی ہے اور ظاہر کیا ہے کہ ہم بااثر سیاسی قوت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔

امریکا میں ۷۰ء۶ فیصد شہری خود کو عیسائی کہتے ہیں جن میں سے ۴۶ء۵ فیصد پروٹسٹنٹ، ۲۵ء۴ فیصد انجیلی عیسائی، ۲۰ء۸ فیصد کیتھولِک، ۱۴ء۷؍فیصد آزاد خیال  ۱ء۶؍فیصد مورمَن، ۰ء۸ فیصد گواہانِ یہوہ (Jehovah’s Witness) ہیں جبکہ ۰ء۴ فیصد خود کو دیگر مسیحیوں میں شمار کرتے ہیں۔

(مترجم: حارث رقیب عظیمی)

“US Christians numbers ‘decline sharply’, poll finds”. (“bbc.com”. May 12, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*