Abd Add
 

افغانستان سے انخلا میں امریکی عجلت!

امریکا نے دس سال سے بھی زائد مدت سے افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب اس کی ہمت جواب دے گئی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور افغان سرزمین سے پنڈ چھڑانا چاہتا ہے۔ یکم فروری کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس سے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک ایسا بیان داغا جس نے بم ہی گرادیا۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا کی جو حتمی تاریخ مقرر کی ہے اس میں ڈیڑھ سال کی کمی کی جارہی ہے یعنی اب امریکی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر کے بجائے ۲۰۱۳ء کے وسط تک نکال لیا جائے گا۔ سابق ڈیڈ لائن پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ۲۰۱۰ء میں نیٹو سربراہ اجلاس میں طے پائی تھی۔ لیون پنیٹا نے افغانستان سے انخلا کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اور جو اندازہ قائم کیا ہے وہ بہت حد تک امریکی صدارتی انتخابات سے مطابقت رکھتا ہے، زمینی حقائق سے نہیں۔ افغانستان کی صورت حال اس وقت انخلا کی بات کے حوالے سے انتہائی ناموزوں ہے۔ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا امریکی انتظامیہ کے وعدوں یا دعووں سے کوئی تعلق نہیں۔

لیون پنیٹا نے ڈیڈ لائن سے ڈیڑھ سال قبل اتحادیوں کو افغانستان سے باہر نکالنے کی بات کر تو دی مگر جب میڈیا والوں نے ان پر سوالوں کی بوچھار کی تو انہوں نے آئیں بائیں شائیں کرتے ہوئے بات بنانے کی کوشش کی اور یہ بھی کہا کہ لزبن میں طے پانے والی ڈیڈ لائن حقیقت پسندی پر مبنی ہے تاہم کوشش یہ کی جائے گی کہ اس سے قبل ہی اتحادی افواج افغانستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹ لیں۔ اس بیان کی روشنی میں زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ امریکی اور دیگر مغربی افواج آئندہ سال کے وسط تک افغانستان سے انخلا کا عمل شروع کردیں گی۔ پنیٹا کو اچھی طرح اندازہ ہوگا کہ افغانستان میں موجود ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد اتحادی فوجی اور ان کی حکومتیں امریکا کی جانب سے ڈیڈ لائن میں ڈیڑھ سال کی کٹوتی سے غیر معمولی مسرت محسوس کریں گی اور ان کی کوشش ہوگی کہ افغانستان سے جلد از جلد جان چھڑالیں۔

کسی کے ذہن میں اس حوالے سے اب کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ افغان جنگ مغربی حکومتوں کے حلق میں ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے۔ مغرب میں یہ تاثر عام ہے کہ ایک بے مصرف جنگ کی بھٹی میں قیمتی وسائل جھونکے جارہے ہیں۔ امریکی ٹیکس دہندگان کا کہنا ہے کہ انہیں ہر سال افغان جنگ کے لیے تقریباً ۱۱۹؍ ارب ڈالر کی قربانی دینا پڑ رہی ہے جبکہ اس جنگ سے کوئی حقیقی فائدہ بھی نہیں پہنچ رہا۔ کئی حکومتوں پر اس لاحاصل جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ ہے۔ کئی حکومتیں اس جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث زیر و زبر ہوئی ہیں۔ امریکا میں لوگ اب یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ امریکا نے افغانستان میں دس سال تک جو جنگ لڑی ہے اس کا حاصل کیا ہے۔ جس قدر بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کیے گئے ہیں اس کی روشنی میں اس جنگ کے نتائج خاصے غیر متاثر کن رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک (متنازع) آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے اب تک جو کچھ ہوا ہے اس کے بارے میں بھی سوالیہ نشان پایا جاتا ہے۔ افغانستان میں امریکی اور دیگر اتحادی فوجیوں کو افغان فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے خطرے کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ ایک افغان فوجی کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت نے صورت حال کو واضح کردیا ہے۔ اس کے بعد ایک امریکی میرین کو بھی افغان فوجی نے دنیا سے رخصت کیا۔ امریکی اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد امریکی سلامتی کو کون سا ایسا خطرہ لاحق ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر خرچ کے ذریعے ایک لاحاصل جنگ جاری رکھی جائے؟

لیون پنیٹا نے مغرب میں امریکی ساتھیوں کے حوصلوں کو یہ کہتے ہوئے مزید پست کردیا کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت امریکی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کی تعداد کو تین لاکھ پانچ ہزار سے ساڑھے تین لاکھ کرنا انتہائی دشوار ہے اور اس کے لیے لازم ہے کہ افغان جنگ میں غیر عسکری کردار ادا کرنے والے ممالک (جاپان، جنوبی کوریا، عرب دنیا وغیرہ) فیاضی کا مظاہرہ کریں اور مالی وسائل میں اضافہ کریں۔ انہوں نے واضح کردیا کہ فنڈنگ ہی سے طے ہوگا کہ افغانستان میں مستقبل کی فورسز کس نوعیت کی ہوں گی۔

مغربی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر تک نکالنے کی ڈیڈ لائن اگرچہ مشکل تھی اور اس حوالے سے متعلقہ حکومتوں پر شدید دباؤ تھا مگر اس میں حقیقت پسندی زیادہ تھی۔ تمام متعلقہ حکومتوں کو یقین تھا کہ تب تک افغانستان فورسز کو اس قابل بنادیا جائے گا کہ مغربی افواج کے جانے کے بعد ملک کو بہتر طور پر سنبھال سکیں۔ تھوڑی تاخیر ہی سے سہی، مگر ملک کا نظم و نسق درست ہاتھوں میں دیے جانے کی توقع تھی۔ یہ سب کچھ طے شدہ معاملات تھے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ذمہ داری تھی کہ افغانستان سے رخصت ہوتے وقت اس کی سلامتی اور بہتر سیاسی نظام کی راہ ہموار کرتے۔ مغربی اتحادیوں نے طے کیا تھا کہ آئندہ دو برسوں کے دوران افغان نیشنل آرمی کو طالبان کے سامنے ایک مضبوط دیوار کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔ نیٹو افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے حال ہی میں کہا تھا کہ افغان فوج طالبان کو ہرانے والا میکینزم ہے۔

ایک طرف ڈیڈ لائن میں کمی اور دوسری طرف افغان سیکورٹی افواج اور پولیس کی مجوزہ تعداد میں کمی سے افغانستان میں حقیقی استحکام اور امن کے امکانات محدود رہ جائیں گے۔ جو کچھ طے کیا جاچکا ہے وہ بہتر انداز سے نہیں ہو پائے گا۔ انخلا کے عمل کو غیر فطری انداز سے تیز کرنا بہت کچھ داؤ پر لگا دے گا۔ اس بات کو اتحادی بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ ہلمند اور قندھار میں صورت حال تیزی سے خراب ہوسکتی ہے۔ ان دو صوبوں میں صورت حال بہت مشکل سے قابو میں کی جاسکی ہے۔ پنیٹا کے بیان سے قبل جنرل جان ایلن کا کام مشکل ضرور تھا مگر ممکن دکھائی دیتا تھا۔ اب ان کے لیے مشکلات دوچند ہوگئی ہیں اور معاملات ناممکن کی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔

امریکا نے حال ہی میں طالبان قیادت سے مذاکرات میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر تیزی سے انخلا کیا گیا تو یہ کامیابی داؤ پر لگ جائے گی۔ نیٹو نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں اب بھی چار ہزار سے زائد عسکریت پسند مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ پاکستان ان عسکریت پسندوں کو متحرک رکھ کر اپنے تزویراتی مفادات کی تکمیل پر ضرور توجہ دے گا۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ بیشتر افغان امن چاہتے ہیں۔ چند ہی ایسے ہیں جو طالبان کو دوبارہ اقتدار میں دیکھنے کے خواہش مند ہوں گے۔ طالبان قیادت اب اپنے مقاصد کے حوالے سے زیادہ پرعزم نہیں۔ لیون پنیٹا نے جو کچھ کہا ہے وہ یقینی طور پر امریکی رائے عامہ کو رجھانے کے لیے ہے مگر اس سے طالبان کو بھی نئی قوت ملے گی۔ اگر انخلا طے شدہ منصوبے کے مطابق ہو تو بہتر ہے۔ ایسی صورت میں سب کچھ اپنے وقت پر ہوگا۔ اور یوں طالبان کے اعتماد میں غیر ضروری طور پر اضافہ بھی نہیں ہوگا۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۴ فروری ۲۰۱۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*