وندے ماترم تنازعہ

عقیدت یا سیاست

ارجن سنگھ نے وندے ماترم کا سرکلر جاری کرنے اور اس وضاحت کے بعد کہ ’اسے پڑھنا سب کے لیے لازمی نہیں ہے‘ ایک طرح سے دیوار پر شیرہ لگانے کا کام کیا ہے۔ اب ایک جانب دایاں محاذ ہے تو دوسری جانب بایاں محاذ‘ اور دونوں اس مسئلے پر برسرِ پیکار۔ کانگریس دور کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہے۔ دراصل یہ کانگریس کی پرانی فطرت ہے‘ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہندو مسلم تنازعات کے سب بیج کانگریس نے ہی بوئے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ بات صاف کہہ دینی چاہیے کہ وہ وطن پرست نہیں‘ محب وطن ہیں۔ لہٰذا وندے ماترم پر اصرار کرنے والوں کو ’’پہلے وطن پرست‘‘ اور ’’محب وطن‘‘ کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔

جنگِ آزادی کی پہلی لڑائی یعنی ۱۸۵۷ء کے ۱۵۰ سال مکمل ہونے پر مرکزی حکومت نے متنازعہ ناول ’’آنند مٹھ‘‘ میں شامل ایک نظم کا‘ جسے بعد میں قومی گیت کا درجہ دیا گیا‘ صد سالہ جشن منانے کی تیاریوں پر ایک سرکلر جاری کر کے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ واضح رہے وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ارجن سنگھ نے سبھی ریاستوں کے وزراے اعلیٰ کو ایک خط لکھ کہ ۷ ستمبر کو تمام تعلیمی اداروں میں وندے ماترم پڑھے جانے کا اہتمام کرائیں جس پر مسلم حلقوں نے زبردست اعتراض کیا۔ ارجن سنگھ کو مسلمانوں کی ناراضی کا احساس تو ہوا مگر تب تک شاید دیر ہو چکی تھی کیونکہ ان کی اس وضاحت کے بعد کہ ’وندے ماترم گانا لازمی نہیں ہے‘ بی جے پی کے لیڈروں نے اسے اُچک لیا اور انہیں بیٹھے بٹھائے ایک ایسا موضوع مل گیا جس کے لیے وہ یقیناً ارجن سنگھ اور کانگریس کے احسان مند رہیں گے۔ ویسے بھی ان دنوں بی جے پی اپنے اندرونی اختلافات کا شکار تھی اور اسے ایک ایسے ایجنڈے کی سخت ضرورت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے فرقہ پرستانہ ایجنڈے پر چلتے ہوئے اتر پردیش انتخابات کی تیاریاں شروع کر سکے۔ دراصل وندے ماترم کا معاملہ بھی ہندوستان میں بڑے جانوروں کے ذبیحہ اور یکساں سول کوڈ جیسا ہی ہے جسے بی جے پی صرف مسلمانوں کا معاملہ سمجھتے ہوئے حملہ آور ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نظم پر اعتراض دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی ہے کیونکہ اسے پڑھنے یا گنگنانے سے سبھی کے عقیدوں پر ضرب پڑتی ہے۔ پارلیمنٹ میں دیکھا گیا کہ اسے لازمی قرار دیے جانے کے بی جے پی کے مطالبے کی نہ صرف بایاں محاذ بلکہ سماج وادی‘ بی ایس پی‘ آر جے ڈی‘ ڈی ایم کے‘ تلگودیشم اور دیگر علاقائی پارٹیوں کے ساتھ مسلمانوں کو خوش کرنے کی خاطر ہی سہی‘ کانگریس کے کچھ حلقوں نے بھی اس کی مخالفت کی۔

وندے ماترم کیا ہے؟

وندے ماترم ایک بنگالی شاعر و ادیب بنکم چندر چٹرجی کی ۱۸۷۶ء میں لکھی نظم ہے۔ نظم میں ملک کو ایک دیوی خیال کرتے ہوئے جہاں اس کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے‘ وہیں اس کی پرستش کرتے ہوئے اسے ’درگا‘ اور ’کالی‘ قرا ردیا گیا ہے اور دشمن کو نیست و نابود کرنے کے عزائم بھی ظاہر کر دیے گئے ہیں۔ اپنے مشمولات کے لحاظ سے بنکم چندر چٹرجی کی یہ نظم یوں بھی خالص مذہبی حیثیت کی حامل ہے جسے دیگر مذاہب کے لوگ کسی بھی صورت میں نہیں پڑھ سکتے اور اگر اس کے پس منظر کی مناسبت سے بات کی جائے تو مذکورہ نظم سے نہ صرف فرقہ پرستی بلکہ وطن دشمنی کی بھی بو آتی ہے۔

یہ نظم ۱۸۷۶ء میں ضرور لکھی گئی تھی مگر ابتدائی ۶ برسوں تک گمنامی میں پڑی رہی۔ اس نظم کو شہرت اس وقت ملی جب مغل حکمرانوں سے ہندوؤں کی جنگ کے موضوع پر بنکم چندر چٹرجی نے اپنا ناول ’آنند مٹھ‘ لکھا اور اس میں اس نظم کو شامل کیا۔ مذکورہ ناول فرضی کرداروں پر مشتمل ہے‘ جس کا مرکزی کردار بھوانندہ نامی ایک برہمن سنیاسی ہے جو ہندوؤں کو مغل حکمراں کے خلاف اکساتا ہے۔ مذکورہ ناول فرقہ پرستی سے پوری طرح لبریز ہے‘ جس کا ثبوت اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے‘ جس میں بھوانندہ ایک دوسرے کردار سے‘ جس کا نام مہندر ہے‘ کہتا ہے کہ ’’ہمارامذہب‘ ہماری ذات‘ ہمارا وقار خطرے میں ہے اور جب تک اس ملک میں مسلمان رہیں گے‘ ہم کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکیں گے‘‘۔ مہندر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا تم تنہا مقابلہ کرو گے؟ بھوانندہ کہتا ہے کہ ’’جب تین کروڑ آوازیں بلند ہوں گی اور ۶ کروڑ بازوؤں میں لہراتی تلواریں ہوں گی تو کیا تب بھی میری ماتا کمزور ہو گی‘‘۔ مہندر کو تب بھی اطمینان نہیں ہوتا تو وہ اسے لے کر آنند مٹھ مندر جاتا ہے‘ جہاں درگا اور کالی کی مورتیوں کے سامنے اس کے جذبات برانگیختہ کرتا اور جوش دلاتا ہے۔ اسی ناول کے ایک اور منظر میں ہندوؤں کو مسلمانوں کا قتلِ عام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو بندے (وندے) ماترم کا نعرہ لگاتے ہوئے آپس میں سوال کرتے ہیں کہ ’’وہ دن کب آئے گا جب ہم مسجدوں کو مسمار کرتے ہوئے ان مقامات پر مندر تعمیر کرنے میں کامیاب ہوں گے؟‘‘ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مذکورہ نظم کو جذبۂ حریت سے سرشار ایک تحریک کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے‘ جبکہ بنکم چندر چٹرجی کے کردار برہمن سنیاسی بھوانندہ نے اس ناول میں انگریز حکمرانوں کا استقبال کیا ہے۔ بھوانندہ اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ ’’اب ہمارے جان و مال کو امان ملے گی کیونکہ مغل حکمرانوں کی جگہ پر انگریز آگئے ہیں‘‘۔ علاوہ ازیں بذاتِ خود بنکم چٹرجی انگریز حکمرانوں کے وفادار تھے اور انگریزی حکومت میں ڈپٹی کلکٹر اور ڈپٹی مجسٹریٹ کے عہدے پر کام کرتے ہوئے ۱۸۹۴ء میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

کانگریسی سازش

بنکم چندر چٹرجی کی حیات میں آنند مٹھ اور اس میں شامل نظم وندے ماترم کو کبھی تحریک آزادی سے نہیں جوڑا گیا اور بہت ممکن ہے کہ انہوں نے خود اس کے لیے منع کیا ہو‘ کیونکہ وہ انگریزی حکومت میں ایک ملازم تھے۔ ۱۸۹۶ء میں پتا نہیں کیسے کانگریس کو اس طرح کا الہام ہوا کہ مذکورہ نظم میں دیش بھگتی کی بات کی گئی ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق اسی سال کلکتہ میں منعقدہ کانگریس کے اجلاس میں پہلی مرتبہ رابندر ناتھ ٹیگور نے اسے پڑھا اور اس کے دس سال بعد بنارس کے اجلاس میں سرلا دیوی چودھرانی نے اسے ترنم سے گایا۔ تاہم اس نظم کو قومی اہمیت کا حامل اس وقت تسلیم کیا گیا جب لالہ لجپت رائے نے ’’وندے ماترم‘‘ نامی ایک جریدہ جاری کیا۔ کانگریس کا یہ کہنا بالکل جھوٹ پر مبنی ہے کہ اسے اتفاق رائے سے کانگریس کے اجلاس میں گایا جاتا رہا ہے‘ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ صرف مسلمانوں نے ہی نہیں دیگر انصاف پسند لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اور کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کانگریس اجلاس میں اس نظم کو سب سے پہلے رابندر ناتھ ٹیگور نے ہی آواز دی تھی اور اس کا دھن بھی بنایا تھا مگر جب اس نظم کو قومیت کی علامت بنا کر پیش کیا جانے لگا تو انہوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ۱۹۳۷ء میں سبھاش چندر بوس کو ایک خط بھی لکھا کہ ’’وندے ماترم کا بنیادی عقیدہ دیوی درگا کی پرستش ہے اور یہ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی قسم کی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بیشک بنکم نے درگا کو متحدہ بنگال کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے مگر کسی مسلم سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ حب الوطنی کے نام پر دس ہاتھوں والی درگا کی عبادت کرے‘‘۔ (بحوالہ: رابندر ناتھ کے منتخبہ خطوط‘ مطبوعہ کیمبریج یونیورسٹی)۔ رابندر ناتھ کی اس وضاحت کے بعد کانگریس کے مسلم اراکین نے شدید مخالفت کی جس کی وجہ سے ۲۶ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو ہنگامی طور پر کانگریس ورکنگ کمیٹی کا ایک اجلاس طلب کیا گیا۔ اس میں مسلمانوں کے اعتراض کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ وندے ماترم کے ابتدائی ’دوبند‘ ہی گائے جائیں‘ جس میں ملک کی شان میں قصیدے کہے گئے ہیں۔ مذکورہ اجلاس میں آخری دو بند کی مخالفت جواہر لال نہرو نے بھی کی تھی۔

مگر مسلمانوں کے ساتھ کانگریس کی آنکھ مچولی اس کا پرانا وطیرہ رہا ہے۔ لہٰذا تقسیمِ ہند کے بعد متنازعہ نظم کو نہ صرف قومی نظم تسلیم کر لیا گیا بلکہ اس میں ’دو بند‘ کی وہ شرط بھی ہٹا لی گئی اور اس کے بعد سے آج تک ایسا ہی ہو رہا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ارجن سنگھ نے یہ حرکت قصداً نہ کی ہو‘ مگر چونکہ انہوں نے اپنی عمر عزیز کا ایک طویل عرصہ کانگریس کی تربیت میں گزارا ہے لہٰذا اس طرح کی ’’غلطیاں‘‘ ان سے بعید بھی نہیں ہیں۔

وندے ماترم اور مسلمان

مسلمانوں کو دیگر برادرانِ وطن کے ساتھ حکومتوں سے بھی یہ بات صاف کہہ دینی چاہیے کہ ہم وطن پرست نہیں ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں مگر ہماری حب الوطنی مسلّم ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جہاں تک وندے ماترم کا معاملہ ہے اسے قومی درجہ ضرور دیا گیا ہے مگر دستور میں ایسی کوئی شق شامل نہیں ہے کہ اسے پڑھنا تمام ہندوستانیوں پر لازم ہو اور ایسا ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ مسلمان جبراً یا برضا ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے جو شرک کے زمرے میں آتا ہو۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس نظم کے تقدس کی بات یوں بھی کی جارہی ہے کہ مجاہدین آزادی کے ایک طبقے نے انگریزوں کے خلاف جنگ میں اسے بطور نعرہ استعمال کیا تھا‘ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جنگ آزادی کی تحریک میں صرف وندے ماترم کا نعرہ ہی نہیں لگایا گیا اور صرف یہی نظم نہیں پڑھی گئی بلکہ ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے بھی لگتے تھے اور بطور ترانہ ’سارے جہاں سے اچھا‘ کی مقبولیت سب سے زیادہ تھی۔ اس کے باوجود اگر کچھ طاقتوں کی جانب سے اس بات پر اصرار کیا جاتا ہے کہ ’ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم گانا ہو گا‘ تو اِن طاقتوں کو چیلنج کر دینا چاہیے کہ وہ ایسا کوئی دستور منظور کروالیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس دن جب اسے لازمی قرار دیے جانے کا بل پیش ہو گا‘ وہ طبقے سامنے آجائیں گے جنہیں اس پر اعتراض ہے۔ البتہ اس دوران ہم اپنی آنکھیں ضرور کھلی رکھیں تاکہ دیکھ سکیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس کی حمایت میں ووٹ دیتے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’انقلاب‘‘ ممبئی)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*