Abd Add
 

پانی کی قلت۔۔۔ ایک عالمی مسئلہ

دریائی علم کے ماہر Yutaka Takahasi جاپان کے River Engineering کے ایک بڑے ماہر ہیں۔ یہ ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۶ء UNESCO کے International Hydrological Programme (IHP) میں جاپان کے نمائندہ رہے ہیں اور ۱۹۹۶ء تا ۲۰۰۳ء World Water Council کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی رہے ہیں۔ “Asia Pacific” مئی ۲۰۰۵ء کے شمارے میں ان کا انٹرویو شائع ہوا ہے‘ جس کا ترجمہ یہاں دیا جارہا ہے۔

کہا جاتا ہے ہے کہ کوئی بھی کرۂ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نہیں مررہا مگریہ محض پانی ہے جس کی وجہ سے کافی زیادہ اموات واقع ہوچکی ہیں۔ پانی اب ترجیحی عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

قلتِ آب اور آلودگی اب دنیا بھر میں ۴۰ لاکھ سالانہ اموات کا سبب ہے‘ یعنی ہر آٹھویں سیکنڈ میں ایک فرد۔ شکار ہونے والوں میں اکثریت پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہے جس کا تعلق افریقا اور ایشیا کے ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ دنیا کی چھ ارب آبادی میں سے ایک ارب بیس کروڑ کو صاف اور محفوظ پانی میسر نہیں ہے یہ لوگ اپنی روز مرہ کی ضروریات کے لئے آلودہ پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں اور تقریباً نصف آبادی کو اندرونِ خانہ فراغت گاہیں میسر نہیں ہیں وہ دریا‘ جھیلوں یا جھاڑیوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

صحت و صفائی کی ناقص صورتحال سے دوچار ان ترقی پذیر ممالک میں جس طرح آبادی میں اضافہ تیزی سے ہورہا ہے اسی طرح پیدائش اور موت کی بلند شرح ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں یہ محض اس وجہ سے ہے کہ لوگ صاف پانی کے حصول میں ناکام ہیں اور انسانی فضلہ ٹھیک طریقہ سے ٹھکانے نہیں لگایا جاتا۔ پانی جو انسانی فضلہ کے سبب آلودہ ہوتا ہے خوردنی خلیے لیے بہت ضرر رساں ہوتا ہے۔ آلودگی کے دیگر ذرائع میں کیمیائی کھاد‘ جراثیم کش ادویات‘ بھاری دھاتیں‘ تیل اور کاشتکاری کے لئے زائد از ضرورت پانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیز نمکیات شامل ہیں۔ صورتحال مزید گمبھیر ہوجاتی ہے جب مشینوں کے بل پر زراعت کاتذکرہ کیا جائے جس کا ہدف کثیر پیداوار ہے اور جو کیمیائی کھاد اور دیگر زرعی ادویات پر منحصر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اناج تو بہت اُگ جاتا ہے مگریہ زمین اور زیرزمین پانی کو آلودہ کردیتا ہے اور نتیجتاً ایسے پانی کی دستیابی کو کم کردیتا ہے جو اطمینان سے پیا جاسکے۔ بعد از خرابی بسیار مشینوں کے بل پر زراعت ایک ایسا لگا بندھا طریقہ کار طے کردیتی ہے کہ جو کسان مقابلہ سے باہر ہوجاتے ہیں وہ دیہاتوں سے بڑے قصبات یا شہروں میں منتقل ہوکر اپنی اسی بودوباش کو جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں اور نتیجتاً ماحول میں آلودگی کو بڑھاتے ہیں۔

پانی کی مجموعی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ سینہ زمین پر اور زیرزمین پانی کے ذخائر گھٹتے جارہے ہیں اور دونوں کی آلودگی کے ساتھ سمجھوتہ کی سی کیفیت ہے۔ پانی کا یہ عالمی بحران اچانک واقع نہیں ہوا ہے یہ اس لئے ہورہا ہے کیونکہ ہم نے مسئلہ کو ہنوز سنجیدگی سے نہیں لیا ہے اور اس کے درپردہ کئی خود ساختہ اسباب ہیں۔

خود ساختہ اسباب کیا ہیں؟َِ

سب سے برا سبب وہ چیز ہے جو انسانوں نے ترقی کے نام پر قدرتی ماحول کے ساتھ کیا ہے‘ دنیا بھر میں نام نہاد ترقی نے ماحول پر ایک بڑا بُرا اثر ڈالا ہے اور اس کے اثرات اس ارضی آب کی گردش نے دکھانا شروع کردیئے ہیں۔چین ہی کی مثال لیجئے۔ اس وقت زبردست اقتصادی بڑھوتری دکھائی دے رہی ہے مگر قریب سے دیکھا جائے تو ہم بآسانی آبی گردش پر اس کا اثر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ عظیم دریائے زرد کے بہائو میںفرق واقع ہوچکا ہے لہٰذا کبھی کبھی وہ خشک ہوجاتا ہے اور پانی دریا کے لب تک نہیں پہنچتا‘ یہ عمل دریا کے نچلے نہری حصہ میں پہلی مرتبہ ۱۹۷۲ء میں واقع ہوا اور ۱۹۹۱ء کے بعد یہ وقتاً فوقتاً کئی ایک مرتبہ واقع ہوچکا ہے۔ دریا کے بہائو میں شکستگی زراعت‘ صنعت اور روز مرہ کے لیے حاصل کئے گئے پانی کی مقدار کی وجہ سے آئی ہے کہ دریا کی وادی کافی ترقی کرچکی ہے۔ مسئلہ مزید خراب ہوا ہے جنگلات کے کٹائو اور سطح مرتفع پر گھاس سے پُر میدانوں کی تباہی سے کہ جس کے نتیجہ میں ناقابل کاشت زمین کم ہوئی ہے آب و ہوا میں تبدیلی واقع ہوئی ہے اور یہ بارش میں کمی کا سبب بنا ہے۔

گوکہ دریائے زرد متعدد بار خشک ہوتا رہا ہے‘ دریائے یانگ زے کی وادی مسلسل سیلابوں سے دوچار ہے۔ ۱۹۵۰ء سے ۱۹۷۰ء تک وادی میں اوسطاً پانچ برسوں میں کم از کم ایک بار سیلاب ضرور آیا ہے اور ۱۹۹۰ء تک ہر تین برسوں میں کم ازکم دو بار سیلاب آچکا ہے اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سیلابوں کا تسلسل بڑھ گیا ہے۔ اس کی یقینی وجہ وادی میں جنگلات کا ختم ہونا اور گھاس کے میدان کی بربادی کے نتیجہ میں زرخیز زمین کا بنجر ہونا اور جھیلوں اور تالابوں سے شاخ در شاخ متعدد دریائوں کے بہائو میں قدرتی کمی ہے۔ ایک اور بڑی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی کے نتیجہ میں بارشوں میں مقامی طور پر کئی گنا اضافہ ہے۔

جھیلوں اور بڑے تالابوں کے ماحول کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال بحر ارل کی ہے۔ جو قازقستان اور ازبکستان کی سرحدوں سے گھرا ہوا ہے ۱۹۶۰ء میں روس نے بڑے کروفر کے ساتھ بحر ارل پراجیکٹ کے ساتھ بڑے پیمانے پر زرعی ترقی کے منصوبہ کا آغاز کیا۔ یہ ایک زبردست تصور تھا کہ جس میں بحرارل میں گرنے والے دونوں دریائوں میں سے زرعی نہریں کھود کر نکالی گئیں تاکہ ایک جزوی صحرائی زمین کو زرعی زمین میں تبدیل کیا جاسکے۔ ناقابل کاشت رقبہ دو لاکھ مربع کلو میٹر تک پہنچ گیا۔ اور ۱۹۸۰ء تک ایک بڑی مقدار میں پانی کی نکاسی کے سبب بحرارل میں زبردست کمی واقع ہوئی وہ سمندر جو اصلاً چھ ہزار چھ سو مربع کلو میٹر رقبہ پر پھیلا ہوا تھا گذشتہ چالیس برسوں میں ایک تہائی سکڑ گیا ہے۔

دنیا بھر میں اس طرح کی مثالوں کی نہ ختم ہونے والی فہرست ہے اور ہر صورت میں سبب گذشتہ کئی برسوں کا ترقیاتی عمل ہے۔ ہماری سوچوں کے برخلاف اس نقصانِ عظیم کے ا زالہ کے لیے ایک طویل المیعاد عمل اختیار کرنا ہوگا!

آبی گردش میں خلل کی ایک بڑی وجہ آبادی کا شہروں کی جانب تیزی سے انخلا بھی ہے۔ اسے دنیا بھر میں متعدد بار وقوع پذیر ہونے والے شہری سیلاب کی تباہ کاریوں میں دیکھا جاسکتا ہے سیلابوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ جانی و مالی نقصان کسی اور قدرتی آفت میں نہیں ہوا کرتا۔۱۹۹۰ء سے سیلاب کے نتیجہ میں نقصان بڑھتا گیا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں آبادی میں تیزی سے اضافہ اور شہری علاقوں کی جانب آبادی کے برے حصہ کی منتقلی ہے۔ ترقی پذیر ممالک قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے بچائو کے لئے درکار منظم ڈھانچہ کا انتظام نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہی ان کے پاس وسائل ہیں کہ ایسی شہری منصوبہ بندی تشکیل دے سکیں یا اس پر عمل درآمد کرسکیں جس میں قدرتی آفت سے بچائو کا پروگرام شامل ہو۔

جیسے جیسے کچی آبادیاں بڑھ رہی ہیں شہر مزید بڑے ہوتے جارہے ہیں آبادی میں ان علاقوں میں ارتکاز ہورہا ہے جو قدرتی آفت کے لحاظ سے غیر محفوظ ہیں۔ اگر یہ گنجان آباد علاقے مقامی طور پر آبادی کے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں تو تباہی کاشکار ہونے والوں کی تعداد بھی غیرمعمولی ہوسکتی ہے۔

دنیا کی۶ ارب آبادی میں سے۳ ارب ۴۰ کروڑ افراد مون سون ایشیا میں رہتے ہیں اور ان میں سے بھی اکثریت کا ارتکاز بڑے دریا اور ان کے سنگھاڑوں کے درمیانی اور نشیبی دریائی طاس سیلاب کے خطوں میں ہے۔ ان علاقوں میں تیزی کے ساتھ آبادی کی منتقلی ہورہی ہے اور بڑے پیمانے پر سیلابوں کے نتیجہ میں متوقع نقصان انتہائی تشویش کی بات ہے۔

لہٰذا سیلابوں سے بچاؤ کا موثر ترین راستہ کیا ہے؟

ہمیں کئی ایک مختلف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن میرے خیال میں سب سے اہم ترین یہ ہے کہ پانی سے اپنے رشتہ کے متعلق پھر سے سوچا جائے ہمیں شاخوں کی کانٹ چھانٹ والی تدبیر کے مقابلہ میں بنیادی علاج کی جانب دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یقینا یہ ایک قابلِ قدر امر ہوگا کہ پلٹ کر جاپان کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے۔ ایک ایسا ملک جو مون سون ایشیا کے بالکل کنارے پر واقع ہے اور جو ایک طویل عرصہ سے سیلابوںسے نبرد آزما رہا ہے۔ جاپان کی سیلابوں سے نمٹنے کی حکمت عملی بالکل کامیاب تو قرار نہیں دی جاسکتی کہ جنگ عظیم دوم کے بعد سیلابوں سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تھا س کے باوجود گزشتہ ۱۰۰ برس کی طویل المیعاد تاریخ دیکھیں تو جاپان نے اس میدان میں ایک قابل قدر کامیابی حاصل کی ہے۔

جاپان نے ۱۸۹۶ء میں دریائوں کی جدتِ نو کو ہدف بناتے ہوئے منصوبہ جاتی کاموں کا آغاز کیا یہ اس وقت کی بات ہے جب اصلی قانونِ دریا منظور ہوا۔ اس قانون کے تحت ملک بھر میں نمایاں دریائوں سے ہونے والے سیلابی نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے سیلابوں سے بچائو کے برے منصوبے شروع کئے گئے۔ دھان کے کھیت تو تھے ہی تھے شہر اور صنعتی علاقے بھی برے دریائوں کے دہانوں کے قریب طاسِ سیلاب اور سنگھاڑوں پر پروان چڑ چکے تھے۔ یہ زمینیں اس مٹی اور ریت سے بنی ہوئی تھیں جسے دریا بہا کر لے آتے تھے اور سیلابوں کے بعد یہ دریائوں کے دہانوں پر جمع ہوجایا کرتی تھی۔ یہ بات تعجب خیز تو پھر بھی نہیں ہے کہ ان کا فطری مزاج زبردت قسم کے متعدد سیلابوں اور مٹی کے تازہ ذخیروں کی جانب مائل تھا۔ اس خطرے کے باوجود یہ سپاٹ میدان ترقی اور جدیدیت کے لیے انتہائی مفید تھے بلاشبہ وہ کلید کا درجہ رکھتے ہیں یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ آیا جاپان جدید ہونے اور مغرب کو جالینے کی کوششوں میں کامیاب ہے۔

سیلابوں کو قابو کرنے کے لیے وقت کی حکومتوں نے سیلابوں سے بچائو کے بڑے منصوبے شروع کیے جس میں دریائوں کی طغیانی سے بچنے کے لئے ہر دو جانب بڑے پشتوں کی تعمیر شامل ہے۔

سیلاب کنٹرول کرنے کے عمومی طریقے اس وقت کیا تھے؟

مون سون ایشیا میں سالانہ کافی بارش ہوتی ہے اور یہ سوچا جاتا تھاکہ بڑھتے ہوئے سیلاب کے پانی کو دریا سے نکالی جانے والی نہروں میں لانا تقریباً ناممکن ہے لہٰذا سیلابوں سے نمٹنے کے بجائے لوگوں نے اس کے ساتھ رہنا سیکھ لیا اور ایسی تدابیر اختیار کرلیں کہ سیلاب سے کم سے کم نقصان ہو۔ مثلاً سیلاب سے متاثر نہ ہونے والی فصلیں کاشت کی جاتیں اور گھر اونچے اور مضبوط بانسوں پر تعمیر کئے جاتے کمرے زمین سے اٹھے ہوئے ہوتے۔

جاپان میں بھی کچھ اسی قسم کی تدابیر اختیار کی جاتیں تھیں مگرمسئلہ جوں کا توں موجود تھا کہ دریائی طاسِ سیلاب پر مسلسل آنے والے سیلابوں نے کسی بھی قسم کی مکمل طور پر ترقی کے عمل کو روک رکھا تھا۔ مون سون ایشیا میں دریائوں کے درمیانی اور نشیبی علاقوں میں خوف ہوتی ہیں اور خوب سیلاب آتے ہیں ان سب سے بڑھ کر جو مغرب میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جاپانی حکومت نے مغربی طرز پر بڑے انجینئرنگ منصوبوں کے ذریعے دریائوں کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دارانہ طریقہ سے کوششیں کی ہیں۔ اتنے کامیاب انداز میں کہ دریائوں پر مسلسل پشتوں کی تعمیر سے کئی درجن دریا سیلابوں کو اپنی ہی گزرگاہوں کے اندر محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ دریائی طاسِ سیلاب کے اندر بھی ڈرامائی انداز میںکمی واقع ہوئی اور اسی چیز نے جدید جاپانی معاشرہ کو سماجی اور اقتصادی بنیاد فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔

ایک مختصر عرصہ میں مغرب کی سیلاب سے بچائو کی تدابیر کو سیکھنا اور اسے جاپانی حالات کے مطابق اختیار کرنا انجینئرنگ کا معجزہ ہی گردانا جاتا ہے اور اس کا بڑا حصہ امراء کے جذبے کے سبب ممکن ہوا کہ زمانہ کی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے جاپان کو ترقی یافتہ بنایا جاسکے۔ مگر فطرت کو سدھانا اتنا آسان نہیں ہے۔ جنگ عظیم دوم کے اختتام کے دس برس گزرنے کے بعد برسات کے موسم میں طوفان بارشیں ہونے لگی ہیں اور کئی برسوں سے طوفان نے قیامت مچا رکھی ہے بڑے دریائوں پر تعمیر شدہ تقریباً تمام پشتے جواب دے چکے اور پھر سے بڑے پیمانے پر سیلاب آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ایسا کیوں ہوا؟

دریا قدرت کا ایک اہم حصہ ہیں اور کوئی بھی کام جو دریا کی گزر گاہوں میں تبدیلی لائے لامحالہ دریا کی آبی گردش میں فرق لائے گا۔ دریا کی وادیوں میں ترقیات اور دریا کے جوانب پشتوں کی تعمیر کے نتیجہ میں موسلا دھار بارش کے پانی کا تیزی سے دریائوں میں پہنچنا اور دریائوں نے نشیب کی جانب پہلے سے بہت زیادہ تیزی کے ساتھ بہنا شروع کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دریائوں کی گزر گاہوں میں ترقیات کے عمل نے کسی بھی بارش کے لئے دریا میں سیلابی کیفیت کے رجحان کو بڑھا چڑھا دیا ہے اور منصوبوں پر عمل درآمد کے وقت اس کی پیش بندی نہیں کی گئی تھی۔ پشتے یہ سب نہیں سہار سکے اور جنگ عظیم دوم کے بعد یکے بعد دیگرے ایک ایک کرکے زمین بوس ہوگئے۔ صورتحال مزید گمبھیر ہوتی چلی گئی کہ جنگ کے دوران اور بعد کے برسوں میں انتہائی ناگفتہ بہ اقتصادی حالات رہے کہ سیلابوں سے بچائو کے لئے دو تہائی جنگلات پر مشتمل جاپان میںنظم و نسق کا فقدان رہا۔

پس نظر محض دریاؤں میں سیلابوں سے بچاؤ پر رہی اور اس نے دریاؤں کی مکمل آبی گردش تہس نہس کر دی!

جی ہاں ساتھ ہی ساتھ مابعد از جنگ تعمیر نو کے عرصہ کے دوران دریائوں کے بگڑتے ہوئے ماحول کی بحالی کے لئے کچھ اقدامات کئے گئے۔ دریائوں کے منصوبہ جاتی کاموں اور قومی زمین کی بقاء کے سلسلے میں قابل ذکر کوششیں کی گئیں۔ نتیجتاً سیلابی نقصان کے زمرے میں یک گونہ سکون حاصل ہوا۔مگر ۱۹۵۰ء کے اواخر سے ۱۹۶۰ء تک جاپان شدید قلتِ آب کا شکار ہوا اور وجہ صنعتی عمل کی وہ پالیسی تھی جو جاپان نے بڑی شدت سے پروان چڑھائی تھی اور اس کے ساتھ شہروں میں آبادی کی منتقلی کو بڑھاوا ملا۔ شہری علاقوں میں آبادی کا میلان توقع سے کہیں زیادہ تھا اور کپڑے دھونے کی مشینوں کے بے محابہ استعمال اور اسی قسم کی دیگرسہولیات جو بہتر معیارِ زندگی کے عنوان سے جڑی ہوئی ہیں نے زبردست طریقہ سے پانی کے صَرف کو بڑھادیا۔

پانی کے وسائل کو تیزی کے ساتھ ترقی دینے پر مجبور حکومت نے دریائوں پر بند باندھنے شروع کردیئے۔ تعمیر بند کی ایک زبردست لہر تھی اور پانی کے وسائل کو ترقیانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ قومی سطح پر قلتِ آب کے مسئلہ پر ایک مختصر عرصہ میں قابو پالیا گیا اور ۱۹۶۰ء کے اواخر تک ترقی کے اس جنون کو اس وقت دھچکا لگا جب جاپانی سماج نے اعتراضات اٹھانے شروع کردیئے۔ چار بڑے مقدمات ان معترض دعویداروں نے جیت لیے اور شہریوں کی جانب سے عملی کوششوں میں اضافہ ہوا تاکہ ماحولیاتی فساد کو روکا جاسکے اور ڈیموں کی تعمیر قا بل ِذکر طریقہ سے آہستہ ہوگئی۔

ڈیموں کی تعمیر ۱۹۷۳ء کے تیل کے پہلے حادثے سے مزید کم ہوگئی۔ مستقبل کے حوالے سے واضح تنبیہی اشارے اس طرح ملے کہ عروج پر پہنچا ہوا پانی کا خرچ بتدریج کم ہونا شروع ہوا۔ اس وقت اور اس کے بعد سے پانی اور اس کے ماحول کے بارے میں سوچ بچار بڑھی۔ یہ واضح ہوتا جارہا تھا کہ پانی کے وسائل کو فروغ دینے کا ہدف لیے ڈیموں کی تعمیر اور دریائوں کی بہتری کے عمل نے دریائوں اور جھیلوں کا ماحول Ecosystem تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور یہی نہیں بلکہ پانی کے معیار میں بھی قابلِ ذکر گراوٹ آئی ہے۔

جاپان میں دریاؤں سے متعلق انتظامیہ نے ماحول کو کب شاملِ فکر کیا؟

رخ کی اس تبدیلی نے ۱۹۹۰ء میں اصل آہنگ نمایاں کیا اس سلسلے میں قانونِ دریا سے متعلق ۱۹۹۷ء کی ترمیم خاص طور پر اہم ہے۔ اس قانون کی شق نمبر ۱ واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ دریائوں کے منصوبوں کا مقصد دریائوں کے ماحول کی بہتری اور تحفظ ہے۔ اس وقت تک تو دریائوں کے منصوبوں کا مقصد سیلابوں سے بچائو اور دریائی گزر گاہوں کی ترقی تھا مگر ترمیمی قانونِ دریا کے تحت اب تمام منصوبے قدرتی ماحول سے متعلق تیار کئے جائیں گے۔ ترمیم میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ماہرین کے ساتھ مقامی لوگوں کو بھی منصوبہ بندی کے عمل میں شریک کیا جائے گا۔ ترمیمی قانون یہ بھی بتاتا ہے کہ دریائوں کے تمام منصوبوں کو دریائوں کی بہتری‘ پانی کا استعمال اور دریائوں کے ماحول کے حوالے سے کما حقہ فکر کرنا ہوگی اور مقامی آبادی سے گفت و شنید کرنا ہوگی۔ جاپان کے دریائوں سے متعلق انتظامی ادارے کو اس منزل تک پہنچنے سے قبل ایک طویل اور جانگسل عمل سے گزرنا پڑا۔

گذشتہ صدی کے دوران دریائوں اور قوموں کی مشترکہ تاریخ میں کچھ بھرپور تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تمام مراحل جن سے جاپان گزرا۔ مثلاً سیلابی نقصان‘ شہروں کا بڑھنا‘ قلتِ آب‘ ماحول کا بگاڑ‘ عوامی تحریکیں‘ مون سون ایشیا کے ان تمام ممالک کو بھی ان سے سابقہ پڑے گا جیسے جیسے ان کی آبادی میں اضافہ ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ ان ممالک کے وسائل آب کے منصوبہ ساز اور شہری منصوبوں کے کرتا دھرتا جاپان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے اور غلطیوں سے گریز کریں گے۔

آپ مستقبل میں پانی سے تعلق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

حال ہی میں دنیا بھر میں یہ بات گردش کرتی رہی جسے کہا جاتا ہے’’اصلی پانی‘‘ یہ وہ بڑی مقدار میں پانی ہے جو درآمدی خوردنی اشیاء کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے یعنی فصلیں اگانے یا مویشی پالنے میں استعمال ہونے والا اور پانی گلوبلائزیشن میں ترقی کا مطلب ہے کہ اصلی پانی کی گردش میں ایک تیزی پیدا ہو۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا‘ اگر ہمیں دنیا بھر کے پانی کی گردش کا تحفظ کرنا ہے۔ جاپان کی خوراک میں خود کفالت خاص طور پر کافی کم ہے یعنی استعمال ہونے والی خوراک کا محض ۲۸ فیصد پیدا کرپاتا ہے۔ بقیہ درآمد کیا جاتا ہے اور وہ پانی جو اس کی پیداوار کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو جاپانی لوگوں کی اکثریت نہیں سوچتی مگر ہمیں سوچنا ہے۔

جو ہمیں اب کرنا چاہیے۔۔۔ ہر ایک کو جو زمین پر رہ رہا ہے۔۔۔ وہ یہ کہ ہم اپنے طرزِ زندگی اور پانی کے استعمال کے درمیان تعلق کو دوبارہ سوچیں ۔ آبی گردش کا وجود لاکھوں برسوں سے ہے اور اس حوالے سے ہماری مثبت سوچ یہ ہونا چاہیے کہ ہم کچھ بھی کریں یہ آبی گردش اسی طرح جاری رہے گی اور یہ حقیقت ہے کہ یہ سوچنا کہ پانی کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ کنٹرول یا مرضی کے مطابق کیا جائے ایک بڑی غلطی تھی۔ فطرت اپنی ڈگر پر ہمیں واپس لارہی ہے۔

پانی ایک وسیلہ ہے۔ جب ہم پانی استعمال کرتے ہیں ہم دراصل اسے فطری آبی گردش سے ایک وقت کے لئے ادھار لیتے ہیں استعمال کرنے کے بعد ہمیں اسے پھینک نہین دینا چاہیے بلکہ اسی حالت میں آبی گردش کو لوٹا دینا چاہیے جس طرح اس سے لیا تھا ہمیں چاہیے کہ ہم دیکھیں ہم آبی گردش کی بازیابی کے لئے کیا کرسکتے ہیں اور عالمی بحرانِ آب تقاضا کرتا ہے کہ ہم پانی کے مقام کی آگاہی کے لیے اصلاحی تحریک چلائیں۔

٭٭٭

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.