روس کا ’’بند کمرا‘‘ نظام

روس کے معروف ادیب دستووسکی نے اپنے معرکۃ الآرا ناول ’’دی برادرز کراموزوف‘‘ میں لکھا ہے کہ اسرار، معجزہ اور اختیار۔ یہ تینوں چیزیں انسان کا ضمیر زندہ رکھتی ہیں۔ ولادیمیر پوٹن نے ان تینوں خصوصیات کو اپنے وجود میں جمع کرلیا ہے۔ ویسے تو وہ تینوں ہی معاملات میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں مگر معاملات کو پراسرار رکھنے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ وہ ہر کام کی بات کو یوں صیغۂ راز میں رکھتے ہیں کہ دنیا دیکھتی اور سوچتی ہی رہ جاتی ہے۔ کسی کو یہ معلوم ہو پاتا ہے کہ کریملن کی دیواروں کے پیچھے کیا چل رہا ہے نہ یہ معلوم ہو پاتا ہے کہ پوٹن کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ ایک بات البتہ واضح ہے کہ روس میں اختیارات اب سمٹ کر پوٹن کی ذات میں جمع ہوگئے ہیں، جو ظاہر ہے، انتہائی خطرناک ہے۔ کے جی بی کا دور گزرنے کے بعد ایف ایس بی کو ملک کا خفیہ نظام چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ خفیہ ادارہ اب پولیس سمیت تمام اداروں پر حاوی ہے۔

پوٹن کو کے جی بی دور کے ساتھیوں پر بھروسہ ہے اور انہی کو آگے لایا جاتا رہا ہے۔ روس سے کرائمیا کے الحاق کے بعد اب معاملات بہت کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ایف ایس بی کو سیاسی اور معاشی معاملات میں بھی دخل دینے کا موقع مل گیا ہے۔ ۱۹۵۳ء میں جوزف اسٹالن کے انتقال کے بعد کے جی بی کے کنٹرول میں تھوڑی کمی آئی۔ اس کے لیے ایک خاص حد سے آگے آنا ممکن نہ ہوسکا۔ ۱۹۹۱ء میں روس کی کمیونسٹ پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کے جی بی کے لیے بھی پہلے سے اختیارات کے ساتھ کام کرنا ممکن نہ رہا۔ پھر بھی اس کی ضرورت اور گنجائش باقی رہی۔ نئے حکمرانوں نے کے جی بی کو ختم کرنا مناسب نہ جانا۔ سچ یہ ہے کہ نظریے کے بغیر کمیونسٹ پارٹی تو ختم ہوسکتی تھی اور ہوئی مگر کے جی بی یعنی خفیہ نیٹ ورک کو کسی نظریے کی حاجت تھی نہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جو لوگ کے جی بی میں تھے وہ ایف ایس بی میں آگئے۔ ایف ایس بی بہت حد تک ذاتی نوعیت کی فورس ہوکر رہ گئی ہے۔ اس کے بیشتر معاملات انتہائی خفیہ رہتے ہیں۔ بند کمرے کے اجلاسوں میں جو کچھ بھی طے کیا جاتا ہے وہ باہر نہیں آ پاتا۔ روس کے عسکری اور معاشی امور کے ماہر آندرے سلداتوف کہتے ہیں کہ ایف ایس بی کو روس میں بہت حد تک وہی مقام حاصل ہے، جو امریکا میں ایف بی آئی کو حاصل ہے۔ پراسیکیوشن آفس کو ایف ایس بی سے کسی بھی معاملے میں کوئی وضاحت طلب کرنے کا اختیار نہیں۔ عدالتیں بھی وہی کرتی ہیں جو ایف ایس بی چاہتی ہے۔

۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء کو پارلیمانی انتخابات کے موقع پر روس کے روزنامہ ’’کامرسینٹ‘‘ نے اطلاع دی کہ کریملن نے سابق کے جی بی کے بعض حصوں (بشمول فارن انٹیلی جنس سروس اور اعلیٰ سرکاری افسران کی سیکیورٹی پر مامور فیڈرل پروٹیکشن سروس) کو ملا کر ایک نیا میگا سیکیورٹی اسٹرکچر ترتیب دیا ہے، جسے دی منسٹری آف اسٹیٹ سیکیورٹی کہا جائے گا۔ جوزف اسٹالن کے دور میں کے جی بی کو یہی کہا جاتا تھا۔ اور پھر دی منسٹری آف اسٹیٹ سیکیورٹی کی تشکیل کا موقع دیکھیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پارلیمنٹ جیسے مقتدر ادارے کو بھی ایف ایس بی کا ضمیمہ بنادیا گیا ہے۔ کارنیگی ماسکو سینٹر سے وابستہ تاتیانا استانو وایا کا کہنا ہے کہ اب تمام اہم فیصلے ایف ایس بی کرے گی اور پارلیمان اس کے لیے محض ربر اسٹیمپ کا کردار ادا کرے گی۔

اس وقت ایف ایس بی میں سرگئی کورولیف کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ وہ انٹرنل سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کا سربراہ رہا ہے۔ یہ ادارہ کسی بھی خفیہ ادارے سے وضاحت طلب کرنے کا اختیار رکھتا تھا۔ سرگئی کورولیف کو اہم کاروباری سرگرمیوں کا نگران مقرر کیا گیا ہے۔ چند برسوں کے دوران گورنرز، میئر اور اعلیٰ پولیس افسران کی گرفتاریوں میں اس ادارے کا ہاتھ رہا ہے۔ یہ گرفتاریاں بظاہر کرپشن کی روک تھام کے نام پر کی گئی ہیں۔ گرفتاریوں کا سلسلہ وزارت داخلہ میں اکنامک کرائم اینڈ اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ جنرل ڈینس سگرایوف اور اس کے نائب بورس کولیسنیکوف کی گرفتاری سے شروع ہوا۔ انہیں کرپشن کے خاتمے کی ذمہ داری روس کے موجودہ وزیر اعظم دیمیتری میدویدیف نے سونپی تھی۔ کولیسنیکوف کو اسیری کے دوران قید خانے میں سَر میں شدید زخم آئے۔ اور پھر چھ ہفتوں بعد رسمی تفتیش کے دوران اس نے چھٹی منزل سے کود کر خود کشی کرلی۔ سگرایوف جیل میں ہے۔

گورنرز، میئر اور اعلیٰ پولیس افسران کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور انہیں ہتھکڑیاں پہناکر لے جایا جاتا ہے۔ یہ تمام مناظر ٹی وی پر عام ہیں۔ عام روسی بھی یہ سب کچھ دیکھتے ہیں اور اس کا اثر بھی قبول کرتے ہیں۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ کسی پولیس افسر کے گھر پر چھاپا مارا گیا اور وہاں سے بڑے پیمانے پر نقدی برآمد ہوئی۔ پولیس کے ایک کرنل دیمتری سکھارا چینکو کے گھر پر چھاپا مارا گیا تو وہاں سے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر برآمد ہوئے۔ چند ہفتے قبل کے جی بی کے سابق افسر اور کسٹمز سروس کے سربراہ کے گھر پر چھاپا مارا گیا تو وہاں سے ۶ لاکھ ۷۰ ہزار ڈالر کے علاوہ ایک کلو گرام سونا اور چند قیمتی تصاویر بھی برآمد ہوئیں۔

اسے برطرف تو کردیا گیا مگر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا یعنی اس کے خلاف کوئی قانونی یا عدالتی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

جو کچھ بھی کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر کیا جاتا ہے اس پر لوگوں کو پورا یقین نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ معاملات جیسے دکھائی دے رہے ہیں ویسے نہیں ہیں۔ چھاپوں کے بعد بہت سوں کو کلین چٹ دے دی جاتی ہے۔ بہت سے معاملات میں کارروائی بھی نیم دلانہ سی ہوتی ہے۔ ایف ایس بی کا بھی وہی طریقہ ہے جو اسٹالن کا تھا۔ اسٹالن کے دور میں اندرونی سطح پر بھی غیر معمولی دباؤ برقرار رکھا جاتا تھا۔ اشرافیہ کو قابو میں رکھنے کے لیے لازم تھا کہ اس پر دباؤ بڑھایا جائے۔ گورنرز، میئرز اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں پر اسی لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ کورولیف اور دیگر کو استعمال کرکے خود ایف ایس بی کی صفوں میں بھی غیر یقینی کیفیت اور خوف کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

صدر پوٹن نے اس امر کا خاص خیال رکھا ہے کہ کوئی بھی بڑا کاروباری ادارہ نگرانی کے دائرے سے باہر نہ رہے۔ کے جی بی کے دور کی طرح اب بھی ہر بڑے کاروباری ادارے کی نگرانی پر ایک افسر کو مامور کیا جاتا ہے۔ صدر پوٹن نے معاملات کو اپنی ذات تک محدود و مرتکز رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جن لوگوں نے ولادیمیر پوٹن کے ساتھ کیریئر کی ابتداء کی تھی اُن میں سے بیشتر کو ہٹادیا گیا ہے۔ صدر پوٹن نے کوشش ہے کہ ان کے ابتدائی دور کے کم ہی لوگ میدان میں رہیں۔ انہوں نے اپنے ابتدائی دور کے بہت سے ساتھیوں کو فارغ کرنے میں تساہل سے کام نہیں لیا۔ کے جی بی کے سابق افسر جنرل سرگئی ایوانوف ایک مدت تک پوٹن کے چیف آف اسٹاف رہے مگر پھر ہٹا دیے گئے۔ اینٹی ڈرگ ایجنسی کے سابق سربراہ وکٹر ایوانوف اور فیڈرل پروٹیکشن سروس کے سابق سربراہ ایوگینی موروف کو بھی فارغ کردیا گیا۔

پوٹن نے بہت سے نوجوانوں کو بھی پروموشن دی ہے تاکہ وہ احسان تلے دبے رہیں اور کبھی خلاف جانے کی کوشش نہ کریں۔ وہ کریملن میں اپنا واضح حلقۂ اثر قائم کرنے کی کوشش میں اب تک کامیاب رہے ہیں۔ پوٹن کا نیا چیف آف اسٹاف ۴۴ سالہ اینٹن وائنو ہے جو سوویت دور میں ایسٹونیا سے تعلق رکھنے والے کمیونسٹ لیڈر کا پوتا اور تیسری نسل کا بیورو کریٹ ہے۔ بہت سے سویلینز کو کریملن کے معاملات چلانے کے لیے لایا گیا ہے اور دوسری طرف سابق فوجیوں اور کے جی بی کے ریٹائرڈ افسران کو کاروباری و مالیاتی اداروں کی نگرانی کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ ’’اولڈ سلوویکی‘‘ کے بچوں کو بینک اور قدرتی وسائل کے سرکاری ادارے چلانے کے لیے آگے لایا گیا ہے۔ موروف کا بیٹا فیڈرل گرڈ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا سربراہ ہے۔ یہ ادارہ روس میں بجلی کی فراہمی کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ سیکیورٹی کونسل کے سربراہ نکولائی پیتروتیف کا بیٹا دیمتری پیتروتیف سرکاری ملکیت والے رشین ایگریکلچرل بینک کا سربراہ ہے۔

سابق سوویت یونین میں ذاتی اثاثوں کی منتقلی بہت بڑا مسئلہ بن گئی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کے سربراہان کے مرنے پر ان کی املاک اولاد یا بیوی تک مشکل سے منتقل ہوتی تھیں۔ یہی سبب ہے کہ ۱۹۹۱ء میں برپا ہونے والے انقلاب کا پارٹی رہنماؤں نے بھی خیر مقدم کیا۔ آج روس میں بڑے پیمانے پر ترکے کی منتقلی مشکل نہیں مگر اس کے لیے صدر پوٹن کی طرف سے گرین سگنل کا ملنا لازم ہے۔

سکیورٹی سیٹ اپ میں پھر تبدیلی کی گئی ہے۔ پوٹن کے سابق باڈی گارڈ وکٹر زولوتوف کو نیشنل گارڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ فورس ۲۵ ہزار تا ۴۰ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ ۹لاکھ ۳۰ ہزار نفوس پر مشتمل باضابطہ فوج سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ نیشنل گارڈ کا سربراہ براہِ راست پوٹن کو رپورٹ کرتا ہے۔

عسکری امور کے روسی تجزیہ کار الیگزینڈر گولز کہتے ہیں کہ نیشنل گارڈ کے قیام کا بنیادی مقصد حکومت کا تختہ الٹنے کی کسی بھی بڑی کوشش کو کامیاب ہونے سے روکنا ہے۔ یوکرین میں جو کچھ ہوا اُسے بنیاد بناکر بنائی جانے والی اس فورس کا طریق کار بھی وہی ہے جو عام طور پر ایسے حالات میں اختیار کیا جاتا ہے۔ اگست ۱۹۹۱ء میں جو انقلاب برپا ہوا وہ یہ بات سکھانے کے لیے کافی تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں باضابطہ فوج عوام کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے معاملے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے۔ نیشنل گارڈ کے قیام کا ایک بنیادی مقصد پوٹن کو تحفظ فراہم کرنا بھی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اُسے ایف ایس بی کو متوازن رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ کسی بھی بند نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ تمام ادارے ایک دوسرے کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Wheels within wheels”. (“Economist”. Oct.22,2016)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*