’’ کوبانے ‘‘ جل رہا ہے!

شام کی شمالی سرحد پر ’’ کوبانے ‘‘ شہر کو عراق و شام میں اسلامی ریاست کے قیام کی دعویدار تنظیم ’’داعش‘‘ نے اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔ یہ شہر کردوں کا ہے، جو اَب اپنے آپ کو داعش کے تصرف سے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ’’کوبانے‘‘ کا حال عجیب ہے۔ یہ شہر ایک طرف تو داعش کے قبضے میں ہے اور دوسری طرف ترکی کی فوج الرٹ کھڑی ہے جو اپنے ملک کی حدود میں بسنے والے کردوں کو آگے بڑھ کر کوبانے میں پھنسے ہوئے کردوں کی معاونت سے روک رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اب تک تو داعش کے خلاف کارروائی سے خود بھی گریز کیا ہے اور کسی اور کو بھی ایسا کرنے نہیں دیا ہے۔ یہ طرزِ عمل امریکا کے لیے بہت پریشان کن ہے کیونکہ اُس نے خطے میں داعش کا اثر و رسوخ ختم کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ ایسے میں ترکی جیسا ملک اُس کے راستے کی دیوار بن رہا ہے۔ اردوان نے داعش کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے گریز کی راہ پر گامزن ہو کر ایک بڑا جوا کھیلا ہے۔ ایک طرف تو وہ امریکا کو ناراض کر رہے ہیں اور دوسری طرف ترکی کی حدود میں آباد کرد بھی اُن کے خلاف ہو کر مزید بپھر سکتے ہیں۔ ترکی میں کردوں نے علیٰحدگی پسندی کی تحریک ایک زمانے تک چلائی ہے۔ آٹھ دس برسوں کے دوران اِس تحریک نے بہت حد تک دم توڑا ہے مگر جذبات موجود ہیں، اُنہیں صرف بھڑکانے کی دیر ہے۔ اگر حکومت نے عراق اور شام میں داعش کی سرگرمیوں کے حوالے سے لاتعلقی کی پالیسی اختیار کی تو ترکی میں آباد کرد ایک بار پھر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں اور زیادہ منظم ہو کر حکومت کے خلاف صف آرا ہوسکتے ہیں۔

ترک حکومت داعش کے خلاف کردوں کی مدد کس حد تک کر سکتی ہے، اِس کا مدار اِس بات پر ہے کہ شام میں کرد بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف کس حد تک جاسکتے ہیں۔ ترکی چاہتا ہے کہ شام میں بشارالاسد کا اقتدار ختم ہو اور ایک ایسی حکومت قائم ہو جس میں اکثریت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔ اب تک شام کے کردوں نے حکومت کے خلاف جانے کا کوئی واضح اشارا نہیں دیا۔ ایسے میں ترکی کا اجتناب فطری ہے۔ رجب طیب اردوان چاہتے ہیں کہ شام میں آباد کرد اپنے علاقوں کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ بشار انتظامیہ کے خلاف بھی ہتھیار اٹھائیں تاکہ ملک میں قائم جابرانہ نظامِ حکومت کا خاتمہ ہو۔ اردوان چاہتے ہیں کہ شام میں اپوزیشن کے جو گروپ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں، کرد بھی اُن کا ساتھ دیں۔ اکتوبر کے دوران ترک حکومت نے کردوں سے گفت و شنید کی ہے تاکہ شام میں داعش کے خلاف برسرِ پیکار کرد گروپوں کو اسلحے کی فراہمی کے لیے راہداری دی جائے مگر ترکی اِس معاملے میں اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ شام میں داعش کی سرگرمیاں کچلنے میں ترکی مدد کرے۔ مگر رجب طیب اردوان کا مطالبہ ہے کہ امریکا شامی حکومت ختم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، تب تک ترک حکومت امریکی فوج کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی ساتھ اردوان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ امریکا شام میں نو فلائی زون قائم کرے تاکہ ملک کی اکثریت پر مبنی سُنّیوں کے علاقوں پر بمباری روکی جاسکے۔ انقرہ امریکا سے یہ مطالبہ کئی ماہ سے کرتا آیا ہے کہ شامی فضائیہ کو سُنّی اکثریت والے علاقوں پر بمباری سے روکا جائے۔ امریکا اور یورپ نے اس مطالبے پر اب تک دھیان نہیں دیا ہے۔

رجب طیب اردوان نے اب تک داعش کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی ہے تو اِس کا ایک مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ وہ داعش کی مدد کر رہے ہیں۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ترکی کی حدود میں کام کرنے والے کرد علیٰحدگی پسند گروپوں سے جس قدر خطرہ محسوس کرتے ہیں، داعش سے محسوس نہیں کرتے۔ کرد گروپوں کی آپس کی لڑائی میں بھی بہت سے لوگ مارے گئے ہیں مگر اب معاملہ کردوں اور ترک انتظامیہ کے درمیان ہے۔ شام میں داعش کی سرگرمیوں کو کچلنے کے حوالے سے کوئی واضح کردار ادا کرنے سے ترک حکومت کے گریز یا انکار پر ترکی میں آباد کرد سخت ناراض ہیں۔ ۷؍اکتوبر کو ترکی کے کرد اکثریتی علاقوں میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ پولیس پر مسلح نوجوان کردوں نے حملے کیے۔ جوابی کارروائی میں ۲۰ سے زائد کرد مارے گئے۔ دیارِ بکر، بتمان، بنگول، وان اور دیگر کرد اکثریتی علاقوں میں ترک حکومت نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی۔ ٹینک بھی بھیجے گئے اور فوجی گاڑیاں بھی۔ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فورسز کی بھاری نفری تعینات کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اردوان کو اس بات کا یقین ہے کہ داعش سے نمٹنے کے دوران کرد کوئی نیا محاذ کھولنے سے گریز کریں گے۔ دوسری طرف کرد چاہتے ہیں کہ اردوان اِس حوالے سے اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہوں۔ ترکی میں بارہ سال سے برسرِ اقتدار جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کو یہ صورت حال پریشان بھی کر سکتی ہے۔ آئندہ سال موسمِ گرما میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ اگر کردوں کو رام کرنے میں حکومت ناکام رہی تو شورش بڑھتی جائے گی۔ اِس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری خاص طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔

ترکی میں کردوں کے گروپ بھی آپس میں لڑتے آئے ہیں۔ کردستان ورکر پارٹی (پی کے کے) کے مقابل اسلام نواز گروپ ’’ہدا پار‘‘ کو کھڑا کیا گیا۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں پی کے کے سے تعلق رکھنے والے ارکان پر مشتمل گروپ سے وائی پی جی گروپ کو بِھڑا دیا گیا۔ دس سالہ لڑائی میں ہزاروں کرد مارے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ پی کے کے سے لڑنے کے لیے کرد گروپ ترک فوج کے جرنیلوں نے تیار کیا تھا۔

داعش کے خلاف کارروائی سے گریز اردوان کو کردوں سے کی جانے والی بات چیت سے دور لے جارہا ہے۔ وہ ایک بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ کردوں نے چند برسوں کے دوران حکومت سے جو مذاکرات کیے ہیں، وہ اب خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کرد لیڈر عبداللہ اوکلان نے جیل سے بیان دیا ہے کہ اگر ترک حکومت نے داعش کے خلاف لڑائی سے گریز کیا اور اس معاملے میں کردوں کی مدد نہ کی تو اُس سے مذاکرات ختم ہوسکتے ہیں۔

“Turkey and Syria: While Kobane burns”.
(“The Economist”. Oct. 11, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*