Abd Add
 

خواتین کی مظلومیت اور جدید دنیا

خواتین اور گھریلو تشدد (Domestic Violence Against Married Women) یہ وہ مسئلہ ہے جو آج دنیا بھر میں اٹھا ہوا ہے یا اٹھایا جارہا ہے۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘ کراچی نے اس موضوع پر پاکستان کے ۸ بڑے شہروں میں ایک سائنسی سروے کا اہتمام کیا۔ یہ سروے بین الاقوامی معیار کے پروفیشنل ادارے “NIPO” کے ذریعہ مکمل ہوا جو کہ خواتین فیلڈ ورکرز کے ذریعہ کرایا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ تازہ ترین ہے کہ فروری ۲۰۰۵ء میں اس کا فیلڈ ورک مکمل ہوا ہے اور مارچ کے پہلے ہفتہ میں اس کی رپورٹ اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘ کراچی کے شعبۂ ریسرچ کو موصول ہوئی ہے۔ آپ کے استفادے اور معلومات کے لیے اس جائزہ کا خلاصہ نکات کی شکل میں حاضرِ خدمت ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے چند بڑے شہروں کے ہیں۔ دنیا بھر میں اور خاص طور پر ترقی یافتہ مغربی ممالک میں خواتین پر گھریلو تشدد (Domestic Violence) کی کیا کیفیت ہے‘ اس حوالے سے بھی اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘ کراچی کے شعبۂ ریسرچ میں اعداد و شمار جمع کیے ہیں‘ وہ بھی اس تحریر میں شامل ہیں۔ اس سروے کی تیاری میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے ویمن کمیشن سندھ نے بھرپور تعاون کیا ہے‘ جس کے لیے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ اس سروے کی تفصیلی رپورٹ ادارے میں موجود ہے۔ آپ اس حوالے سے کوئی تجویز‘ تبصرہ یا کوئی اور بات کہنا چاہیں تو اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘ کراچی کے شعبۂ ریسرچ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

۲۱ویں صدی کے آغاز میں جبکہ انسان نے بظاہر ترقی کی بہت سی حدیں پار کر لی ہیں۔ دنیا ’’تاریک دور‘‘ سے نکل کر ’’روشن خیالی‘‘ کے ’’روشن‘‘ دور میں داخل ہو گئی ہے۔ نصف انسانیت یعنی خواتین کی ترقی کے دعوے ہیں۔ آزادیٔ نسواں کا دور ہے‘ خواتین کے حقوق کے لیے عالمی تنظیمیں موجود ہیں‘ بین الاقوامی کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں خواتین پر گھریلو تشدد (Domestic Violence) کی کیا کیفیت ہے۔

یہ وہ مسئلہ ہے جو آج دنیا بھر میں بھڑک رہا ہے۔ ریسرچ اور مضامین کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘ کراچی نے بھی حال ہی میں اسی موضوع پر ملک کے ۸ بڑے شہروں میں ایک سروے کا اہتمام کیا۔ یہ ایک ایسے عنوان پر ریسرچ ہے جس کا تعلق دیواروں کے پیچھے اور بند دروازوں میں ہونے والے واقعات سے ہے اور اس طرح کی ریسرچ کے حوالے سے دنیا بھر میں اتفاق ہے کہ مکمل تصویر شاید سامنے نہیں آتی لیکن پھر بھی بڑی حد تک معاشرے اور سوسائٹی کی صورتحال سامنے آہی جاتی ہے۔

سروے کیونکر ہوا؟

یہ ریسرچ سروے ایک بین الاقوامی ساکھ اور ایک شہرت یافتہ ادارے کے ذریعے فروری ۲۰۰۵ء میں کرایا گیا‘ جس میں خواتین ہی نے تقریباً ۶۰۰ خواتین سے طویل دورانیے کے انٹرویو کیے۔ یہ تمام ۶۰۰ خواتین شادی شدہ ہیں۔ گو کہ یہ تعداد کم ہے لیکن اس سے جو نقشہ ابھر کر سامنے آیا ہے وہ صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے میں معاون ضرور ہے۔ ان خواتین کی عمریں ۱۵۔۴۹ سال کے درمیان ہیں۔ کراچی‘ لاہور‘ راولپنڈی‘ اسلام آباد‘ پشاور‘ فیصل آباد‘ ملتان اور کوئٹہ کی خواتین سے یہ انٹرویو کیے گئے۔

ان خواتین میں خوشحال‘ متوسط اور معاشی لحاظ سے کمزور یعنی ہر طرح کی خواتین شامل ہیں۔ اسی طرح‘ سوائے سندھی بولنے والی خواتین کے‘ ہر زبان بولنے والی خواتین موجود ہیں۔

خواتین پر گھریلو تشدد‘ سروے کی تلخیص

دیے گئے سوالنامے میں ویسے تو کچھ دیگر موضوعات بھی شامل تھے لیکن یہاں پر صرف خواتین کے خلاف گھریلو تشدد (Domestic Violence Against Married Women) کے حوالے سے خلاصہ نکات کی شکل میں پیشِ خدمت ہے:

☼ جن خواتین نے کسی بھی طرح کی اذیت (ذہنی‘ نفسیاتی‘ جذباتی‘ زبانی اور جسمانی وغیرہ) کی اطلاع دی وہ کل %۶۹ ہیں۔

☼ ان خواتین میں سے %۲۶ خواتین نے جسمانی تشدد (یعنی تھپڑ مارنا‘ ہاتھ موڑنا‘ دھکا دینا‘ مکے مارنا‘ لات مارنا وغیرہ وغیرہ) کو رپورٹ کیا۔

☼ جسمانی تشدد کی شکایت کرنے والی مذکورہ بالا خواتین میں سب سے زیادہ تعداد پشتو زبان بولنے والی خواتین کی ہے یعنی %۳۳۔

☼ دوسرے نمبر پر %۲۴ کے ساتھ پنجابی زبان بولنے والی خواتین ہیں۔

☼ جبکہ %۱۳ اردو بولنے والی خواتین نے جسمانی تشدد کی شکایت کی ہے۔

(البتہ یہ دلچسپ حقیقت بھی اس سروے سے سامنے آئی کہ %۹۲ پشتو بولنے والی خواتین نے اس بات کا اظہار کیا کہ شوہر ان کی خواہشات اور فرمائشوں کا خیال رکھتے ہیں اور ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں‘ جو جسمانی تشدد کی شکایت کر رہی ہیں)۔

☼ اسی طرح یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ شادی کے ابتدائی ۲ سے ۳ سالوں میں گھریلو تشدد کے واقعات واضح طور پر زیادہ ہیں جبکہ شادی کو زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد یہ کیفیت کافی کم ہے۔ (اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘ کراچی میں جاری ایک اور ریسرچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی طلاقیں بھی ابتدائی ۳ سالوں ہی میں بہت زیادہ ہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہیں‘ اس پر پھر کبھی گفتگو ہو گی)۔

☼ معاشی اعتبار سے کمزور خاندانوں میں گھریلو تشدد زیادہ ہے۔

☼ وہ خاندان جن میں شوہر اپنی والدہ کو پیٹتے ہوئے دیکھتے رہے ہیں‘ وہاں بیوی پر تشدد کرنے کا رجحان زیادہ ہے۔

☼ مذہبی شمار ہونے والے لوگوں میں بھی نسبتاً تشدد زیادہ ہے۔

تشدد کی کیفیت

☼ تشدد کا شکار ہونے والی %۲۵ خواتین نے کہا کہ انہیں خراشیں آئیں یا جسم سوج گیا۔

☼ %۱۱ نے کہا کہ انہیں علاج کرانا پڑا۔

☼ %۹ نے کہا کہ ہڈی ٹوٹ گئی یا سخت زخمی ہوئیں۔

☼ %۲۰ خواتین نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ شوہر کے علاوہ بھی گھر کے لوگوں نے ان کو مارا پیٹا۔ (یعنی سسر‘ ساس‘ نند‘ دیور وغیرہ)

تعلیمی کیفیت

☼ وہ خاندان جہاں خواتین تشدد کا شکار ہیں‘ ان میں %۹۶ شوہر انٹرمیڈیٹ یا اس سے کم تعلیم یافتہ ہیں۔

☼ اسی طرح سے جن خواتین نے تشدد کی شکایت کی ان میں %۸۵ میٹرک پاس یا اس سے کم تعلیم یافتہ ہیں۔

۲۱ویں صدی۔ جدیدیت

آج کی جدید روشن خیالی کے دور میں یہ غلط فہمی بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے کہ چونکہ اسلام اور قرآن نے خواتین کو مارنے کی اجازت دی ہے‘ اس لیے مسلم معاشرے میں خواتین کو مارنے کا رجحان بہت زیادہ ہے‘ ورنہ مغرب کے جدید معاشرے میں ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے۔ سوال یہ ہے کہ آج کے مسلم معاشروں میں اسلام باقی ہے بھی کہ نہیں؟ آج روئے زمین پر کہیں اسلامی حکومت ہے؟ ہاں البتہ یہ حقیقت ہے جو سب مانتے ہیں کہ آج کا دور نئے عالمی نظام کا دور ہے۔ جدید نظریات اور روشن خیالی کا دور ہے اور پھر دنیا تو ایک گائوں کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ گھر کے بیڈ روم میں بھی میڈیا کے ذریعے جدیدیت گھس آئی ہے۔ گائوں اور دیہاتوں میں بھی نیو ورلڈ آرڈر چلتا ہے۔ اس لحاظ سے اصلاً تو آج جدیدیت کی حکمرانی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اگر کہیں کچھ موجود ہے‘ وہ مسلم معاشرہ ہے نہ کہ اسلامی معاشرہ یا قبائلی معاشرہ ہے۔ اس لیے پاکستانی معاشرہ ہو یا مغربی معاشرہ اس کی خوبیوں اور خرابیوں کی تمام تر ذمہ داری اس جدید دور اور نیو ورلڈ آرڈر پر بھی عائد ہوتی ہے۔ لیکن اگر آج کی جدید مغربی تہذیب‘ جدید تعلیم‘ خوشحالی اور روشن خیالی نے مغربی دنیا کی عورت کو سکھ اور چین دیا ہوتا تو شاید اس بات میں کوئی وزن ہوتا کہ آج کا دور خواتین کے حقوق کا دور ہے لیکن وہاں کیا کیفیت ہے۔ کچھ اعداد و شمار مغربی دنیا کے بھی۔

امریکا اور برطانیہ میں گھریلو تشدد

امریکا
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف ڈومیسٹک وائلنس (American Institute of Domestic violence) کے مطابق ہر سال امریکا میں ۳۰ سے ۴۰ لاکھ خواتین مرد کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ یعنی ہر ۹ویں سیکنڈ پر ایک عورت شوہر یا اپنے بوائے فرینڈ کے ہاتھ مار کھاتی ہے۔

☼ ۲۰۔۳۴ کی عمر میں خواتین کی پٹائی زیادہ ہوتی ہے۔

☼ خواتین کے زخمی ہونے کا سب سے بڑا سبب گھریلو تشدد ہے۔

☼ %۹۶ ملازمت پیشہ خواتین نے کسی نہ کسی طرح کی اذیت کی شکایت کی۔

☼ وہ امریکی مرد جو خواتین کو مارتے ہیں ان میں %۴۷ ایسے ہیں‘ جو سال میں کم از کم ۳ مرتبہ ایسا کرتے ہیں۔

☼ ۳۳ لاکھ بچے‘ خواتین پر جسمانی تشدد ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

☼ جو خواتین گھر چھوڑتی ہیں ان میں %۵۷ ایسی ہیں جو گھریلو تشدد کی وجہ سے بے گھر ہوتی ہیں۔

برطانیہ

برطانیہ میں ہر سال تقریباً ۰۰۰,۶۳۵ گھریلو تشدد کے واقعات ہوتے ہیں۔ ان میں بھاری اکثریت خواتین ہی کی ہوتی ہے‘ جو شکار ہوتی ہیں۔ گویا برطانیہ میں ہر منٹ پر ایک خاتون تشدد کا شکار ہوتی ہے۔

☼ ۱۰ میں سے ۹ واقعات میں بچے یہ مار پیٹ دیکھتے ہیں یا پھر برابر کے کمرے میں ہوتے ہیں۔

☼ ۱۰ میں سے ۵ واقعات میں بچوں کی بھی پٹائی ہوتی ہے۔

☼ ہر ۴ میں سے ۱ خاتون زندگی میں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے۔

☼ اس تشدد کی وجہ سے تقریباً ۲ خواتین ہر ہفتہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

اوپر دیے گئے اعداد و شمار (Women Aid Federation) اور دیگر ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔

دیگر ممالک

ہالینڈ

☼ ۲۰۰۱ء میں ۱۰۱۶ خواتین سے کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ %۲ء۲۶ خواتین اپنے شوہر یا پاٹنر کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

جاپان

☼ ۲۰ میں سے ایک خاتون کو مرد کے ہاتھوں زندگی کا خطرہ ہے۔ یہ بات وزیراعظم کی ایما پر کرائے گئے ایک جائزہ میں سامنے آئی جو کہ ۲۰۰۰ء میں ہوا۔

☼ گھریلو تشدد میں وہ شوہر بھی بڑے پیمانے پر شریک ہیں جو جاپان میں بڑے اعلیٰ عہدوں پر ہیں مثلاً ڈاکٹرز‘ انجینئرز اور صنعتکار ہیں۔

کینیڈا

☼ ۱۹۹۳ء میں کرائے گئے ایک ٹیلی فونک سروے جس میں ۳۰۰,۱۲ خواتین سے انٹرویو کیا گیا‘ یہ بات سامنے آئی کہ %۲۵ خواتین یعنی ہر ۴ میں سے ایک خاتون گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے۔

سویڈن

☼ ۲۰۰۲ء میں ۹۲۶,۶ خواتین سے بذریعہ ڈاک سروے کیا گیا‘ جس میں %۳۵ خواتین نے پچھلے شوہر یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے کی شکایت کی۔ جبکہ %۱۱ خواتین نے موجودہ شوہر یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں بھی تشدد کی شکایت کی ہے۔

(واضح رہے کہ اس طرح کے ماڈرن ملکوں میں جس طرح کپڑے تبدیل ہوتے ہیں‘ اُسی طرح ازدواج بدلتے رہتے ہیں)۔

☼ ان میں %۶۴ نے بار بار تشدد کا شکار ہونے کی شکایت کی۔

☼ %۵۰ طلاق یافتہ خواتین نے پچھلے شوہر کے تشدد کی شکایت کی۔

ہندوستان

☼ ۲۰۰۲ء کی ایک اسٹڈی میں معلوم ہوا کہ %۴۵ ہندوستانی خواتین نے اپنے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کی شکایت کی۔ ان میں وہ خواتین %۵۰ ہیں‘ جن کو دورانِ حمل (Pregnant) بھی مارا پیٹا گیا۔

آخری بات

اعداد و شمار تو مزید ممالک کے بھی پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن طوالت سے بچنے اور مسئلہ کو سمجھنے کے لیے یہی کافی ہیں۔ جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ فی زمانہ خواتین کے ساتھ خوفناک سلوک کیا جارہا ہے اور جدید روشن خیال ممالک میں تصویر اور بھی زیادہ بھیانک ہے۔ اول بات یہ ہے کہ عورت کو اس کے مقام یعنی ماں‘ بیوی‘ بہن‘ بیٹی کے مقام سے ہٹا دیا گیا ہے اور جب عورت اپنے مقام سے ہٹ جائے تو نہ صرف عورت بلکہ انسانی معاشرہ حتیٰ کہ انسانیت ہی سرے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مغربی دنیا میں نفسیاتی مریض‘ خودکشیاں اور بچوں میں تشدد و سفاکیت کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ۲۳ مارچ ۲۰۰۵ء کے اخبارات میں شہ سرخیوں سے امریکی ریاست منی سوٹا میں رونما ہونے والا وہ واقعہ چھپا کہ ایک اسکول کے طالبعلم نے پہلے اپنے گھر میں دادا اور دادی کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا اور پھر اسکول آکر بچوں پر فائر کھول دیا اور درجن بھر کے قریب معصوم طالبعلموں اور استانیوں کو قتل کر ڈالا۔ بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ یہ اور اس طرح کے واقعات امریکی دنیا میں بار بار ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا امریکا میں تعلیم نہیں ہے؟ کیا وہاں غربت ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ بچے کا اعتماد ماں پر سے اٹھ گیا ہے اور جب ماں پر سے اعتماد اٹھ جائے تو دنیا میں کسی پر اعتماد باقی نہیں رہتا۔ ماں پر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا جب تک کہ خواتین پر اعتماد بحال نہ ہو۔ یہ کیفیت کیسے پیدا ہو؟ اگر آج کی جدید دنیا کے پاس اس مسئلہ کا حل ہوتا تو وہ ہر سال ماں کا دن (“Mother day”) نہ منا رہی ہوتی۔ آج کی یہ روشن خیال مغربی دنیا بھی عورت کو نہ سکھ دے پارہی ہے اور نہ گھریلو تشدد سے نجات دلا پارہی ہے۔ مسئلہ کا حل کیا ہو؟ وہ روشنی کہاں ہے جس سے گھر اور خاندان روشن ہوں؟ وہ سکھ اور اطمینان کہاں ہے جس سے بچے ڈپریشن سے نجات پاسکیں؟ یہ وہ سوال ہے جو آج صرف پاکستان کے عوام ہی کو نہیں بلکہ ساری انسانیت کو درپیش ہے۔

٭٭٭

Leave a comment

Your email address will not be published.


*