Abd Add
 

چین ۔ روس ’’دوستانہ تعلقات‘‘

اکیس جولائی،چین کے تین بحری جنگی جہازوں نے پہلی دفعہ بحیرہ بالٹک میں روس کے ساتھ مل کر جنگی مشقیں کیں۔دونوں ممالک امریکا کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم مغربی تسلط کے مقابلے کے لیے متحد ہیں، اس کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی ہم نیٹو کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ان جنگی مشقوں کا ایک اور مقصد دنیا کو یہ بتانا بھی تھا کہ چین اور روس کے دوستانہ تعلقات پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط ہیں(۱۹۶۰ ء سے ۱۹۸۰ ء تک یہ آپس میں جنگی حریف رہے ہیں)۔

اس طرح کے اتحاد کے مظاہرے گزشتہ ہفتوں میں کئی بارسامنے آئے ہیں۔ اس ماہ جرمنی میں ہونے والی جی۔۲۰ ممالک کی کانفرنس میں شرکت کرنے سے پہلے شی جن پنگ نے ماسکو میں قیام کیا، جہاں پر روس کے صدر پیوٹن نے روس کا سب سے بڑا اعزازی میڈل (The order of St Andrew) سے نوازا۔ کریملن کے ایک ٹی وی پروگرام کے میزبان Dmitry Kiselev کا کہنا ہے کہ جی۔۲۰ کانفرنس میں صرف دو ہی رہنما تھے جو مکمل طور پر پُراعتماد دکھائی دے رہے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’روس مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے اور چین مغرب میں ماسکو کی جانب محو سفر ہے۔‘‘

۲۰۱۲ء کے بعد سے اب تک چین کے صدر نے سب سے زیادہ جس دارالحکومت کے دورے کیے ہیں، وہ ماسکو ہے۔ ۲۰۱۳ء میں انڈونیشیا میں ایشیا بحر الکاہل خطے کے تمام رہنماؤں کی ایک میٹنگ کے دوران شی جن پنگ نے پیوٹن کی سالگرہ کی نجی تقریب میں شرکت کی۔دونوں نے اچھے ماحول میں گفتگو کی اور اپنے اپنے بزرگوں کے تجربات کا تذکرہ کیا،جنہوں نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا۔پیوٹن کے بزرگ جرمنی کے خلاف جبکہ شی جن پنگ کے بزرگ جاپان کے خلاف لڑے تھے۔۲۰۱۵ء ماسکو میں جنگ بندی کی سترویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی تقریب کے مہمان خصوصی شی جن پنگ تھے۔یوکرین میں ہونے والی جنگ کی وجہ سے مغربی ممالک کے رہنماؤں نے اس تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔اسی طرح چار ماہ بعد بیجنگ میں جاپان کے خلاف فتح کا جشن منانے کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا،جس میں صدر پیوٹن نے شرکت کی۔ امریکا کے اتحادیوں میں سے جنوبی کوریا کے صدر واحد رہنما تھے جنہوں نے اس تقریب میں شرکت کی تھی۔

آمروں کی دوستی

شی جن پنگ اور پیوٹن ایک دوسرے کے آمرانہ انداز حکمرانی کو بہت پسند کرتے ہیں۔چین نے روس سے این جی اوز پرشکنجہ کسنے کے طریقے سیکھے ہیں،جبکہ روس نے چین کی طرح انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں لگائی ہیں۔شی جن پنگ کے حالیہ دورے کے دوران ماسکو میں دونوں صدور نے مارگاریٹا سیمونیان (روس کے ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل کی سربراہ)کی تقریر سنی۔ان کا کہنا تھا کہ روس اور چین نے مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ’’ابلاغی دہشت گردی‘‘ (Media War) کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ممالک کو متحد رہنا ہو گا کیوں کہ صرف ہم مل کر ہی مغربی ذرائع ابلاغ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے روس کے ایک چینل (جو امریکا مخالف ایجنڈے اور یوکرین سے متعلق اپنے موقف کو پیش کرتا ہے)کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنا چینل، چینی زبان میں ذیلی عنوانات کے ساتھ شروع کریں۔ اس چینل کا نام “Katyusha” رکھا گیا ہے جو کہ سوویت کے ایک راکٹ لانچر کا نام ہے۔

یوکرین میں ہونے والے معاملات کے سبب، روس دیگر مغربی ممالک سے الگ ہوکرچین کے مزید قریب آیا ہے۔لیکن دونوں کامریڈ ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات ہیں۔چین کے مقابلے میں روس کو چین کی زیادہ ضرورت ہے۔روس اس غیر متوازی تعلق سے پریشان ہے کیوں کہ اس سے کریملن کی بالادستی پر حرف آتا ہے۔روس بڑھتی ہوئی دفاعی قوت اور معاشی استحکام والے اپنے اس پڑوسی ملک سے محتاط رہتا ہے۔

چین کی بات کی جائے تو اسے روس کی جانب سے اس بات کا ڈرہے کہ کہیں وہ دنیا میں سرد جنگ کے بعد کے حالات کو چیلنج نہ کر دے۔ کیوں کہ چین نے دنیا کی عالمگیریت کا فائدہ روس سے زیادہ اٹھایا ہے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ موجودہ نظام صحیح طریقے سے کام کرتا رہے۔

یوکرین میں روسی مداخلت کے معاملے میں چین کے رویہ پر ہی اگر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ چینی رہنماؤں نے اس معاملے پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ بالکل اسی طرح جیسے روس، چین کے جنوبی سمندر پر متنازعہ جزیروں کے معاملے میں خاموش ہے۔مگر چین نے باضابطہ طور پر روس کے اس عمل کو قبول نہیں کیا ہے۔ ’’کریمیا‘‘ کو روس کے ساتھ شامل ہونے کے لیے جو ریفرنڈم کروایا گیا تھا،وہ بوگس ووٹنگ کا شکارہوگیا تھا۔جس پر چین نے اپنے میڈیا کو سینسر کردینے کا حکم دیا تاکہ ان کی عوام جو تائیوان، تبت اور مغربی شن جیانگ میں موجود ہے، اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ راستہ اختیار کرنے کا نہ سوچیں۔وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ چینی قوم پرست عوام تائیوا ن کو شامل کرنے کے لیے شور مچائیں۔

چین کے لیے امریکا کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کاہونا اہمیت کا حامل ہے۔اس کے مقابلے میں روس کی امریکا کے ساتھ تجارت اتنی اہم نہیں۔روس کے ساتھ تجارت میں چین کے لیے، تیل اور گیس کی اہمیت زیادہ ہے۔گزشتہ سال روس نے چین کو تیل درآمد کرنے والے ممالک میں انگولا اور سعودی عرب کوبھی پیچھے چھوڑ دیا۔۲۰۱۴ء میں رو س اورچین نے ۴۰۰؍ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔جس کے تحت سائبیریا کے دو آئل پمپنگ اسٹیشن سے چین کو گیس دی جائے گی۔ ترسیل کا آغاز دسمبر ۲۰۱۹ء سے متوقع ہے۔مگر اکثر اوقات اس پرتوانائی کی فراہمی کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کا مثبت نتیجہ سامنے نہیں آتا۔روس مغربی سائبیریا سے یورپ جانے والی تیل اور گیس کی پائپ لائن کا رخ چین کی طرف موڑنا چاہتا ہے۔مگر ابھی تک نئی پائپ لائنز کے فنڈز پر دونوں ممالک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔گیس کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے چین اس کی تعمیر پر آنے اخراجات اٹھانے سے گریز کر رہا ہے۔

چین کے لیے روس سے اسلحہ کی بر آمدات دوسرااہم معاملہ ہے۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اب تک روس نے چین کو ۳۲؍ارب ڈالر کا اسلحہ دیا ہے، جو کہ چین کے اسلحہ کی کل در آمدات کا ۸۰ فیصد بنتا ہے۔حال ہی میں چین نے روس سے جدید ’’ایس- ۴۰۰میزائل‘‘ اور ’’سخوئی ۱۰۰- ۳۵ جنگی طیارے‘‘ خریدے ہیں۔ کریملن کو کسی زمانے میں اس بات کا خوف تھا کہ چین کہیں ان کی ٹیکنالوجی کو ’’ریورس انجینئر‘‘ نہ کرے، مگر ماسکو کے کارنیگی سینٹر کے Alexander کا کہنا ہے کہ چین کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کا سفر رکنے والا نہیں۔روس اس ذریعے سے تجارت کر رہا ہے اور چین کو اب بھی اسلحہ خریدنے میں دلچسپی ہے نہ کہ خود بنانے میں۔روس کا انداز تزویراتی نہیں،بلکہ منافع بخش تجارت کا ہے۔وہ چین کے دشمن، بھارت اور ویتنام کو بھی اسلحہ فروخت کرتاہے۔

روس کو عالمی منڈی تک رسائی حاصل ہے۔ روس کے لیے چین ایک بنیادی ذریعہ ہے فنڈز حاصل کرنے کا۔ Gennady Timchenko اور صدر پیوٹن کے داماد Mr. Timchenko، “Sibur” کمپنی کے مشترکہ مالک ہیں۔ دسمبر ۲۰۱۵ء میں اس کمپنی نے اپنے ۱۰؍فیصد حصے چینی کمپنی ’’سینوپیک‘‘ کو ایک اشاریہ تین ارب ڈالر میں فروخت کر دیے تھے۔گزشتہ سال Sibur نے ایک دفعہ پھر اپنے ۱۰؍فیصد حصص چینی شاہراہ ریشم فنڈز کو دیے ہیں۔

چینی رہنماؤں کے مطابق یہ توانائی و اسلحہ کی ترسیل جا ری رکھنے کی قیمت ہے، جو وہ ادا کر رہے ہیں۔ایک چینی ماہر کے مطابق ’’چین کے لیے، روس کی معاشی اہمیت اس کی فوجی اہمیت سے زیادہ ہے‘‘۔اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے روس کو بنیادی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہوگی،جو کہ صدرپیوٹن کی موجودگی میں ممکن نہیں لگ رہی۔چین کے نجی سرمایہ کار،روس سے اس ہی لیے دور بھاگتے ہیں کہ وہاں قانونی حقوق اور جائیداد کے قوائد و ضوابط موجود نہیں۔چین میں ایک سینئر روسی بینکر کا کہنا ہے کہ ’’روس کا سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ ان تعلقات کے ذریعہ سے کیا حاصل کرنا ہے۔ ہماری حکومت کو چینیوں کے بغیرچین کی دولت چاہیے۔‘‘

چین کو روس سے کوئی خطرہ نہیں، وہ روس کو کمزور اور بتدریج تنزلی کا شکار ہوتے دیکھ رہا ہے۔ امریکا کا بھی یہی خیال ہے۔ مگر امریکا نے جہاں روس کو نظر انداز کیا ہے وہاں چین نے اس کے برعکس رویہ اپنایا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ تنزلی کے شکار طاقتور ملک کو مزید توجہ دینی چاہیے۔ روس پہلے ہی مغرب کے لیے درد سر ہے، وہ نہیں چاہتے کہ ان کے لیے بھی ایسا ہو۔

تاریخ سے انہوں نے سیکھا ہے کہ رو س ان کے لیے کتنا بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔۱۹۵۰ء میں ماؤ اور سٹالن نے جس مضبوط دوستی کی بنیاد رکھی تھی، وہ بیس سال سے بھی کم عرصے میں ایک جنگ کے نتیجے میں اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ FU Ying، سابق چینی سفارت کارجو کہ اب رکن پارلیمان ہیں، ماضی کی یادیں بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ اپنی نوجوانی میں روس سے متصل (۲۶۰۰ میل طویل)چینی سرحد کے قریب رہتی تھیں،جہاں چینی اور روسی افواج آمنے سامنے ہوتی تھیں اور ہر وقت جنگ کے بادل منڈلاتے رہتے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ بات کہ ہم آپس میں دوست ہو سکتے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں،بہت معنی خیز معلوم ہوتی ہے‘‘۔

روس بھی چین کے دباؤ میں رہتا ہے۔ مشترکہ جنگی مشقیں ہونے کے باوجود روس نے چین سے ممکنہ تنازع سے نبرد آزما ہونے کے لیے علیحدہ طور پر مشقیں کی ہیں۔ روس کے بعض جنگی ماہرین کے مطابق چین، روس کے کچھ مشرقی حصوں کا دعویدار ہے، جس میں Vladivostok کا علاقہ بھی شامل ہے۔

دونوں ممالک وسط ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ چاہتے ہیں۔جہاں چین سابق سوویت یونین ریاستوں (ازبکستان کے علاوہ)کے لیے اہم تجارتی ملک اور خطے کاسب سے بڑا سرمایہ کار بن چکا ہے۔روس اپنے آپ کو وسطی ایشیا کی مضبوط فوجی و سیاسی قوت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ چین کی توجہ مستحکم معیشت پر ہے۔شی جن پنگ کا ’’بیلٹ اور روڈ منصوبہ‘‘ انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کے ذریعے وسط ایشیا میں چین کی سیاسی بالا دستی قائم کرنے کا موجب ہو گا۔

روس اور چین میں ہم آہنگی کے نہ ہونے کا ثبوت مشرقی روس میں ملتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک وہاں کے باسی اپنی بڑھتی ہوئی دولت کو چین میں خرچ کیا کرتے تھے۔لیکن روسی کرنسی اور معیشت کمزور ہو گئی ہے۔اور وہاں کے لوگ امیر چینیوں کی جانب سے خرچ کی جانے والی رقوم پر انحصار کرتے ہیں۔اور یہان شاہ خرچ چینی سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ Vladivolstok میں ایک ٹریول ایجنٹ کے مطابق شہر میں چینیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے معیاری کمرے کا ملنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔سڑکوں پرنوجوان روسی انہیں سوویت یونین کے پرانے سکے اور بینک نوٹ بیچنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وہاں کے رہایشی چین کے مقابلے میں اپنے ملک کی حالت دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

(ترجمہ: عبدالرحمن)

“Xi Jinping and Vladimir Putin behave like the best of buddies”. (“Economist”. July 27, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.