جنوبی ایشیا میں چین کی پیش قدمی!

جنوبی ایشیا کے حالیہ دورے میں چین کے صدر شی جِن پِنگ (Xi Jinping) علاقائی ممالک کو بھرپور تعاون کا یقین دلانے کے معاملے میں حد سے آگے نکل گئے۔ مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں اُنہوں نے سمندر میں شاہراہِ ریشم کی بات کہی۔ مقصود یہ ہے کہ بحر ہند کے راستے تجارت کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے چند تحائف کا بھی ذکر کیا۔ مثلاً ایک بڑے برج کے لیے فنڈز اور ایک ٹورسٹ ایئر پورٹ آپریٹ کرنے کا وعدہ۔ مالدیپ جیسے چھوٹے سے ملک کے لیے یہ بات اعزاز سے کم نہیں کہ چار عشروں میں پہلی بار ایک چینی لیڈر نے قدم رنجہ فرمایا ہے۔ اس دورے سے سیاحت کی صنعت کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔ یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ دنیا بھر میں سیاحوں کی ایک تہائی تعداد چینیوں پر مشتمل ہے۔

مالدیپ کے بعد شی جن پنگ سری لنکا گئے۔ وہاں ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔ ۱۶ ستمبر کو کولمبو میں اسکول کے ہزاروں طلبا و طالبات نے سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر چینی صدر کو خوش آمدید کہا۔ چینی صدر کے استقبال کی تیاریوں کے وقت یہ بات ملحوظ رکھی گئی تھی کہ ہاتھی اُن کا پسندیدہ جانور ہے، اِس لیے ۴۰ ہاتھیوں کو سجاکر سڑکوں پر لایا گیا تھا۔ سری لنکن صدر مہندرا راجا پاکسے کے حکمراں خاندان کے چین سے قریبی تجارتی، سفارتی اور دفاعی تعلقات ہیں۔ اب امید کی جاتی ہے کہ چین اور سری لنکا کے درمیان عوام کی سطح پر بھی رابطے بہتر ہوں گے اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔ چینی صدر اُن جوا خانوں میں نہیں گئے جو چین سے آنے والے شوقینوں کو لُبھانے کے لیے ۲۴ گھنٹے کھلے رہتے ہیں اور اس حوالے سے چارٹر فلائٹس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر ہاں، شی جن پنگ نے وعدہ کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو کولمبو ضرور بھیجیں گے۔ چینی صدر اور ان کے ساتھ آنے والے ۲۰۰ کاروباری افراد نے یقین دلایا کہ وہ سری لنکا کے ایک ساحلی علاقے کو نئے شہر میں تبدیل کریں گے۔ ۱۳۰؍کروڑ ڈالر کی لاگت سے بسائے جانے والے شہر میں نئی بندرگاہ بھی ہوگی۔

کولمبو کے پہلو میں نیا قصبہ بسانے کا ارادہ صدر راجا پاکسے کے آبائی علاقے ہمبنٹوٹا (جنوبی سری لنکا) میں ایک بندرگاہ کے علاوہ ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد سری لنکا کو علاقائی تجارت کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ چینی قرضوں کی مدد سے جو منصوبے شروع کیے جارہے ہیں اگر اُن کی وصولی نہ ہو پائی تو کیا ہوگا؟

سری لنکا میں کچھ لوگ چین کے بڑھتے ہوئے عمل دخل سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سرکاری اعانت سے چلنے والے چین کے کاروباری ادارے اہم زمینوں پر قبضہ کریں گے اور بہت سے اہم اسٹریٹجک اثاثوں پر بھی ان کا تصرف قائم ہو جائے گا۔ چند ایک مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین جتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، اُس کے تناظر میں اس کا عمل دخل بھی سری لنکا میں غیر معمولی حد تک بڑھ جائے گا۔ چینی صدر اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ سری لنکا کے معاملات میں چین مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس حوالے سے علاقائی رہنماؤں اور پریس کو خطوط بھی لکھے ہیں۔ ان خطوط میں انہوں نے لکھا ہے کہ چین کے لیے کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا، عدم مداخلت کی اُس مقدس پالیسی کے منافی ہے جس پر صدیوں سے عمل کیا جارہا ہے۔

بھارت میں بھی بہت سے لوگوں نے سری لنکا اور دیگر علاقائی ممالک میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بہت پریشانی کے ساتھ دیکھا ہے۔ چین جب بھی علاقے میں کوئی ایسا قدم اٹھاتا ہے، بھارتی سفارت کاروں کی پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ سیاسی حالات کی خرابی کے باعث جب صدر شی جن پنگ نے اسلام آباد کا دورہ ملتوی کیا تو بھارتی قیادت اور سفارتی حلقے نے سکون کا سانس لیا۔

پاکستان کا دورہ ملتوی ہونے پر جب شی جن پنگ نے بھارت میں قدم رکھا تو ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی چونکہ کاروباری ذہن رکھتے ہیں، اِس لیے وہ چاہتے ہیں کہ چین سے بھارت کے تجارتی روابط بہتر ہوں اور دونوں ممالک کے درمیان صرف تجارت ہی فروغ نہ پائے بلکہ سرمایہ کاری کا گراف بھی بلند ہو۔ نریندر مودی نے چین سے تعلقات میں پائی جانے والی تلخیوں کو بھلاکر بہتر مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک ماضی کی ہر تلخی بھلادیں اور صرف مستقبل پر نظر رکھیں۔ شی جن پنگ اور نریندر مودی پر دو طرفہ تعلقات کا مدار ہے۔ دونوں رہنماؤں میں غیر معمولی اعتماد پایا جاتا ہے اور دونوں کو اس بات کا بھرپور یقین ہے کہ وہ ابھی طویل مدت تک اقتدار میں رہیں گے۔

نریندر مودی نے چینی صدر شی جن پنگ کا اپنی آبائی ریاست گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد میں استقبال کیا۔ دریائے سابر متی کے کنارے چینی صدر کی شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا جس میں ۱۵۰ سے زائد ڈشیں رکھی گئیں، تمام ڈشیں سبزیوں سے بنی ہوئی تھیں۔ اس شاندار ضیافت کا مقصد چینی صدر کو احساس دلانا تھا کہ بھارت ان کے ملک کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ نریندر مودی چاہتے ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور کاروبار کے زیادہ سے زیادہ مواقع ان کے ملک میں آئیں۔ وہ بھارتی معیشت کو ہر حال میں اوپر لے جانا چاہتے ہیں۔ بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں چینیوں کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری اب تک ۴۰ کروڑ ڈالر سے زیادہ نہیں۔ مودی چاہتے ہیں کہ سرمایہ کاری کا گراف بلند ہو۔ بھارتی پریس میں یہ بات آرہی ہے کہ چند برسوں میں چین بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں ۱۰۰؍ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرچکا ہوگا۔ یہ تو خیر مبالغہ ہے مگر مودی چاہتے ہیں کہ پانچ برس میں چینیوں کی بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کم و بیش ۲۰؍ارب ڈالر کے ہدف تک تو پہنچے۔ شی جن پنگ نے یقین دلایا کہ چینی ادارے گجرات کے بزنس پارکس میں کھل کر سرمایہ کاری کریں گے۔ کارپوریٹ لیڈرز نے بھی اربوں ڈالر کے سودوں کی بات کہی۔ یہ سب کچھ اب تک باتوں کی حد تک ہے۔ دونوں ممالک کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے پر حقیقی اعتماد رکھتے ہیں اور کسی بھی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہوکر بہتر زندگی کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہیں۔

چین اور بھارت، دونوں ہی جانتے ہیں کہ ماضی کے مناقشے کبھی نہیں مرتے اور جہاں ذرا بھی موقع ملتا ہے، وہ اُبھر آتے ہیں۔ دونوں کو بہت ہی احتیاط سے آگے بڑھنا ہوگا۔ دو طرفہ تجارت ۷۰؍ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے مگر یہ اتنی حوصلہ افزا نہیں، جتنی دکھائی دیتی ہے۔ تجارت کا توازن خطرناک حد تک چین کے حق میں ہے۔ بھارتی امپورٹرز چین سے تیار شدہ اشیا درآمد کرتے ہیں جبکہ چینی تاجر بھارت سے خام مال منگواتے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ چین انفارمیشن ٹیکنالوجی، سروسز اور فارماسیوٹیکلز سمیت کئی سیکٹرز کھولے۔

بھارت اور چین کے درمیان پچاس سال سے سرحدی تنازع چلا آرہا ہے۔ بھارتی عوام کے ذہنوں میں یہ سب کچھ اب تک تازہ ہے۔ دونوں ممالک نے ۱۹۶۲ء میں سرحدی جنگ لڑی تھی جس میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق ۵۶ فیصد بھارتیوں کی نظر میں چین ایک بڑا خطرہ ہے۔ صرف پاکستان اِس معاملے میں چین سے آگے ہے۔ جب نریندر مودی اپوزیشن میں تھے، تب وہ بھی چین سے سرحدی تنازع کو اپنے ووٹ بینک کے استحکام کے لیے خوب استعمال کرتے تھے۔ چین بھارت تعلقات کے حوالے سے بھارت میں عمومی رویہ اُسی وقت تبدیل ہوگا، جب دونوں ممالک اپنے تمام اختلافات اور بالخصوص سرحدی مناقشے کو عمدگی سے طے کریں۔ جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے، شکوک و شبہات رہیں گے اور معاملات خرابی کی زد میں رہیں گے۔ اس معاملے میں غیر معمولی تیزی سے بہتری کی توقع نہیں رکھی جانی چاہیے۔ مگر ہاں، دونوں ممالک کو اپنے معاملات درست کرنے کے عمل کا بھرپور انداز سے آغاز کردینا چاہیے۔ حال ہی میں چین کے سیکڑوں فوجیوں نے بھارت کے زیر تصرف کشمیر کی طرف پیش قدمی کی۔ اگر مودی آج اپوزیشن میں ہوتے تو اِس اقدام کے بارے میں ڈھول پیٹ کر اپنے ووٹ بینک کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرتے۔ نریندر مودی اور شی جن پنگ نے سرحدوں کے از سر نو تعین پر زور دیا ہے۔ اس معاملے میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی طرح کی خرابی کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔

چینی صدر کے دورۂ بھارت سے دونوں ممالک کو بہتر تعلقات کی طرف بڑھنے میں مدد ملے گی۔ مودی چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنی سرحدوں کو سیاحوں کے لیے بھی کھولیں تاکہ عوامی سطح پر بھی رابطے بہتر ہوں اور دونوں ممالک تعلقات بہتر بنانے کی طرف جائیں۔ دونوں ممالک کو ٹرانسپورٹ لنکز بھی بہتر بنانے ہوں گے۔ سڑک کے راستے اور فضائی سفر کی سہولتیں بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ بھارت کا ابھرتا ہوا متوسط طبقہ بھی چین کو سیاحتی مقام کی حیثیت سے دیکھنے میں کوئی الجھن محسوس نہیں کرے گا۔

چین میں بودھ ازم کے ماننے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ بودھ ازم کا آغاز اُن علاقوں سے ہوا تھا، جہاں آج بھارت اور پاکستان قائم ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان زمانۂ قدیم سے مذہبی روابط رہے ہیں۔ چین سے بہت سے مشہور سیاح بھارت آئے اور سفر کا احوال بھی لکھا۔ دونوں ممالک کی آبادی غیر معمولی ہے۔ نوجوانوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ نوجوانوں کے گروپوں کو ایک دوسرے کے ہاں جانے کی اجازت دینے سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، بالخصوص طلبہ و طالبات کی سطح پر۔

“Xi Jinping’s progression”.
(“The Economist”. Sept. 20, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*