حضرت عیسیٰؑ کے زمانے کی زبان کے احیا کی کوشش

اسرائیل میں دو چھوٹے دیہات کے رہنے والے عیسائی آرمائک (Aramaic) زبان کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ در اصل ان زبانوں کے احیا کی خواہش کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بولا کرتے تھے۔ ان زبانوں کو مشرقِ وسطیٰ سے مِٹے ہوئے بھی صدیاں بیت چکی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے صدیوں پہلے اپنا اثر کھو دینے والی زبانوں کے احیا کے مشن کو زندگی بخشی ہے۔ سوئیڈن میں آرمائک زبان کا ایک چینل کام کر رہا ہے۔ یہ چینل اور چند ویب سائٹس ان لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں جو آرمائک زبان بولنے میں اس قدر دلچسپی لیتے ہیں کہ انہوں نے اب بھی اس قدیم زبان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں بیت اللحم (Bethlehem) کے نزدیک بیت جلا (Beit Jala) ایک ایسا گاؤں ہے جس میں بہت سے بزرگ آرمائک زبان کو اپنے بیٹوں اور پوتوں پوتیوں تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیت الحم ہی وہ مقام ہے جہاں حضرت عیسٰی علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اور ان کے زمانے میں آرمائک بولی جاتی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جن علاقوں میں دین کی تبلیغ کی، اُن میں عرب اور اسرائیلی آبادی والا گاؤں جش (Jish) بھی شامل ہے۔ اب اس علاقے میں ایک ایلیمینٹری اسکول میں بچوں کو آرمائک میں تعلیم دی جارہی ہے۔ اس اسکول میں پڑھنے والے بیشتر بچوں کا تعلق میرونائٹ عیسائیوں سے ہے۔ میرونائٹ عیسائی آج بھی اپنی بیشتر رسوم آرمائک زبان ہی میں ادا کرتے ہیں، گو کہ کم لوگ ہی اسے سمجھ پاتے ہیں۔ دس سالہ کارلا حداد کہتی ہے ’’ہم وہ زبان دوبارہ بولنا اور پھیلانا چاہتے ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام بولا کرتے تھے۔‘‘ کارلا اسکول میں سب کچھ بہت تیزی سے سیکھ رہی ہے۔ آرمائک زبان میں اس کی دلچسپی غیر معمولی ہے۔

بچوں کو آرمائک زبان پڑھانا، لکھانا اور سکھانا آسان نہیں۔ انہیں بولنے کی مشق بھی کرائی جاتی ہے۔ آرمائک رسم الخط کی مشق بھی کرائی جاتی ہے تاکہ بچے زبان کو پوری توجہ اور باریکیوں کے ساتھ سیکھ سکیں۔

مقبوضہ بیت المقدس کی ہبریو یونیورسٹی میں آرمائک زبان کے ماہر اسٹیون فیسبرگ (Steven Fassberg) کہتے ہیں: ’’بیت جلا اور جش میں جو بولی لوگ بولتے ہیں وہ سیریک ہے۔ یہ اس زبان سے ملتی جلتی ہے جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانے میں بولی جاتی تھی اور جو خود حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی بولا کرتے تھے‘‘۔

جش میں پہلی سے پانچویں کلاس تک کے ۸۰ بچے ہفتے میں دو گھنٹے آرمائک زبان کی کلاس لیتے ہیں۔ اسکول کے پرنسپل ریم خطیب زوابی کہتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت آٹھویں کلاس تک کی تعلیم کے لیے فنڈ فراہم کرتی ہے۔ آرمائک زبان کے احیا کا خیال چند سال پہلے ابھرا تھا۔ مسلمانوں نے یہ سوچ کر مخالفت کی تھی کہ شاید یہ ان کے بچوں کو عیسائی بنانے کی سازش ہے۔ دوسری طرف بہت سے عیسائی بھی یہ سوچ کر اس کے مخالف ہوگئے کہ شاید ان کی عرب شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ معاملہ اسرائیل میں آباد مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے بہت حساس تھا کیونکہ دونوں ہی مذہب سے زیادہ نسلی اور ثقافتی شناخت کو بنیاد بناکر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ریم خطیب زوابی سیکولر مسلم ہیں۔ انہوں نے تمام خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آرمائک زبان کی تدریس شروع کروائی۔

جش ایلیمینٹری اسکول اسرائیل کا واحد اسکول ہے جس میں آرمائک زبان کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ریم خطیب زوابی کا کہنا ہے کہ اپنے تاریخی ورثے پر فخر ہونا چاہیے اور آرمائک زبان اسی جذبے کے تحت سیکھی اور سکھائی جارہی ہے۔ سیرین آرتھوڈوکس چرچ میں بھی اب آرمائک سیکھنے کی لگن پیدا ہوتی جارہی ہے۔ یہ چرچ بیت اللحم کے مینگر اسکوائر سے چند کلومیٹر دور ہے۔ پانچ سال میں پادریوں نے ۳۲۰ طلبا کو آرمائک سکھائی ہے۔

۱۹۲۰ء میں ترکی کے علاقے تر عابدین (Tur Abdin) سے نقل مکانی کرنے والے ایسے ۳۶۰ گھرانے اس علاقے میں آباد ہیں جن میں آرمائک زبان بولی جاتی ہے۔ پادری بطروس نیمے کہتے ہیں کہ معمر افراد تو آرمائک بولتے ہیں مگر نئی نسل اس سے نابلد ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بچوں کو آرمائک زبان سکھانے کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے اجداد اور روایات کے بارے میں زیادہ سنجیدگی اور محبت سے سوچیں گے۔

سیرین آرتھوڈوکس اور میرونائٹ چرچ، دونوں ہی آرمائک زبان میں عبادت کرتے ہیں مگر ان میں عقائد کا واضح فرق ہے۔ لبنان میں میرونائٹ عیسائی بڑی تعداد میں ہیں مگر مقدس سرزمین کے ۲ لاکھ ۱۰؍ ہزار عیسائیوں میں ان کا تناسب برائے نام ہے۔ مقدس سرزمین پر سیرین آرتھوڈوکس عیسائیوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ اسرائیل میں مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ اور غرب اردن میں ساٹھ ہزار عیسائی آباد ہیں۔

مشرق وسطیٰ سے نقل مکانی کرنے والے جو عیسائی اور مسلمان آرمائک زبان بولتے ہیں انہوں نے سوئیڈن میں اپنی کمیونٹی مضبوط کی ہے۔ سیریک آرمائک فیڈریشن آف سوئیڈن کی چیئرپرسن آرزو الان (Arzu Alan) کہتی ہیں: ’’یہ لوگ ایک ٹی وی چینل ’’سوریو یوسات‘‘ (Soryoyusat) کے علاوہ چند ویب سائٹس بھی چلاتے ہیں۔ بچوں کی کتابیں شائع کرنا بھی ان کا ایک بنیادی کام ہے‘‘۔

سوئیڈن کے ٹاپ ڈویژن میں قصبے سودرتیلے (Sodertalje) سے تعلق رکھنے والی ایک فٹبال ٹیم بھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آرمائک زبان بولنے والوں کی تعداد ۳۰ ہزار سے ۸۰ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ مقدس سرزمین پر آباد سیرین آرتھوڈوکس اور میرونائٹ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ سوئیڈن کے آرمائک ٹی وی چینل کے ذریعے انہوں نے عشروں میں پہلی بار چرچ سے باہر اس زبان کو سُنا اور پھر انہیں اس زبان کے احیا کی تحریک ملی اور انہوں نے کمیونٹی سے باہر بھی آرمائک زبان کو ترویج دینے کا سلسلہ شروع کیا۔

فیسبرگ کا کہنا ہے کہ ڈھائی ہزار سال پہلے سے لے کر چھٹی صدی عیسوی تک اس خطے میں آرمائک زبان بولی جاتی تھی۔ عربوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد فتوحات کا سلسلہ شروع کیا، تب عربی زبان کو تیزی سے فروغ ملا اور آرمائک، عبرانی اور دیگر زبانوں کا اثر گھٹتا چلا گیا۔ چند ایک کمیونٹیز میں یہ زبان زندہ رہی اور انہوں نے عبادات اسی زبان میں ادا کرکے اسے کسی نہ کسی حیثیت میں زندہ رکھا۔

ترک دریائی جزیرے زاخو (Zakho) پر آباد کرد یہودیوں نے ۱۹۵۰ء کے عشرے میں اسرائیل میں سکونت اختیار کی۔ وہ آرمائک زبان ہی بولا کرتے تھے۔ بیت اللحم کے قرب و جوار میں کئی اساتذہ کو یقین ہے کہ وہ آرمائک زبان کا مکمل احیا نہ بھی کرسکیں تو کم از کم زبان کو سمجھنے والے کچھ لوگ ضرور تیار کر لیں گے۔ آرمائک کی کلاس میں طلبہ کی تعداد بڑھتی گھٹتی رہتی ہے مگر اس کے باوجود اب تک کہیں بھی مایوسی نہیں۔ سب پُرامید ہیں کہ ایک مرتی ہوئی زبان کو کسی حد تک زندہ رکھنے میں کامیاب ضرور ہوں گے۔

(“Attempts to Revive Language Spoken in Jesus’ Time”…AP. May 28th, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*