صاف پانی میسر نہیں!

صاف پانی میسر نہیں!

٭ وسیع و عریض قومی بجٹ میں سے صرف ۴۱۲۸ ملین روپے صحت کے لیے مختص ہوئے۔

٭ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم کل GDP کا صرف ۳۷۵ء۰ فیصد ہے۔

٭ گذشتہ بجٹ میں یہ رقم GDP کا ۸۴ء۰ تھی۔

٭ ۲۰۰۴ء کے اقتصادی سروے کے مطابق:

۱۰۷,۲۵ افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر۔

۱۲۷,۶ ڈینٹسٹ۔

۴۴۶,۴۸ تربیت یافتہ نرسیں۔

ملک بھر میں ۹۱۶ سرکاری اسپتال۔

۵۴۴ دیہی صحت کے مراکز۔

۵۳۰ بنیادی صحت کے یونٹ۔

۵۸۲,۴ ڈسپنسریاں۔

٭ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام U.N.D.P. کی سالانہ رپورٹ کے مطابق:

پاکستان‘ علاقے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سب سے پیچھے ہے۔

پاکستان میں اوسط عمر تقریباً ۶۱ سال جبکہ بھارت میں ۹ء۶۳ اور بنگلہ دیش میں ۶ء۶۱ سال ہے۔

پاکستان میں نومولود بچوں کی شرح اموات ۸۳ فی ہزار زندہ پیدائش ہے جبکہ بنگلہ دیش میں ۵۱ فی ہزار۔

بچے کی پیدائش کے وقت مرنے والی مائوں کی تعداد ۵۳۰ فی لاکھ خطرناک حد سے بھی زیادہ ہے۔

٭ انسانی حقوق کمیشن HRCP کے مطابق پاکستان میں:

۵ سال سے کم عمر کے ۳۸ فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

۱۲ فیصد مائیں ناقص غذائیت کا شکار ہیں۔

غیرسرکاری اندازے کے مطابق ۵۰ فیصد آبادی کو صاف پانی مہیا نہیں ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*