صدیوں سے ’شناخت سے محروم‘ اراکانی مسلمان

برما کے صوبے اراکان میں آباد روہنگیا مسلمان خدا جانے کون سا مقدر لے کر اس دنیا میں آئے ہیں کہ ان کی پریشانیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ برمی حکومت انہیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہیں۔ کئی صدیوں سے وہ اپنی شناخت کے لیے متحرک رہے ہیں مگر اب تک کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔ روہنگیا مسلمان ہر دور میں جبر و استبداد کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ ان پر ان کی اپنی ہی زمین تنگ کردی گئی ہے۔ برمی حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سرزمین کو اپنالیں اور بنگلہ دیش ان کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اراکانی مسلمانوں کی شناخت کا مسئلہ کسی طور حل ہوکر نہیں دے رہا۔ برطانوی اخبار ’’گارجین‘‘ نے لکھا ہے کہ اراکانی مسلمان کسی بھی حالت میں قبول کیے جانے کے قابل قرار نہیں پا رہے۔ برمی اور بنگلہ دیشی حکومت نے اُنہیں شٹل کاک بنا رکھا ہے۔

اراکان میں ’’رکھنے‘‘ نسل کے بدھ باشندے مسلمانوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ آئے دن مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر موت کے گھاٹ اتارتے اور ان کی املاک کو تلف کرتے ہیں۔ اس مذموم کام میں انہیں ریاستی مشینری کی بھرپور مدد حاصل ہوتی ہے۔ گزشتہ ماہ ایک بار پھر روہنگیا مسلمانوں پر ان کی اپنی سرزمین تنگ کرنے کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ دو عشروں سے جاری کریک ڈاؤن کے اس تازہ باب میں مزید تیس ہزار روہنگیا مسلمانوں کو گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش کی طرف نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا۔ گارجین لکھتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر قتل کیا گیا۔ ان کے مکانات کو آگ لگادی گئی اور سامان لوٹ لیا گیا۔ جب انہوں نے حکومت سے مداخلت کی درخواست کی تو ٹکا سا جواب ملا اور شر پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔

بنگلہ دیشی حکومت بھی اس معاملے میں کم سفاکی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ ہزاروں روہنگیا مسلمانوں نے برمی حکومت کی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے مظالم سے تنگ آکر جب خستہ حال کشتیوں میں بنگلہ دیش کا رخ کیا تو انہیں سرحدی محافظین نے واپس دھکیل دیا۔ پہلی دو تین کشتیوں میں سوار افراد کو تو بنگلہ دیشی ساحل پر اُترنے دیا گیا مگر جب پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد بڑھ گئی تو اُن کے مسائل اور مصائب کی پروا کیے بغیر اُنہیں واپس بھیجا جانے لگا۔ بنگلہ دیشی حکومت کو اِس معاملے میں بین الاقوامی قوانین کا بھی احساس نہیں۔ جن لوگوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہو انہیں پناہ دینے سے انکار، اُن پر موت کے دروازے دوبارہ کھولنے کے مترادف ہے۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن نے بنگلہ دیشی حکومت کو بارہا تعاون کی پیشکش کی ہے مگر اب تک مثبت جواب نہیں ملا۔ اِس کا ایک بنیادی سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اپنے ہاں مقیم تقریباً دو لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو پناہ گزین کا درجہ دینا نہیں چاہتی کیونکہ اُسے خدشہ ہے کہ پناہ گزینوں کو باضابطہ سہولتیں ملنے کی صورت میں برما سے مزید روہنگیا مسلمان بنگلہ دیشی سرزمین پر آباد ہونے میں کشش محسوس کریں گے۔ اُس نے روہنگیا مسلمانوں کو دوبارہ بسانے اور تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے معاملے میں اشتراکِ عمل کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے کروڑوں ڈالر کی پیشکش بھی مسترد کی ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے تعاون سے ۹۰۰ روہنگیا مسلمانوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کیا مگر پھر اِس سلسلے کو آگے بڑھانے سے معذرت کرلی۔ شیخ حسینہ واجد کی حکومت نہیں چاہتی کہ برما کے روہنگیا مسلمان اُس کی سرزمین کو مستقبل کے حوالے سے پُرکشش محسوس کریں۔

دوسری طرف برما میں حالت یہ ہے کہ ایک ماہ کے دوران کم و بیش ۱۰۰ ؍روہنگیا مسلمان موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں۔ ۹۰ ہزار سے زائد مسلمان بے گھر ہوچکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے دارالحکومت ینگون کے نواح میں کیمپوں میں پڑے ہیں۔ حکومت ان کی دوبارہ آباد کاری کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ اراکان کے بیشتر علاقوں میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے۔ مسلمان اپنے گھروں میں دوبارہ آباد ہونے کو تیار نہیں۔ ’رکھنے‘ نسل کے باشندے اُنہیں آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد ہونے نہیں دے رہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاستی مشینری بھی اُن کی بھرپور سرپرستی کر رہی ہے۔ یہ صورت حال حکومت کے لیے انتہائی شرمناک ہے مگر اُس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ینگون حکومت نے اب تک بے گھر ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے کسی جامع پروگرام کا اعلان نہیں کیا۔ بے گھر ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جن پر زندگی دشوار ہوگئی ہے۔ انہیں خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ گارجین لکھتا ہے کہ معیشت تباہ ہو جانے سے روہنگیا مسلمانوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور صحت کا مسئلہ بنیادی ہے۔ سر پر چھت نہیں۔ ہزاروں خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مون سون کی بارش سے اُن میں وبائی امراض بھی پھوٹ سکتے ہیں۔ حکومت نے اب تک ان کی بھرپور امداد کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے مسائل سُننے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی ہے۔

برما میں روہنگیا مسلمان صدیوں سے آباد ہیں۔ بنگلہ دیشی مورخ عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں عرب تاجروں نے برما کا رخ کیا تھا۔ تب ہی سے اس خطے میں مسلمان آباد ہیں۔ اراکان اور دیگر علاقوں میں مسلمان چونکہ صدیوں سے آباد ہیں اس لیے علاقے کی ثقافت پر اِس کے نمایاں اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ تقریباً ایک ہزار سال سے اِس خطے میں آباد ہونے کے باوجود مسلمان اپنی شناخت سے محروم ہیں۔ برما نے ۱۷۸۴ء میں اراکان کو اپنے علاقے میں جذب کرلیا مگر مسلمانوں کو قبول کرنے سے انکاری رہا۔ روہنگیا مسلمانوں نے اپنی شناخت منوانے کے لیے انتھک جدوجہد کی ہے مگر اب تک انہیں عالمی برادری کا بھرپور اور خاطر خواہ تعاون حاصل نہیں ہوسکا۔ اِس حوالے سے بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برمی مسلمانوں کی مشکلات کا تدارک ہو اور وہ سُکون کے ساتھ باعزت زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکیں۔

بنگلہ دیش میں قیام پذیر دو لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان اب بھی پناہ گزین کا درجہ دیے جانے کے منتظر ہیں۔ اگر بنگلہ دیشی حکومت اُنہیں پناہ گزین کا درجہ دینے کو تیار ہو تو کئی بین الاقوامی ادارے ان کی بھرپور معاونت کے بارے میں پروگرام تشکیل دینے کا سوچیں۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی جانب سے یہ عندیہ دیا جاچکا ہے کہ اگر بنگلہ دیشی حکومت انہیں باضابطہ تسلیم کرلے تو مختلف پروگرام تشکیل دے کر ان کی مدد کے لیے فنڈ دیے جاسکتے ہیں۔

گارجین لکھتا ہے کہ عالمی برادری کو برما اور بنگلہ دیشی کی حکومتوں پر زور دینا چاہیے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے مقدر سے کھلواڑ کرنے کے بجائے انہیں ان کے آبائی علاقے میں بسانے کے لیے بات چیت کریں، کسی سمجھوتے کو یقینی بنائیں۔

(“Burma’s Rohingya Refugees find little Respite in Bangladesh”… “Guardian”. June 29th, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*