Abd Add
 

عدم رواداری کے لیے رواداری

انڈونیشیا میں مذہبی بنیاد پر تشدد کو فروغ مل رہا ہے۔ مئی کے دوران کئی مقامات پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کی چند مذہبی رسوم کے دوران مسلمانوں نے گرجا گھروں پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں بھی حملے کیے گئے۔ دارالحکومت جکارتہ کے نواح میں بھی ایک چرچ پر حملہ کیا گیا۔ بہت سے عیسائیوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شمالی سماٹرا میں بنیاد پرست مسلمانوںکی اکثریت والے صوبے آچے میں ۱۶؍گرجا گھر اجازت نامہ نہ ملنے کے باعث بند کردیے گئے ہیں۔

انڈونیشیا میں مذہب کے نام پر ڈرانے دھمکانے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے مگر اس کے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں کیا جارہا۔ ۲۶ مئی کو امریکی پاپ سنگر لیڈی گاگا کے ایک کنسرٹ کو منسوخ کردیا گیا۔ یہ تنسیخ شدت پسند مسلمانوں کے دباؤ پر کی گئی۔ کنسرٹ کے ٹکٹ فروخت کیے جاچکے تھے۔ دی اسلامک ڈیفینس فرنٹ (ایف پی آئی) نے دھمکی دی ہے کہ اگر لیڈی گاگا نے ملک میں قدم رکھا تو زبردست انتشار پیدا ہوگا۔ لیڈی گاگا کو پروموٹ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ گلوکارہ اور اس کے چاہنے والوں کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے اور یقیناً وہ سچ کہہ رہے تھے۔

انڈونیشیائی حکومت کے ناقدین کہتے ہیں کہ مذہبی تشدد تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حکومت اسے کنٹرول کرنے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کر رہی۔ صورتحال اتنی تیزی سے بگڑ رہی ہے کہ اگر جلد موزوں اقدامات نہ کیے گئے تو پورا معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔ نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ انڈونیشیا میں فرقہ وارانہ تشدد اس قدر بڑھ گیا ہے کہ گزشتہ برس صرف عیسائیوں کو نہیں بلکہ قادیانیوں (Ahmadiyah) کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جاوا میں قادیانیوں کے ایک لیڈر کے مکان پر حملے میں تین افراد مارے گئے تھے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو (Susilo Bambang Yudhoyono) نے مذہبی انتہا پسندی سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔ آئین کے تحت وہ اس بات کے پابند ہیں کہ ملک کے ہر باشندے کو حاصل عبادت کے حق کی نگہبانی کریں۔ ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے مسلم شدت پسندوں کو کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں اور اپنی کابینہ میں بڑے قلم دان شدت پسندوں کو دے رکھے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈونیشیا کو ایک حقیقی جمہوری اور اعتدال پسند ملک بنانے میں شدت پسند سیاسی جماعتوں کا کردار زیادہ قابل ذکر نہیں رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں رواداری کو فروغ حاصل نہیں ہو رہا۔ مذہبی امور کے وزیر سوریہ دھرما علی (Suryadharma Ali) نے احمدیوں (قادیانیوں) پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے خواتین کے لیے گھٹنوں سے اوپر کے اسکرٹس پہننے پر پابندی کی سفارش بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے ایسے لباس کسی بھی طور برداشت نہیں کیے جاسکتے۔ وزیر اطلاعات تفتل سیمبرینگ (Tifatul Sembiring) نے ہم جنس پرستوں کے بارے میں سخت ریمارکس دیے ہیں۔

صدر نے چند ایک بیانات میں مذہبی تشدد کی مذمت ضرور کی ہے اور مذہبی رواداری پر زور بھی دیا ہے مگر عملی طور پر کچھ کرنے کے بجائے انہوں نے معاملات صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر چھوڑ دیے ہیں۔ ان کی اس روش سے انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور وہ زیادہ کھل کر میدان میں آئے ہیں۔ انڈونیشیا کے معاشرے کو عدم توازن سے بچانے کے لیے صدر کو زیادہ جرأت کے ساتھ فیصلے کرنا ہوں گے۔ لازم ہے کہ مذہبی بنیاد پر انتہا پسندی کی راہ مسدود کی جائے تاکہ کوئی بھی عبادات کے معاملے میں خوف محسوس نہ کرے۔ عام مشاہدہ ہے کہ پولیس بھی انتہا پسندوں کا ساتھ دیتی ہے یا پھر کوئی بھی کارروائی نہیں کرتی۔ اس سے صورت حال مزید بگڑ رہی ہے کیونکہ انتہا پسندوں کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔

(“Tolerating Intolerance”… “Economist”. June 9th, 2012)




Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.