ہم چین سے خودمختاری کے طالب ہیں‘ نہ کہ علیحدگی کے!

جب چین نے ۱۹۵۰ء میں تبت میں جارحیت کی تو اس نے اس الگ تھلگ جاگیردارانہ ریاست میں جدیدیت کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا لیکن اس کے بجائے اس نے وہاں مذہب و ثقافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے تبتی حکومت کو بشمول اس کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے جلاوطن ہونا پڑا۔ ۲ سال کی عمر میں تبتی بدھوں کے اعلیٰ مذہبی رہنما کی حیثیت سے ۱۴ویں دلائی لامہ کا تقرر ہوا اور چار سال کی عمر میں پھر ان کی تاج پوشی بھی ہو گئی۔ ۱۹۵۹ء میں دلائی لامہ کو بھارت فرار ہونا پڑا جس کے بعد وہ تبت کبھی نہیں لوٹے۔ ۴۵ سالوں تک ایک قوم کو بغیر سرزمین کے محفوظ رکھنے کی کوشش کے بعد دلائی لامہ تبت کے مستقبل کو حیرت انگیز عملیت پسندی کے ساتھ قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان کی جانب سے ایک ایسا اقدام ہے جو انہیں ان کے اپنے عوام بین الاقوامی حامیوں اور حتی کہ اپنے خاندان سے بیگانہ کر سکتا ہے۔ ٹائم کے نمائندے Alex Perry کے ساتھ میک لیوڈ گنج (بھارت) کی اپنی رہائش گاہ میں ہونے والی ایک واضح گفتگو میں دلائی لامہ نے اعتراف کیا کہ وہ تبتی عوام کے لیے اب آئندہ صرف ایک راستہ پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ چین میں زندگی گزاریں اس امید کے ساتھ کہ چین بھی ان کی مخصوص ثقافت کو محفوظ رہنے دے گا۔


ٹائم: تبت میں صورتحال کیسی ہے؟

دلائی لامہ: کچھ معاشی ترقی اور بہتری کے باوجود ہمارے ثقافتی ورثہ‘ مذہبی ماحول اور آزادی کو بہت ہی سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات بہت ہی زیادہ مخدوش ہیں۔ یہ اس خلیج کی مانند ہے جو ٹھیک چین میں امیر اور غریب کے مابین پایا جاتا ہے۔ لہٰذا صورتحال بحیثیتِ مجموعی بہت مایوس کن ہے۔ جب ۱۳ویں دلائی لامہ نے بیسویں صدی کے اوائل میں چین کا دورہ کیا تھا تو وہاں مینچورین (Manchurian) برادری کی بہت بڑی تعداد تھی حتیٰ کہ سلطنت بھی وہاں مینچورین کی تھی۔ تقریباً ٹھیک ۵۰ سالوں بعد جب میں نے وہاں کا دورہ کیا تو وہاں مینچورین برادری نہیں تھی۔ اسے مکمل طور سے ضم کر لیا گیا تھا۔ یہ خطرہ تبت میں بھی بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبتی صورتحال بہت مایوس کن ہے۔ اسی وجہ سے ہم ایک بامعنی خودمختاری کے حصول کی خاطر کوشش کر رہے ہیں۔

ٹائم: کیا اچھی امید کی کوئی وجہ ہے؟

دلائی لامہ: بہت ساری اشتراکی اور جبری حکومتیں تبدیل ہو گئی ہیں‘ جن میں سویت یونین بھی شامل ہے۔ انہیں طاقت کے زور پر نہیں تبدیل کیا گیا بلکہ انہیں ان کے اپنے عوام نے تبدیل کیا۔ یہ بہت ہی مثبت تبدیلیاں ہیں۔ چین اب بھی اسی نظام کا حامل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت کچھ تبدیلی آرہی ہے۔ اطلاعات کی آزادی‘ مذہبی آزادی اور پریس کی آزادی کا حال کہیں بہتر ہے۔ میرا احساس ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے غیرحقیقت پسندانہ نظام انسان کی طرف‘ اپنے فطری راستے کی جانب لوٹ جائیں گے۔ ہمیں آزادی سے محبت ہے۔ یہاں تک کہ جانور بھی اپنی آزادی کو محبوب رکھتے ہیں۔ اب یہ فطری طور سے واپس آرہی ہے۔ لہٰذا اس سطح پر تبت میں صورتحال امید افزا ہے۔ آج چینی عوام کی ایک اچھی تعداد تبتی ثقافت و روحانیت کے تحفظ میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تبتی روحانیت چین کی مجموعی روحانیت کا بہت ہی اہم جزو ہے۔ لہٰذا تبتی ثقافت کا تحفظ چین کی ثقافتی دولت میں اضافے کا سبب ہے۔ کروڑوں چینی روایتی بودھ ہیں اور بہت سارے لوگ چین میں تبتی بدھ مت کی جانب مراجعت کر رہے ہیں۔

ٹائم: بیجنگ سے آپ کے تعلقات کیسے ہیں؟

دلائی لامہ: ہم نے تین سال پہلے چین کے ساتھ براہِ راست رابطہ بحال کیا ہے۔ ہم کسی بہت بڑی کامیابی کی توقع نہیں کر رہے ہیں‘ تبتی مسلمہ ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے اور چین بہت زیادہ شکی اور محتاط ہے۔ ابھی وقت لگے گا۔ بہرحال روبرو گفتگو اور دوستانہ مذاکرات بہت زیادہ اہم ہیں‘ بعض چینی دانشور‘ فنکار اور مصنفین اپنے صحیح فہم کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے میری درمیانی راہ کی حمایت کر رہے ہیں جس کا مقصد آزادی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ تبتی ثقافت زبان اور ماحول کے تحفظ کی خاطر بامعنی خود مختاری کا حصول ہے۔

ٹائم: تبت کی آزادی کی جنگ سے دست بردار ہونے کی بنا پر آپ کو بعض تنقیدوں کا سامنا ہے۔

دلائی لامہ: بعض تبتی باشندے مجھ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ میں نے حقِ آزادی کا سودا کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ میرے سب سے بڑے بھائی مکمل آزادی کے حق میں ہیں اور وہ بھی اس کے لیے مجھے دوشی ٹھہراتے ہیں۔ لیکن میرا موقف درحقیقت خود ہمارے اپنے حق میں ہے۔ تبت بہت پسماندہ ہے۔ یہ ایک بڑی سرزمین ہے جو قدرتی وسائل میں پوری طرح خودکفیل ہے۔ لیکن ہم ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت میں بہت پیچھے ہیں‘ جس کی وجہ سے ان سے فائدہ اٹھانا محال ہے۔ لہٰذا اگر ہم چین کے اندر رہتے ہیں تو ہمیں عظیم تر فائدہ حاصل ہو گا بشرطیکہ یہ ہماری ثقافت اور خوبصورت ماحول کا احترام کرنے کے حوالے سے ہمیں خاص قسم کی ضمانت فراہم کرے۔ ہماری مراد مزید ماڈرنائزیشن سے ہے۔ مثلاً تبت میں نیا ریلوے نظام ہو۔ یہ عام طور سے ترقی کے لیے بہت سودمند اور اچھا خیال کیا جاتا ہے بشرطیکہ اگر اسے سیاسی طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

ٹائم: بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چین آپ کی … کا انتظا رکر رہا ہے۔

دلائی لامہ: میری موت کا۔

ٹائم: ہاں! آپ اس خیال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

دلائی لامہ: دو امکانات ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ ہاں! جب دلائی لامہ مر جائے گا تبت کا سرے سے مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ شکایت پھر بھی باقی رہے گی بلکہ اور زیادہ مضبوط ہو گی لیکن اس اثنا میں کوئی تبتیوں کی رہنمائی کرنے والا اور انہیں آمادہ کرنے والا نہ ہو گا لہٰذا تبت کا مسئلہ حل کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔کون سی بات درست ہے؟ میں نہیں جانتا ہوں۔ آپ میری موت تک انتظار کریں (قہقہہ) حقیقت خود ہی جواب دے گی۔

ٹائم: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تبت برادری کی ہم آہنگی و یکجہتی آپ کے بغیر ختم ہو جائے گی؟

دلائی لامہ: تبت کا مسئلہ ایک قوم کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا جب ایک فرد اٹھ جاتا ہے تو یقینا یہ ایک دھچکا ضرور ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک قوم کا مسئلہ ہے تو جب تک قوم باقی رہتی ہے یہ مسئلہ بھی باقی رہے گا۔ مضبوط قوتِ ارادی اور وافر معاشی خوشحالی کے ساتھ میرے خیال میں اس کاز کو آگے لے جانا ممکن ہے۔ آپ یہودی برادری کو دیکھیں۔ ہزار سالوں تک اس نے اپنے جذبے کو زندہ رکھا۔ اگر حالات آسان ہوتے ہیں تو تبتی نرم پڑ جاتے ہیں اگر حالات بہت دشوار اور سنجیدہ ہوتے ہیں تو تبتیوں کے دماغ بھی بہت مضبوط ہو جاتے ہیں۔

ٹائم: آپ کے بعد دلائی لامہ کے منصب کا کیا بنے گا؟

دلائی لامہ: دلائی لامہ کا ادارہ یا یہ سوال کہ آیا اسے جاری رہنا چاہیے یا نہیں‘ تبتی عوام پر منحصر ہے۔ اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ اب یہ مناسبِ حال نہیں ہے تو وہ اسے ختم کر دیں گے اور ۱۵واں دلائی لامہ کوئی نہیں ہو گا۔ لیکن اگر آج میں مر جاتا ہوں تو میرا خیال ہے کہ وہ دوسرے دلائی لامہ کی خواہش کریں گے۔ دوبارہ تجسیم کا مقصد سابقہ تجسیم کی ذمہ داریوں کی تکمیل ہے۔ میری زندگی تبت سے باہر گزری لہٰذا میرا پنر جنم بھی منطقی طور سے تبت سے باہر ہو گا۔ لیکن پھر اگلا سوال یہ ہے کہ آیا چینی اسے تسلیم کریں گے یا نہیں؟ چین تسلیم نہیں کرے گا۔ بہت ممکن ہے کہ چینی حکومت کسی دوسرے دلائی لامہ کا تقرر کرے جیسا کہ اس نے پنچین لامہ کے ساتھ کیا۔ تو ایسی صورت میں دو دلائی لامہ ہوں گے۔ ایک دلائی لامہ تبتی عوام کے دل میں ہو گا اور دوسرا سرکاری نوکری پر ہو گا۔

ٹائم: کیا آزادیٔ تبت کی بین الاقوامی تحریک ایک عارضی شغل تھا‘ ویل (مچھلی) کو بچانے کی کوشش کی مانند؟

دلائی لامہ: میں ایسا نہیں سمجھتا ہوں۔ میرے خیال میں پوری دنیا میں تبت میں دلچسپی لینے والے اور اس کی حمایت کرنے والے گروہ اب بھی فعال ہیں۔ بعض اوقات یہ ہم آواز ہوتے ہیں اور بعض اوقات نہیں۔ دوسرا عامل افغانستان اور عراق ہو سکتا ہے جو تبت کو ایک ثانوی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔

ٹائم: اگر بین الاقوامی دلچسپی اور دبائو برقرار نہیں رہتا ہے تو کیا چین کی فتح ہو گی؟

دلائی لامہ: بہرصورت چین پہلے ہی سے فتح کے مقام پر ہے۔ اس کا تبت پر قبل سے ہی کنٹرول ہے (قہقہے) لیکن آپ کی فتح اور شکست سے کیا مراد ہے؟ یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔ ہم علیحدگی کا مشورہ نہیں دے رہے ہیں۔ لیکن یہ کہ تبت چین کے اندر رہتے ہوئے زیادہ خوشحال رہے گا اور یہ کہ یہ چینی عوام کے مفاد میں بھی ہے کہ وہ ہماری ثقافتی ورثوں کا تحفظ کرے۔ اگر صرف آپ کو آزادی یا علیحدگی کی تلاش ہے تو پھر فتح و شکست کا سوال اٹھتا ہے۔ اگر پوری دنیا میں تبت میں لوگوں کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور اس حوالے سے لوگ حساس نہیں رہتے ہیں تو چینی حکومت بھی تبت کی جانب زیادہ حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ لیکن بھارتی عوام کی ہمدردی بہت مضبوط ہے اور امریکا اور کینیڈا میں تبتی برادری کی حساسیت بھی بہت توانا ہے۔

ٹائم: جلاوطنی نے ذاتی طور سے آپ کو کتنا نقصان پہنچایا؟

دلائی لامہ: مجھے نہیں معلوم۔ میں نے اپنا ملک کھو دیا اور ۴۵ سالوں سے زیادہ عرصے سے بے وطن ہوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے نئی چیزیں سیکھنے کا اچھا موقع ملا ہے‘ جس میں دوسری روایات سے آگہی شامل ہیں‘ جس کے نتیجے میں میرے اندر غیرفرقہ ورانہ جذبوں کو بہت مضبوطی حاصل ہوئی۔ چنانچہ میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے اپنی کچھ خدمات انجام دے سکا۔ میں ایک نادر مذہبی شخص ہوں جس کے دوسرے مذاہب میں بھی بہت سارے حقیقی اور مخلص دوست ہوں۔ لہٰذا میرا یہ احساس ہے کہ اگر میں تبت کے اندر پوٹالہ (جگہ کا نام) میں قیام کرتا اور دوربین سے چاروں طرف دیکھتا تو اس چیز سے میں محروم رہتا۔ لیکن چونکہ میں پناہ گزیں رہا لہٰذا میں زیادہ حقیقت پسند بن گیا۔ ہماری نسل کو سنگین چیلج کا سامنا ہے۔ لہٰذا ایک طرح سے یہ بہترین موقع ہے ہمیں اپنی اندرونی توانائی ظاہر کرنے کا۔ آپ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سیاہ ہے یہ سفید ہے‘ یہ مطلق مثبت ہے یا منفی ہے۔ ہر چیز جو آپ دیکھتے ہیں ملی جلی ہے اور اس کا زیادہ انحصار اس پر ہے کہ آپ کس طرح دیکھتے ہیں۔ میں نے مغرب میں یہ چیز دیکھی کہ بعض لوگ صاف صاف باتوں کے قائل ہیں۔ اگر صورتحال مثبت ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں اگر تھوڑا منفی ہے تو وہ بہت خفا ہوتے ہیں۔ یہ غیرپسندانہ طرزِ فکر ہے۔

ٹائم: کیا واپسی کے لیے اب بھی تبت موجود ہے؟

دلائی لامہ: میرا خیال ہے کہ ایسا ہے۔ جب منچوریا کو خطرے کا سامنا تھا تو کسی نے بیرونی دنیا میں اس کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔ تبت کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ آج تبت کی ثقافت تقریباً بین الاقوامی ثقافت کے ایک جزو کی مانند ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑا فائدہ ہے۔

ٹائم: آپ مستقبل میں کیا دیکھتے ہیں؟

دلائی لامہ: اگر آپ تبت کی صورتحال کو مقامی سطح پر دیکھیں تو یہ مایوس کن نظر آئے گی لیکن اگر آپ اسے وسیع تر تناظر میں دیکھیں گے تو یہ امید افزا ہے۔ یہ میری آخری بات ہے اس مسئلے پر جو کہ خراب نہیں ہے۔

(بشکریہ: ’’ٹائم‘‘۔ ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.