میخائل گوربا چوف سے ۱۰ سوالات

تاریخ میخائل گوربا چوف کو ایک ایسے قائد کے طور پر یاد رکھے گی‘ جس نے سوویت یونین کو نئی اقتصادی شیرازہ بندی (Perestroika) اور کشادگی (Glasnost) سے متعارف کروایا‘ جو کمیونزم کے اختتام کے مؤجب بنے۔ گزشتہ ہفتے Rhode Island کے Carnegie Abbey Club میں خطاب کرتے ہوئے ۷۵ سالہ گوربا چوف نے Time`s Sally B.Donnelly سے اپنی نئی کتاب (To Understand Perestroika)‘ روس ولاد میر پیوٹن کے زیرِ اقتدار‘ نیز ۱۹۹۹ء میں اپنی اہلیہ رئیسا کے انتقال کے بعد کی زندگی سے متعلق گفتگو کی‘ یہ گفتگو درج ذیل ہے۔


سوال: آپ نے Perestroika کے متعلق اپنی نئی کتاب کیوں لکھی؟

جواب: ہمارا خیال ہے کہ سوویت یونین میں ۱۹۸۵ء میں پرسٹرائیکا (Perestroika) کا تعارف سوویت تاریخ کے تین انتہائی اہم واقعات میں سے ایک تھا‘ باقی میں ایک ۱۹۱۷ء کا انقلاب تھا اور ایک دوسری جنگ عظیم میں فتح تھی۔ ۲۰ ویں برسی پر میں نے اس کی وضاحت کو اہم اور ضروری جانا اور اب جبکہ پرسٹرائیکا سے متعلق روس میں ایک گرما گرم بحث جاری ہے۔ بہت سارے لوگ اسے اپنے ملک کے لیے خراب تصور کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ لوگوں کی رائے تبدیل ہونا شروع ہوئی ہے اور سروے سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کارناموں کو یقین کی نظر سے دیکھتے ہیں‘ جو پرسٹرائیکا نے ملک کے لیے انجام دیئے اور انتخابات نے واضح کر دیا کہ لوگ ملک کے حق میں کیا چاہتے ہیں۔ ۷۷فیصد روسیوں کی خواہش ہے کہ وہ ایک آزاد اور جمہوری ملک میں زندگی گزاریں اور یہ پرسٹرائیکا کا ورثہ ہے۔

سوال: کون ہے جو اَب بھی یہ خیال کرتا ہے کہ پرسٹرائیکا روس کے لیے بُرا تھا؟

جواب: پرانا حکمراں طبقہ‘ سابقہ کمیونسٹ اور پرانے رہنما میں جانتا ہوں کہ وہ ابھی تک بہت سخت زندگی گزار رہے ہیں اور روس میں آج بھی بعض لوگوں کے لیے زندگی بہت دشوار ہے لیکن میںچاہوں گا کہ وہ اس پر دوبارہ غور کریں۔

سوال: بہت سے روسیوں کی زندگیوں میں موجود دشواریوں کی بنیاد کیا ہے؟

جواب: (سابق صدر بورس) یلسن نے ملک کو تباہ کردیا‘ اس نے اس بات کی اجازت دی کہ ملک کی دولت صرف چند ہاتھوں میں چلی جائے اور مغرب نے یلسن پر کبھی تنقید نہیں کی۔میرا خیال ہے کہ صدر ولاد میر پیوٹن اس بگاڑ کو درست کررہے ہیں‘ جو یلسن نے پیدا کیا۔

سوال: کیا پیوٹن درست راستے پر ہے؟

جواب: پیوٹن کی کوشش ہے کہ زیادہ سماجی و جمہوری پالیسی اختیار کی جائے‘ تاکہ صحتِ عامہ‘ تعلیم اور اس طرح کے دیگر معاملات کو بہتر بنایا جاسکے۔ لیکن جیسے ہی روس نے دوبارہ ابھرنا شروع کیا‘ مغرب نے اسے قبول نہیں کیا۔ امریکا دنیا کا واحد سپر پاور ہونے کے نشے میں چور ہے۔ وہ اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن ضرورت ہے کہ امریکا اس پر قابو پائے‘ اس کی ذمہ داریاں بھی ہیں اور اس کے پاس طاقت بھی ہے۔ میں اسے (طاقت کو) امریکا کا اچھا دوست قراردیتا ہوں۔

سوال: امریکا‘ روس میں غیرجمہوری پیش رفت پر پریشان نظر آتا ہے‘ مثلا ً کریملن کا میڈیا پر کنٹرول۔

جواب: امریکا کو روس کے اندرونی معاملات پر اس وقت تشویش ہونا چاہیے جبکہ روسیوں کو تشویش ہو‘ ہاں میڈیا کسی حد تک زیرِ عتاب ہے۔ یہاں کچھ مطلق العانیت پر مبنی طریقے استعمال کئے جارہے ہیں‘ جو لوگوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ جمہوریت کمزور ہے۔

سوال: آپ کا کیا خیال ہے‘ کیا ہم دوبارہ سرد جنگ کی طرف واپس جارہے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ صدر بش کو غلط سمت کی جانب دھکیل رہے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ امریکا اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرسکے گا۔ پیشگی (Pre-emptive) حملوں کی بات کرنا‘ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو نظرانداز کرنا اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنا‘ یہ سب راستے سیاہ رات کی جانب جاتے ہیں۔

سوال: کیا کونڈولیزارائس‘ ان لوگوں میں ایک ہے؟

جواب: میرا خیال ایسا نہیں ہے۔ وہ ایک باخبر اور مہذب خاتون ہے‘ جو روس کو جانتی ہے اور یہ وہ خاتون ہے جو سیاسی اور سفارتی حل کے لیے پرعزم ہے لیکن اسے ایک مشکل وقت کا سامنا ہے اور یہی حال کولن پائول کا تھا۔

سوال: ۱۹۹۹ء میں آپ کی اہلیہ (رئیسا) کے انتقال کے بعد سے آپ کی زندگی کیسی گزر رہی ہے؟

جواب: یہ کچھ ایسی صورتحال ہے کہ میں قدرے اطمینان کے ساتھ اس کے متعلق بات کرسکتا ہوں‘ لیکن اس کے مرنے کے فوراً بعد میرا یہ خیال تھا کہ زندگی میں کوئی مثبت چیز نہیں رہ گئی ہے۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ فیملی کتنی اہم چیز ہوتی ہے۔ میں بیشتر وقت اپنی بیٹی آئی رینا (Irina) اور دو نواسیوں کے ساتھ گزارتا ہوں‘ ان کی بھی زندگیاں بہت مصروف ہیں لیکن کچھ کام ہم اکٹھے کرلیتے ہیں مثلاً باہرنکل کر ریسٹورنٹ چلے جاتے ہیں۔

سوال: کیا آپ زندگی سے لطف اندوز ہورہے ہیں؟

جواب: ہاں‘ لیکن کچھ دشواریاں ہیں سفر جسمانی طور سے دشوار ہے او رمیری سرکاری پینشن بھی صرف ۰۰۰,۴۰ روبلز مہینہ ہے (تقریباً ۱۴۰۰ ڈالر)

سوال: کیا آپ نے کوئی نیا مشغلہ اپنایا ہے؟

جواب: مجھے بہت زیادہ دلچسپی ہے‘ فٹنس میں۔ میری بیٹی میری حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ میرے گھر پر gym ہے جس میں Treadmill‘ Bike اور Weights ہیں اور میں بہت زیادہ پسند کرتا ہوں مزاحمتی ریسوں کو وہ بہت شاندار ہیں۔ کھانا پکانا بھی پسند کرتا ہوں اور زیادہ تر رشین کھانے ہی پسند کرتا ہوں لیکن (اطالوی) اور Mediterranean (اوقیانوسی) بھی۔ میں زیادہ تر کھانے میں زبانی ہدایات کی حیثیت سے دلچسپی لیتا ہوں‘ لیکن جب وہ تیار ہوجاتے ہیں تو میں اسے کھانے میں بھی مصروف ہوتا ہوں (قہقہے) تب لوگوں پر میری یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ میں وزن کم کیوں نہیں کرسکتا ہوں۔

(بشکریہ: امریکی ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘ میگزین۔ شمارہ۔ ۱۰ اپریل ۲۰۰۶ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*