۱۷ ؍ہزار بھارتی کسانوں کی خودکشی

قرضوں میں ڈوبے ہوئے کسانوں کی خود کشی بھارت میں ایک حساس موضوع رہا ہے۔ جنوب اور مغرب کی شدید غربت زدہ ریاستوں میں ہر سال ہزاروں کسان قرضوں اور خراب فصلوں کے ہاتھوں موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ بھارت میں ۲۰۰۹ء میں ۱۷ ہزار سے زائد کسانوں نے موت کو لگے لگایا۔ مغربی ریاست مہا راشٹر اور جنوبی ریاستوں آندھرا پردیش اور کرناٹک میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد زیادہ رہی۔ ۲۰۰۸ء کے مقابلے میں یہ تعداد ۷ فیصد زیادہ ہے۔ دی نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو نے ’’بھارت میں حادثاتی اموات اور خود کشی کے واقعات‘‘ کے نام سے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوبی اور مغربی ریاستوں کے کسان قرضوں کی دلدل میں بری طرح دھنسے ہوئے ہیں۔ ۳۷ سال کی شدید ترین خشک سالی سے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فصلیں خراب ہونے سے کسانوں پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔

ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں غیر معمولی رفتار سے ترقی ہو رہی ہے تاہم اب بھی بھارت کی دو تہائی آبادی دیہی علاقوں میں سکونت پذیر ہے۔ ایک عشرے کے دوران دیہی علاقوں میں ترقیاتی کام کم ہوئے ہیں۔ کسانوں کے حالات بہتر بنانے اور انہیں قرضوں کے جال سے نکالنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ایک عشرے کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد کسانوں نے خودکشی کی ہے۔

دیہی علاقوں میں غیر معمولی معاشی مسائل اور کسانوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف پوری قوم کی توجہ دلانے کے لیے معروف بالی وڈ سپر اسٹار عامر خان کے فلم ساز ادارے نے گزشتہ برس ’’پیپلی لائیو‘‘ کے نام سے ایک فلم بنائی تھی۔ نئی ڈائریکٹر انوشہ رضوی کی ہدایات کے تحت بنائی جانے والی اس فلم میں اْن کسانوں کے حالات پیش کیے گئے تھے جو قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور بالا آخر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ کہانی میں ایک ایسا کسان دکھایا گیا تھا جو خود کشی کرکے گھر والوں کو حکومت کی جانب سے کچھ امدادی رقم دلانا چاہتا ہے۔ کسانوں کی پریشانیوں کی طرف متوجہ کرنے والی یہ کوئی پہلی فلم نہیں۔ اس سے قبل ’’دو بیگھہ زمین‘‘ اور ’’مدر انڈیا‘‘ جیسی فلموں کے ذریعے بھی کسانوں کی المناک زندگی کی طرف پوری قوم کو متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

۲۰۰۹ء میں بھارت کے طول و عرض میں ایک لاکھ ۲۷ ہزار ۱۵۱ افراد نے خود کشی کی۔ ایک لاکھ ۲۵ ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر حادثات میں ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بھارت میں سڑکوں کی حالت کس قدر خراب ہے اور قوانین پر عملدرآمد کی صورت حال کیا ہے۔ سڑکوں پر حادثات میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بھارت میں موٹر سائیکلوں، کاروں اور دیگر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ۲۰۰۵ء سے اب تک سڑکوں پر حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ۳۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف گاڑیوں کی تعداد میں بھی ۳۵ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بھارت میں متوسط طبقہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے جب پہلی پہلی بار ذاتی گاڑی خریدنے کے قابل ہو پاتے ہیں تو خریدنے سے گریز نہیں کرتے۔ یہ ان کے لیے بہت حد تک ایڈونچر ہوتا ہے۔ مختلف شعبوں میں غیر معمولی رفتار سے ترقی سے گاڑیاں رکھنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ شہروں اور دیہات میں موٹر سائیکل رکھنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔

برطانوی جریدے لانسیٹ نے بتایا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں جب خوش حالی کا تناسب بڑھتا ہے تو لوگوں کا رویہ بھی تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ خوش حالی کے ساتھ بے فکری بھی آتی ہے۔ لوگ گاڑی چلانے کے معاملے میں خاصے لاپروا ہو جاتے ہیں۔ دی نیشنل سیفٹی کونسل آف انڈیا کے سربراہ کے سی گپتا نے ستمبر میں کہا تھا کہ بھارت میں لوگوں کا رویہ دولت کی آمد کے ساتھ ہی خاصا تبدیل ہوگیا ہے۔ رویے کو درست کرنا ایک اہم اور مشکل کام ہے تاہم یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ خوش حالی کے ساتھ ہی لوگوں میں شعور بھی آتا ہے۔ جب آسودگی سے ہمکنار ہونے کا موقع ملتا ہے تو لوگ بہت سے معاملات میں تبدیل ہونے کے بارے میں بھی سوچنے لگتے ہیں۔

بھارت میں لوگ بالعموم ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ ایک ہی موٹر سائیکل پر پوری فیملی سوار دکھائی دیتی ہے۔ سڑکوں کا حال بہت برا ہے۔ موٹر سائیکل والے تیزی سے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صرف موٹر سائیکل چلانے والے نے ہیلمٹ پہن رکھا ہوتا ہے۔ بسوں اور ٹرکوں کا اوور لوڈ ہونا عام بات ہے۔ اوور لوڈنگ کے باعث سڑکوں پر حادثات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

۲۰۰۹ء کے دوران بھارت میں صرف ۱۷۵ افراد بھوک اور پیاس سے مرے۔ ۲۶۱ افراد دھماکوں سے مرے۔ ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۲۵ ہزار سے زیادہ رہی۔ ۸۵۳۹ افراد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے۔ ۸ہزار افراد سانپ اور دیگر جانوروں کے کاٹے سے ہلاک ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کو حادثات سے متعلق اعداد و شمار پر خاطر خواہ توجہ دینی چاہیے کیونکہ ملک بھر میں بد انتظامی کے باعث بہت سے حادثات کی رپورٹنگ نہیں ہو پاتی۔

(رپورٹ: اے ایف پی۔ بشکریہ روزنامہ ’’ڈان‘‘۔ ۱۸؍ جنوری ۲۰۱۱ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*