۲۰۰۵: صحافیوں کے لیے بدقسمت سال

ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کے لیے ۲۰۰۵ء بدقسمت ترین سال رہا۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلٹس (آئی ایف جے) کی رپورٹ کے مطابق سال گذشتہ ۱۵۰ صحافی‘ کیمرہ مین و اسسٹنٹ ہلاک ہوئے۔ ان میں ۸۹ صحافی ایسے ہیں‘ جنہیں ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران قتل کیا گیا۔ آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری ایڈن وائٹ نے سالانہ رپورٹ کی تفصیلات میں مزید بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں سب سے زیادہ ۳۸ صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا‘ جن میں ۳۵ رپورٹرز صرف عراق میں قتل کیے گئے۔ ان میں ’’رائٹر‘‘ کا نمائندہ ولید خالد بھی شامل ہے‘ جسے امریکی فوج نے اس کی پیشانی اور سینے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایشیا پیسیفک ریجن میں فلپائن میڈیا کے نمائندوں کے لیے سب سے خطرناک ملک رہا‘ جہاں ۱۰ صحافی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔ اس کے علاوہ ۱۲ صحافی کولمبیا‘ ہیٹی‘ میکسیکو اور برازیل میں جبکہ ۱۸ صحافی مقبوضہ علاقوں میں ہلاک ہوئے۔ ۶۱ صحافی حادثاتی موت کا شکار ہوئے‘ ان میں سب سے زیادہ ۴۸ صحافی اور میڈیا اسٹاف ایران میں طیارے کے حادثے میں مارے گئے۔

آئی ایف جے نے اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں کی ہلاکت پر اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومتوں پر دبائو ڈالیںکہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔ صحافیوں کے تحفظ کی یہ مہم سالِ رواں (۲۰۰۶) میں بھی جاری رہے گی۔

(بشکریہ: ’’ڈان‘‘۔ ۲۳ جنوری ۲۰۰۶)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*