شاہ فیصل شہید کا ایک تاریخی انٹرویو

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید نے ستمبر ۱۹۷۰ء میں (جب اردن میں عرب بالخصوص فلسطینی مجاہدین کی نسل کشی کی جارہی تھی) امریکی رسالے ’’اِنٹر پلے‘‘ کے نمائندے ٹام دمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ عرب علاقوں اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف جہاد کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کی ہٹ دھرمی، غرور اور توسیع پسندانہ عزائم کی بناء پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت کو خارج ازامکان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت کی روک تھام اور اسے معقول رویہ اختیار کرنے کے لیے طاقت استعمال نہیں کی جائے گی اس وقت تک مشرقِ وسطیٰ میں مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ شاہ فیصل نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اسرائیل پر معقول رویہ اختیار کرنے اور عرب علاقے خالی کرنے کے لیے دبائو نہ ڈالا تو عوام مجھے مجبور کر دیں گے کہ میں دوسرے عرب سربراہوں کی طرح روس کی حمایت حاصل کروں۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام مسائل اور مشکلات کی وجہ کمیونزم اور صہیونیت ہیں۔ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بیت المقدس کے بارے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ان تمام لوگوں کے لیے صدیوں کھلا رہا جن کے مقامات مقدسہ وہاں واقع ہیں، اس لیے اب اسے بین الاقوامی شہر قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔ شاہ فیصل نے یہ بات اعلانیہ طور پر کہی تھی کہ ’’ہم فلسطینی حریت پسندوں کی بھرپور حمایت اور مدد کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، انہیں طاقت کے بَل پر ان کے گھروں سے نکال پھینکا گیا ہے، اس ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد جائز اور منصفانہ ہے‘‘۔

(بحوالہ: روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی۔ ۲ ستمبر۱۹۷۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*