قرآنِ مجید کا نظامِ احتساب اور مسلمان عورت

قرآنِ مجید میں پیش کردہ مربوط اور کڑا احتسابی نظام انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے۔ اس میں کائنات کی وسعتوں کو سمیٹ کر، زمانی و مکانی حدود و قیود کا احاطہ کرتے ہوئے اور خالق و مخلوق کے مقامات کی نزاکتوں کا حقیقی نقشہ پیش کرتے ہوئے انسان کی موت و حیات کے فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق زندہ انسان وہ ہے جو متحرک ہے اور مردہ انسان وہ ہے جو غافل ہے۔ قرآن مجید میں اخلاقی احتساب کے حوالے سے جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے اس میں مرد اور عورت دونوں کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔ اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے؟ اس پر طویل مضامین تحریر کیے جا چکے ہیں۔ اس کی عملی مثالیں بھی موجود ہیں کہ غیر اسلامی نظامات میں جب عورت کے لیے جائز مقام نہ پایا تو انسانوں نے اسلام قبول کر لیا جیسا کہ ہندوستان میں ہوا۔

سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو کسی بھی طرح اخلاص نیت اور اخلاص عمل کے لحاظ سے ہلکی سی بھی استثنائی سہولت عطا کی ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اسلام عورت کے لیے اس کے لحاظ سے دائرہ کار مقرر کرتا ہے۔ جیسا کہ الرجال قوامون علی النساء میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ مگر اسلام عورت کو نیت و ارادہ کے لحاظ سے کسی قسم کی چھوٹ نہیں دیتا۔ اس حوالے سے قرآن مجید کے اخلاقی احتساب کے نظام کے مطالعہ کی مختصر جھلک یہاں پیش کی گئی ہے اور اُن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں مرد کے ساتھ عورت کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔

’’اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے باغوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہا کریں گے اوربہشت جاودانی میں ستھرے مکانوں کا (وعدہ ہے) اور(مزید برآں) اللہ کی خوشنودی (اس کا قرب) سب سے بڑی نعمت ہے (اور) یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (التوبہ:۷۲)

گروہِ انسانی خواہ مرد ہو یا عورت دونوں سے ان کے خالق کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عمل صالح کریں اور رضائے خالقِ حقیقی کے لیے تگ و دو کریں۔ اس لحاظ سے (گو ہم مرد و عورت کی برابری و مساوات جیسے الفاظ یہاں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں جو کہ زیادہ تر گمراہ کن اور غلط نہج پر لے جانے والی بحثوں پر منتج ہوتے ہیں)قرآن پاک نے مرد و عورت دونوں کو معاشرہ میں فعال و متحرک، مثبت و مفید اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم رکھا ہے جو بطورِ انسان ایک ہی مخلوق ہیں جبکہ بطورجنس جداگانہ مقام کے حامل ہیں۔ اپنے اپنے مقام پر بحضورِ خالق حقیقی یوں ایستادہ ہیں کہ اپنے ہر عمل اور حرکت اور قول کے لیے مشاہدہ و منظر الٰہی میں پرکھنے کے لیے دیکھے جا رہے ہیں۔ نہ تو مرد کا کوئی عمل عورت کے لیے ایسا ہو سکتا ہے کہ عورت اسے کوئی اجر دے سکے اورنہ ہی عورت کا کوئی عمل مرد کے لیے ایسا ہو سکتا ہے کہ مرد اس کو کوئی اجر دے سکے۔ نہ ہی دونوں کے نیک اعمال ایسے ہیں کہ وہ ذاتِ باری تعالیٰ کو ان سے کچھ نفع پہنچا سکتے ہوں بلکہ ہر ایک کا عمل صالح جو خالصتاً رضائے الٰہی کے حصول کے لیے انجام دیا گیا ہو وہ خود عمل کرنے والے کے لیے ہی مفید ہے۔ یہ سنت الٰہی کا وہ بنیادی قاعدہ ہے جو انسان کے لیے عمل کرنے اور عمل کی ادائیگی کے اجر کے لیے خود خالقِ حقیقی نے مقرر فرمایا ہے۔

سورۃ آل عمران کی آیت نمبر۱۹۵ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ میں تم میں سے کسی محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہیں کرتا، خواہ مرد ہو یا عورت تم دونوں ایک ہی ہو (ایک ہی نوع انسانی کے اجزا ہو) پھر وہ لوگ جنہوں نے (اپنے گھروں سے) ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اورمیری راہ میں ستائے گئے اور (وہ اللہ کی راہ میں) لڑے اورمارے گئے (شہید ہوئے) تو بیشک میں ان کے (نامہ اعمال) سے ان کی برائیاں دور کر دوں گا (ان کو گناہوں سے پاک و صاف کر دوں گا) اور ان کو (اپنی رضا کی) جنتوں میں داخل کروں گا کہ جن کے نیچے (رحمت کی) نہریں بہتی ہوں گی یہ (ان کے نیک کاموں کا) اللہ کے یہاں سے بدلہ ہے اور اللہ کے پاس ان کے لیے اوربھی بہتر انعام ہے (جو مقامِ قرب میں رویت اور دیدار الٰہی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔‘‘

انسانی خصائل(سرشت) قرآن کی روشنی میں

قرآن پاک میں خالق حقیقی نے انسان کی سرشت، فطرت اور جبلت بیان کی ہے جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے لفظ انسان سے خطاب فرمایا ہے۔ ان میں بلا تخصیص مرد و زن ان خصائل کا بیان ہے جو انسانی خلقت میں رکھ دی گئی ہیں اور یہ وہ خصائل ہیں جن کو ابھار کر یا عمدہ خصائل میں کمی کر کے شیطان اپنی صریح دشمنی کا ارتکاب کرتے ہوئے انسان کو قربِ الٰہی سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں انسان کا امتحان ہوتا ہے کہ خواہ وہ مرد ہے یا عورت وہ اپنی جبلت، فطرت اور خصلت میں رکھے گئے اعتدال کو قائم رکھتے ہوئے قربِ الٰہی حاصل کرتا ہے یا شیطان کے تیروں کا شکار ہو کر خود بے اعتدالی کرتے ہوئے اللہ سے دوری اختیار کر لیتا ہے۔ قرآن پاک میں انسانی تخلیق کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’وہی (اللہ) ہے جس نے جو شے بنائی خوب بنائی (ہر چیز اس کی بہترین شکل اوربہترین جبلت پر تخلیق فرمائی جس کام کے لیے جو چیز پیدا فرمائی وہ اس کام کے لیے بہترین ہے) اور انسان کی تخلیق کی ابتدا اس کے گارے سے کی۔ پھر اس کی نسل کو ایک حقیر پانی کے نطفہ سے پیدا کیا (جو اس کی غذائوں کا نچوڑ ہے) پھر اس کو (شکل و صورت اور اعضا کے تناسب سے) درست کیا اور اس میں ایک جان اپنی طرف سے پھونکی اور تمھارے لیے کان (سننے کے لیے)اور آنکھیں (دیکھنے کے لیے) اور دل (یاد الٰہی کے لیے)بنایا (لیکن) تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔‘‘

اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کی احسن تخلیق کو بیان کیا ہے اور اس مخلوق کی سرشت بھی بتائی ہے کہ وہ حکمت الٰہیہ کا ادراک کرتے ہوئے کم ہی اس درجہ فہم کو پہنچ پاتا ہے کہ اس پر شکر کی کیفیت طاری ہو۔

اس بنا پر انسانوں میں ایسے لوگ تعداد کے لحاظ سے کم ہیں جو کہ شکر گزار ہوتے ہیں۔

انعاماتِ الٰہیہ کے شکر کا انداز درج ذیل، حدیث مبارک میں بیان فرمایا گیا ہے:

’’رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہ کی۔ بندہ کہے گا اے میرے پروردگار تو تو جہاں کا پروردگار ہے میں تیری بیمار پرسی کیسے کرتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے خبر نہ ہوئی کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا۔ تو نے اس کی عیادت نہ کی اور اگر کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا بندہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار تو تو سارے جہاں کا رب ہے میں تجھے کیسے کھلاتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے معلوم نہ ہو اکہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے اس کو نہیں کھلایا اگر تو ا س کو کھلاتا تو اس کا بدلہ آج میرے پاس پاتا۔ اے آدم کے بیٹے میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔ بندہ کہے گا اے میرے پروردگار تو تو سارے عالم کا پروردگار ہے میں تجھے کیسے پانی پلاتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تو نے اس کو نہیں پلایا اگر تو اس کو پلاتا تو آج تو اس کو میرے پاس پاتا۔‘‘
شکر کے تقاضے کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ درج کرتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے صرف دو باتیں چاہتا ہے، شکر اور ایمان۔ ایمان کی حقیقت تو معلوم ہے، رہا شکر تو شریعت میں جو کچھ ہے وہ شکر کے دائرہ میں داخل ہے۔ ساری عبادتیں شکر ہیں۔ بندوں کے ساتھ حسن سلوک اورنیک برتائو کی حقیقت بھی شکر ہی ہے۔ دولت مند اگر اپنی دولت کا کچھ حصہ خدا کی راہ میں دیتا ہے تو یہ دولت کا شکر ہے۔ طاقت ور کمزوروں کی امداد اور اعانت کرتا ہے تو یہ بھی قوت و طاقت کی نعمت کا شکرانہ ہے۔‘‘

احسن تقویم پر بنائی گئی اس مخلوق کے بارے میں خالق کی ایک اورحکیمانہ تدبیر (عمل یا انداز) جو اختیار کی گئی اس کے بارے میں سورۃ التین میں بتایا گیا ہے:

’’بلا شبہ ہم نے انسان کو بہترین تناسب (و اعتدال) پر بنایا ہے (بہترین اعضا، بہترین صلاحیتیں، بہترین فطرت، اعتدال قوائے ظاہری و باطنی کے ساتھ تخلیق کیا) پھر ہم نے اسے پست ترین حالت میں ڈال دیا (اس کا اخلاق گرتا گیا اس کی روح گناہوں میں آلودہ ہوتی گئی اور وہ نفس کی خواہشات کا غلام بن کر رہ گیا)۔‘‘

اس مقام پر انسان کے حسین ترین مخلوق ہونے کا بیان کیا گیا، اس کی عضوی ترکیب، عضلاتی خوبصورتی، فکری حسن اور عقلی نفاست سب ہی یہاں مراد ہیں۔ پھر اس کو خالق کی طرف سے دیا گیا اختیار عمل ہے اور اس اختیار عمل ہی کو وہ درجہ حاصل ہے جو انسان کو عطا کیے گئے اعلیٰ مقام سے انسان کو پستی کی جانب لاتا ہے انسان خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کو اس ایک ہی امتحان میں ڈالا گیا ہے۔ عورت اپنی معاشرتی کم تری، جسمانی کمزوری یا کسی بھی طرح کے خود ساختہ عذر کو پیش کر کے اس امتحان سے بریت حاصل نہیں کر سکتی۔ مزید واضح الفاظ میں یوں کہنا چاہیے کہ مسلمان عورت جس قدر اس کو شریعت نے اعمال کی انجام دہی کے لیے مکلف ٹھہرایا ہے وہ اپنے اعمال کو انجام دے کر ہی سر خرو ہو سکتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ سورۂ ق میں فرماتا ہے:

’’اور یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو وسوسے آتے ہیں ہم جانتے ہیں اور ہم تو اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں (ان لوگوں کو یہ بھی معلوم رہنا چاہیے کہ) جب (اعمال کو لکھ) لینے والے دو فرشتے (اعمال کے تاثرات) داہنے اور بائیں بیٹھے لیتے جاتے ہیں (یعنی اخذ کرتے جاتے ہیں ضبط کرتے جاتے ہیں) ان سے کوئی بات چھوٹتی نہیں۔‘‘

سورۃ قٓ کی مذکورہ آیات کے حوالے سے مفتی محمد شفیع ’’ورید‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ضروری نہیں کہ ورید کا لفظ طبی اصطلاح کے مطابق اس رگ کے لیے لیا جائے جو جگر سے نکلتی ہے، بلکہ قلب سے نکلنے والی رگ کو بھی لغت کے اعتبار سے ورید کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں بھی ایک قسم کا خون ہی دوران کرتا ہے اور اس جگہ چونکہ مقصود آیت کا انسان کے قلبی خیالات اور احوال سے مطلع ہونا ہے اس لیے وہ زیادہ النسب ہے۔‘‘

یوں انسان کو پیدا کر کے خالق اس کے قلب و ذہن میں اٹھنے والے خیالات اور ارادوں تک سے واقف ہے نہ صرف واقف ہے بلکہ دو فرشتے (منکر نکیر) خالق نے اس کام پر مامور فرما دیے ہیں کہ وہ انسان کے اعمال کو لکھ کر اس دن کے لیے محفوظ کر لیں جب اللہ کے اعمال کا حساب لیا جائے گا جیسا کہ ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں کہ لفظ انسان میں مرد و عورت دونوں ہی آ جاتے ہیں تو قرآن مجید میں جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے لفظ انسان فرما کر اس مخلوق کی کسی عمومی خوبی یا عمل کا تذکرہ فرمایا ہے ان آیات مبارکہ کا جائزہ لے کر ہم یہ اندازہ لگائیں گے کہ عورت سے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کس طرح خطاب فرمایا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانی روش، یہ بتائی ہے کہ جب اسے خوش حالی عطا کی جاتی ہے تو وہ اللہ کو بھول جاتا ہے اور جب اسے کوئی آزمائش (دکھ، تکلیف، بیماری، غم) دی جاتی ہے تو وہ اللہ کو پکارتا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے:

’’اور جب ہم انسان پر عنایات کرتے ہیں تو وہ (ہم سے) منہ پھیر لیتا ہے اور(بالکل بے پروا ہو جاتا ہے، ادھر سے) کروٹ بدل لیتا ہے اورجب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو (لمبی) چوڑی دعائیں کرتا ہے۔‘‘
یہ انسانی روش کے حوالے سے ایک طویل مضمون ہے جو قرآن پاک میں مختلف مقامات پر پھیلا ہوا ہے۔

سورۃ یونس کی آیت نمبر۱۲ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’اور (حالت یہ ہے کہ) جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے بھی اور بیٹھے بھی اور کھڑے بھی (ہر طرح) ہم کو پکارتا ہے (دعا کرتا) ہے، اورجب ہم اس کی وہ تکلیف دور کر دیتے ہیں (کھٹکا نکل جاتا ہے تو ہمیں بھول جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر اس نے کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح بے باک لوگوں کو جو کچھ وہ کر رہے ہیں خوش نما کر کے دکھایا گیا ہے‘‘۔

انسان کی یہ ناشکری کی روش ہے جس میں مرد وعورت مبتلا ہوتے ہیں۔ جب انھیں مال و دولت، حسن و جمال، والدین،بھائی بہن، اولاد اور دنیاوی شہرت و بلند مرتبہ کسی بھی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کشائش اور پر آسائش زندگی کی بے بہا نعمتیں عطا ہوتی ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اورجب کوئی آزمائش آتی ہے تو طرح طرح سے اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے ہیں۔ عورتوں میں اللہ تعالیٰ کو فراموش کرنے کی ایک اور صورت یہ بھی نظر آتی ہے کہ وہ والدین، بھائی بہن اور شوہر اور اولاد کا درجہ بہت مانتی ہیں مگر حکم الٰہی میں ان کے لیے کیا ہے اس کی طرف ان کی نظر کم ہی ہوتی ہے۔ اپنی آسائش، آرام اور دنیاوی مقاصد کے لیے تو ہر طرح سے تگ و دو کرتی ہیں مگر قرآن و سنت پر عمل کرنے کے لیے اگر ذرا سی بھی آزمائش ان پر آ جائے تو جلد ہی قرآن و سنت کے احکام کو پس پشت ڈال کر دنیاوی رشتوں کو نبھانے کی فکر میں غلطاں ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں انھیں دنیاوی رشتوں ہی کو خوش کرنے میں مگن کر دیا جاتا ہے اور وہ نہ تو ان رشتوں کو ہی نبھا پاتی ہیں کہ وہ تو سب عارضی ہیں اورنہ ہی اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہیں نتیجتاً دنیاوی مسائل کی گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے جلد ہی ذہنی پریشانیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔

غایۃ المطبوع میں درج ہے:

’’شریعت کی ذمہ داریوں کا دارو مدار جس صلاحیتِ عقل پرہوتا ہے یعنی العقل بالملکہ تو خواتین میں اس کی کمی نہیں ہے اس لیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جزئیات میں حواس کو استعمال کر کے بدیہیات کو پا لیتی ہیں اور اگر کسی بات کو بھول جاتی ہیں تو یاد دلانے کے بعد ذہن میں حاضر بھی کر لیتی ہیں۔ اگر اس کی صلاحیت میں کسی طرح کا نقص ہوتا تو دین کے جن ارکان کی ذمہ داری مردوں پر ڈالی گئی ہے۔ ان میں عورتوں کو اس سے مختلف ارکان کی تکلیف دی جاتی حالانکہ صورتِ واقعہ یہ نہیں ہے۔‘‘

چنانچہ امر واقعہ یہ ہے کہ حقوق و فرائض کی تقسیم جس طرح شریعت نے کر دی ہے۔ اس کی انجام دہی کے لحاظ سے عورت کے کسی بھی غیر شرعی عذر کی بنا پر اس کو چھوٹ نہیں دی گئی۔ اسے جائزہ لینا چاہیے کہ کس موقع پر اس کا دینی فریضہ کس طرز عمل کا اس سے مطالبہ کرتا ہے۔

قرآن مجید میں انسان کے راحت و آرام میں ہونے پر اس کا طرز عمل بیان کیا گیا ہے:

’’اور ہم جب لوگوں کو (جو بھول میں پڑے ہوئے ہیں)تکلیف پہنچنے کے بعد رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں (ان کی تکلیف کو دور کرتے ہیں۔ فراخی و کشادگی عطا کرتے ہیں) تو (بجائے اس کے کہ وہ شکر گزار ہوں) وہ ہماری نشانیوں(کی مخالفت اور ان کی تردید) میں حیلہ سازی کرنے لگتے ہیں (اور اپنے کفر اور سازشوں سے باز نہیں آتے) آپ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ کی تدبیر (ان کے حیلوں کے مقابلے میں) جلد کارگر ہونے والی ہے۔ بے شک ہمارے فرشتے تمھاری حیلہ سازیاں لکھتے جاتے ہیں۔‘‘

یہی مضمون سورۃ الزمر کی آیت نمبر۸ میں بھی بیان ہوا ہے، جس میں انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بڑا بے انصاف اورناشکر گزار ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں۔

’’اورجو کچھ تم نے مانگا اس نے تم کو اس سب میں سے (بہت کچھ) دیا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہ کر سکو گے(لیکن کیا تمام انسان ایمان لے آئے، نہیں انسانوں کی ایک کثیر تعداد نے اللہ کا انکار کیا اور اپنے پر ظلم ہی کرتے رہے، بے شک انسان بڑا بے انصاف و ناشکر گزار ہے۔‘‘

اس طرح سورہ بنی اسرائیل آیۃ ۶۸ میں فرمایا وَ کَانَ الاِنسَانُ کَفُورًا ’’بے شک انسان بڑا ناشکرا واقع ہوا ہے۔‘‘

قرآن پاک میں انسان کی ایک اور فطری خصلت جو بتائی گئی ہے وہ اس کا جلد باز ہونا ہے، ارشادِ الٰہی ہے:

’’اور (بھول میں پڑا ہوا) انسان (اللہ سے) برائی کا بھی اسی طرح طالب ہوتا ہے جیسے بھلائی کا اور انسان تو (حقیقت سے نا آشنا) بہت جلد باز واقع ہوا ہے۔‘‘

گویا انسان اللہ سے جو کچھ اپنی ذات کے لیے طلب کرتا ہے اس کے بارے میں بھی نا آشنا ہے کہ وہ شے اس کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ حقیقت میں انسان اپنے بارے میں کچھ بھی فیصلہ ہو جانے کے لیے جلد باز ہے اوریہ فطرت عورت میں بآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ جب بھی اسے دنیاوی مسائل سے فراغت دے کر کچھ آسانیاں اور آسائشیں دی جاتی ہیں وہ نہ صرف یہ کہ اپنی پسند ناپسند کو عملاً ہوتے دیکھنا چاہتی ہے بلکہ کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام لیتی ہے۔ (۔۔۔جاری ہے!)

[مضمون نگار لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں]

(بشکریہ: ششماہی ’’معارف مجلہ تحقیق‘‘کراچی۔ جنوری تا جون ۲۰۱۲ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.