افغانستان میں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا!

افغانستان کے صوبے ہلمند میں غیر معمولی آپریشن جاری ہے۔ لڑائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدائی مرحلے میں ہمیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ مگر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ افغانستان میں نئے آپریشنز کا سلسلہ بارہ سے اٹھارہ ماہ تک چلے گا۔ صورت حال کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ جنرل میک کرسٹل اور ان کے ساتھیوں نے ڈیڑھ سال تک صورت حال کا جائزہ لے کر جو منصوبہ بندی کی ہے اسی کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے۔ سول ملٹری سیٹ اپ کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ افغان حکومت کو تمام امور جلد از جلد سونپ دیے جائیں۔ مگر اس کے لیے لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو فی الحال مطلوبہ معیار تک دکھائی نہیں دے رہی۔ شدت پسندی سے مستقل طور پر نمٹنے کے لیے چند رہنما اصول مرتب کرنے ہوں گے۔

صدر اوباما نے افغانستان کے لیے جن مزید تیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے ان میں سے پانچ ہزار چار سو ہلمند میں داد شجاعت دے رہے ہیں۔ مزید فنڈنگ کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں کی جانے والی منصوبہ بندی پر عمل میں تاخیر اور کوتاہی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ افغان فوج کی اتھارٹی کو زیادہ سے زیادہ قائم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے۔ مرجہ میں اتحادی افواج کی کارروائی سے مثبت نتائج ملنے لگے ہیں۔ وہاں افغان فوج بھی اتحادیوں کے شانہ بشانہ ہے۔

اگر ہمیں طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے تو کچھ حیرت کی بات نہیں۔ عراق میں بھی یہی ہوا تھا۔ جب ہم نے عراقی حکومت کی اتھارٹی قائم کرنے کے لیے بھرپور آپریشن شروع کیا تھا تو ملک بھر کے مزاحمت کار متفق اور متحد ہوگئے۔ وہ اپنے محفوظ ٹھکانے اتحادیوں سے واپس لینا چاہتے تھے۔ افغانستان میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہمیں رفتہ رفتہ کامیابی مل رہی ہے۔ شیڈو گورنر گرفتار ہو رہے ہیں۔ ہائی ویلیو ٹارگٹ حاصل کیے جارہے ہیں۔ ایک لاکھ افغان فوجی ملک بھر میں اپنی اتھارٹی قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

ہم جانتے ہیں سال رواں کے دوران ہمیں افغانستان میں شدید نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ صورت حال ہمارے لیے غیر متوقع نہیں۔ ہم مایوس نہیں بلکہ پرامید ہیں۔ ہمیں مایوسی یا خوش امیدی کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہمیں اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے کہ طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین نائن الیون کی طرز کے حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے دوبارہ استعمال نہ ہو۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی قندھار میں کی گئی اور پھر حملہ آوروں کو ہمبرگ کے راستے امریکا منتقل کیا گیا تاکہ وہ پرواز کی تربیت حاصل کریں۔

اپریل ۲۰۰۹ء سے اب تک پاکستان نے ہم سے غیر معمولی تعاون کیا ہے۔ خفیہ معلومات کے تبادلے کے بارے میں تفصیلات تو منظر عام پر نہیں لائی جاسکتیں، ہاں یہ ضرور کہنا پڑے گا کہ اب پاکستان میں عوام، سیاست دانوں اور فوجی قیادت کو مکمل یقین ہوچکا ہے کہ عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے ہاتھوں حکومت کی عملداری خطرے میں ہے۔ یہ احساس ہر سطح پر پوری شدت سے پایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود پاکستان کی سلامتی اور خوش حالی کے لیے لڑی جارہی ہے۔

امریکا اب ہائی ویلیو ٹارگٹ کی گرفتاری اور اسیری سے گریزاں ہے کیونکہ بین الاقوامی اداروں کی نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں معاملات پر نظر رکھتی ہیں۔ اگر تمام اصولوں اور قوانین کا خیال نہ رکھا جائے تو بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ عراق کی ابو غریب جیل کا معاملہ ہمارے لیے ایک واضح مثال ہے۔ میں ذاتی طور پر گوانتا نامو بے جیل بند کرنے کے حق میں رہا ہوں۔ مگر اس کے لیے غیر معمولی عقل مندی اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ قیدیوں کی منتقلی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس معاملے کو بہتر طریقے سے نمٹانا پڑتا ہے۔

امریکی مرکزی کمان کے علاقوں سے القاعدہ کو غیر موثر بنانے میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سعودی عرب اور چند دوسرے ممالک کو اس کا فائدہ پہنچا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب مشرق وسطیٰ میں القاعدہ کی مرکزی قیادت کو نمایاں حد تک غیر موثر کیا جاسکا ہے۔ ایک نیٹ ورک کا دبائو کم کرنے کے لیے دوسرا نیٹ ورک قائم کرنا پڑتا ہے اور ہم نے القاعدہ کے معاملے میں یہی کیا ہے۔ القاعدہ کا مسئلہ یہ ہے کہ اب وہ کہیں بھی امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے بے تاب ہے۔ کرسمس کے موقع پر ایمسٹرڈیم سے ڈیٹرائٹ جانے والی فلائٹ کو تباہ کرنے کی کوشش سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اب ہمیں زیادہ محتاط رہنا پڑے گا۔

ایران کا معاملہ بھی ایسا نہیں کہ ہم بھلادیں یا سرد خانے میں ڈال دیں۔ اس کے بارے میں تمام خدشات غلط ثابت نہیں ہوئے۔ ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے نئے سربراہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق سرگرمیوں کا عمدگی سے جائزہ لیا ہے۔ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی سمت بڑھا ہے۔ اس حوالے سے نیشنل انٹیلی جنس ایسٹیمیٹ بھی تیاری کے مراحل میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایران کو سفارت کاری کے ذریعے حالات بہتر بنانے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ارکان اور روس کو بھی اب محسوس ہو رہا ہے کہ اس طرح بات نہیں بنے گی۔ کوئی ایک ملک یا امریکا ایران کے خلاف براہ راست کارروائی کے حق میں نہیں۔ ایران پر دبائو بڑھانے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کومبیٹ کمانڈروں کو کرنا ہے۔ ہم آنکھ بند کرکے کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔

{}{}{}

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*