الجزیرہ۔۔۔ ہر وقت

الجزیرہ نے اپنی نظریں سی این این اور بی بی سی پر جمع رکھی ہیں۔ دس سال قبل دوہا میں قائم ہونے والے متنازعہ عرب ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے مئی کے آخر میں ۷/۲۴ انگریزی زبان چینل الجزیرہ انٹرنیشنل شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ مغرب کے بعض بڑے صحافی مثلاً BBC کے David Frost اور سابق Nightline کے نامہ نگار David Marash جیسے لوگ اس چینل کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں۔ جلد ہی اس کے نیوز مراکز کوالالمپور ‘ لندن اور واشنگٹن میں کھلنے والے ہیں۔ پر عزم توسیعی منصوبے کی ذمہ داری ۳۸ سالہ ودہ غنفر کے سر ہے جنہیں مارچ کے اواخر میں نیٹ ورک کے سب سے اعلیٰ منصب یعنی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر مامور کیا گیا ہے۔ یہ پیدائشی لحاظ سے فلسطینی ہیں اور تعلیم اُردن میں حاصل کی ہے۔ غنفر نے نیوز ویک کے دوہا میں نمائندے ویبھولی پٹیل سے اسٹیشن کی شہرت اور اس کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے۔


ویبھوتی: اب آپ کو بین الاقوامی ہونے کی کیوں سوجھی ہے؟

غنفر: الجزیرہ پورے عالم عرب کا ایک علاقائی نیٹ ورک ہے۔ دس سالوں میں اس نے اپنے برانڈ نام کے ساتھ دنیا میں بین الاقوامی شہرت حاصل کرلی ہے اب ہم علاقے سے ماوراء بھی اپنے تازہ تناظر کو متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ ہمارا چینل انگلش زبان میں وہ واحد نیوز چینل ہے جس کا مرکزی دفترمشرقِ وسطیٰ میں ہے اور جو ۲۴ گھنٹے جاری رہتا ہے۔

ویبھوتی: نئے سیٹ اپ نے بہت سارے شہرت یافتہ مغربی صحافیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے؟

غنفر: ان لوگوں کے پاس کافی اونچی اسناد ہیں انہوں نے میڈیا میں بہت عمدہ کام کیا ہے۔ ان کے تجربوں کی وجہ سے الجزیرہ میں شاندار پروگرام شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ عربی زبان کے محدود دائرۂ ناظرین کی وجہ سے ساری دنیا میں ہمارا نیٹ ورک نہیں دیکھ جارہا تھا لیکن اب جبکہ ہمارے پاس بہترین انگریزی داں صحافی ہیں تو ہمارے پروگرام کی عالمی تفہیم میں اضافہ ہوگا۔

ویبھوتی: اس وقت آپ کے پروگرام کون دیکھتا ہے؟

غنفر: ہمارے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ عرب عوام الجزیرہ کو خبروں کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ تصور کرتے ہیں عوام تو ہمیں دیکھتے ہی ہیں حکام اور اشراف بھی ہمیں معلومات کا بہت اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہم جو کچھ احاطہ کرتے ہیں وہ ان کو خاصی اہمیت دیتے ہیں؟ الجزیرہ نے مشرق وسطیٰ میں سیاسی نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔ اب عوام کو حزب اختلاف کی باتیں براہ راست سننے کو ملتی ہیں۔ الجزیرہ کھلا ہی ہے دانشوروں‘ مفکروں اور ناقدوں کے لیے تاکہ وہ یہاں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ یہ اس علاقے میں سب سے پہلی جمہوری مشق ہے۔ عرب دنیا تبدیل ہورہی ہے اصلاحات جمہوریت‘ آزادیٔ اظہار رائے یہ وہ موضوعات ہیں جو اس مدتِ انقلاب کا حصہ ہیں۔

ویبھوتی: لیکن آپ اب بھی اسامہ بن لادن کو عظیم ترین پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں؟

غنفر: ہمارا مقصد رائے اور مخالف رائے کو پیش کرنا ہے۔ ۲۰۰۱ء تک مغربی میڈیا اور حکومتیں ہمیں علاقے میں سب سے اہم قوت برائے آزادی خیال کرتی تھیں۔ لیکن جب ہم اسی مقصد کو بین الاقوامی سطح پر افغانستان اور عراق جنگ کے حوالے سے اپنایا تو امریکا نے احتجاج کیا۔ ہم خبروں کو رپورٹ کرتے ہیں۔ چنانچہ کوئی واقعہ خبر بنے کے لائق ہوتا ہے تو ہم اسے اسکرین پر لاتے ہیں۔ خواہ یہ اسامہ بن لادن ہو‘ ایمن الظواہری ہو یا عراق میں القاعدہ ہو۔ چونکہ یہ نیو ز اسٹوری کے لیے بہت ہی اہم ہیں اور اہم نیوز چینل میں تو ان کو کوریج ملے گی۔ ہم سیاسی فائدے کے لیے اہم نیوز کو سنسر نہیں کرسکتے۔ یہ کسی کے پروپیگنڈہ آلات نہیں ہیں۔ جارج ڈبلیو بش اور رمزفیلڈ ہمارے متعلق شکایت کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے ہی ہزار گھنٹوں پر مشتمل بش کی لائیو تقریں عربی میں ترجمہ شدہ اپنے چینل سے نشر کی ہیں۔ ہم نے پانچ گھنٹے بھی بن لادن کی تقریر نشر نہیں کی۔ لہٰذا یہ بات غلط ہے کہ ہم بن لادن کے ترجمان ہیں۔

ویبھوتی: جب عراقی حکومت نے یہ الزام لگایا کہ آپ تشدد کو ہواد ے رہے ہیں تو آپ کو عراق سے باہر نکال دیا گیا ‘کیا آپ اپنے بیورو کو عراق میں واپس لانا چاہتے ہیں؟

غنفر: بے شک۔ عراق ایک بہت بڑی اسٹوری ہے جسے ہم اس وقت نیوز ایجنسی رپورٹوںاور دوہا میں اپنے نیوز روم سے Cover کر رہے ہیں۔ عراق میں ہماری موجودگی ہمیں ایسی کوریج کی صلاحیت عطا کر سکیں گی جو میدانی حقائق سے زیادہ مطابقت رکھتی ہو گی۔ بعض الزامات ہمارے خلاف لگائے گئے ہیں لیکن اس وقت کوئی ڈیڑھ سال سے ہماری موجودگی پر وہاں پا بندی لگادی گئی ہے۔ الجزیرہ کسی بھی مشکل سیاسی حالات کے پیچھے وہاں نہیں رہا ہے۔ پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ الجزیرہ عراق میں حقیقت کی بہترین تصویر پیش کررہا تھا۔ ہم عراقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عراق میں ہمیں بیور وکھولنے کی اجازت دے اور ہمارے نامہ نگاروں کو کام کرنے کی اجازت دے جن میں بیشتر عراقی شہری ہیں۔ انہیں واپس آنے کی اجازت دے تاکہ وہ روزمرہ کے حقائق سے باخبر ہوسکیں۔ ہم نے کئی عراقی افسروں سے رابطہ کیا ہے اور بہتوں نے ہم سے وعدے کیے ہیں کہ بیورو کو کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ الجزیرہ کو مزاحمت کاروں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ہم نہ ہی کسی کے خلاف ہیں اور نہ کسی کے حق میں ہیں۔

ویبھوتی: اگرچہ عراق میں رپورٹنگ کرنا ایک جہاد ہے؟

غنفر: ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۴ء میں ہمارے ۲۰ سے زائد صحافیوں کو امریکی افواج نے گرفتار کرلیا تھا اگرچہ بعض کو صرف چند گھنٹوں کے لیے مگر بعض دوسروں کو تو ۳۰ دنوں سے زیادہ قید میں رکھا۔ بعض کو تو امریکا کی مسلح افواج نے جسمانی طور پر ٹارچر بھی کیا اور بعض کو ابوغریب جیل میں بھی قید رکھا گیا۔ ایک ساتھی نجف میں فلم بناتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ ایک ساتھی سقوطِ بغداد سے ایک دن قبل قتل کردیا گیا۔ پھر امریکی افواج نے ہمارے دفتر پر بمباری کردی۔ اب یہ اطوار بہزاد ہے جسے مزاحمت کاروں نے ۲۳ فروری کو قتل کردیا۔ میں نے اسے خود بحال کیا تھا جب میں بغداد میں بیورو چیف تھا۔

ویبھوتی: آپ الجزیرہ کی کامیابی کو کیسا خیال کرتے ہیں؟

غنفر: ہماررا بنیادی مشن یہ ہے کہ دنیا کے اس خطے میں ہم عرب میڈیا کو مطلق العنان حکومتوں کے تصرف سے آزاد کرائیں تاکہ اس طرح ہم ناظرین و سامعین کو انتخاب کے مواقع فراہم کرسکیں انہیں معلومات کا حق دلواسکیں‘ انہیں اچھی طرح باخبر رکھ سکیں‘ انہیں سیاسی حکام کی مداخلت کے بغیر اپنے سلسلے میں فیصلے کرنے کا اہل بناسکیں۔۱۹۹۶ء سے پہلے یہاں کوئی صحافیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔ہر شخص صحافت کو پروپیگنڈہ تصور کرتا تھا‘ اس کے خیال میں وہی چیزیں شائع ہوتی ہیں جو خفیہ ایجنسیاں اور حکومتیں چاہتی ہیں۔ ہم نے آزاد صحافت کو یہاں متعارف کروایا۔ اب دوسرے نیٹ ورکس بھی ہمارے نمونے پر عمل کررہے ہیں۔

(بشکریہ: امریکی ہفت روزہ ’’نیوزویک‘‘۔ شمارہ۔ ۱۰ تا ۱۷ اپریل ۲۰۰۶ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*