ایمیزن کی شفا بخش جڑی بوٹیاں

ایمیزن کے جنگلات کے بارے میں آپ کو یہ بات شاید پتا نہ ہو کہ جنگلی حیات کی بے پناہ رنگا رنگی کے ساتھ ان جنگلات میں سیکڑوں اقسام کی ایسی نباتات بھی پائی جاتی ہیں جن کو مقامی باشندے صدیوں سے مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کرتے آرہے ہیں۔ برازیل ایک بڑا ملک ہے اور اس کے ساٹھ فیصد رقبے پر ایمیزن کے جنگلات میں جو دوسری جنگلی حیات کے ساتھ ساتھ روایتی ادویات میں استعمال ہونے والی بے شمار جڑی بوٹیوں سے بھی مالا مال ہیں۔ نہ صرف ایمیزن کے جنگلات میں رہنے والے قدیمی انڈین باشندے بلکہ بعد میں وہاں دنیا کے مختلف حصوں سے جانے والے لوگ بھی ان جڑی بوٹیوں سے فیض یاب ہوتے ہیں اور اس کا بنیادی سبب دوسرے عوامل کے ساتھ برازیل میں لوگوں کی عمومی غربت بھی ہے۔ مستحق لوگوں کو مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے والی ایک تنظیم ’پراجیکٹ فار ہیلتھ اینڈ ہیا پی نیس‘ کے میکنو لیوڈی اولیو نیرا نے علاج کے روایتی طریقوں کے اسی پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کے پاس علاج کرانے کے پیسے ہی نہیں ہوتے، اس وجہ سے بھی یہ بات اہم ہے کہ وہ جنگل سے ملنے والی ادویات اور جڑی بوٹیوں کو استعمال کریں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم اس بارے میں ایک تحقیق بھی کر رہی ہے کہ ان جنگلات سے وہ کون سی جڑی بوٹیاں ہیں جنہیں لوگ چھوٹے موٹے علاج کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ سنتریم شہر میں سماجی انصاف اور کثیر الملکی کمپنیوں کی جانب سے ایمیزن کو بے رحمی سے منافع کی خاطر تباہ کرنے کے خلاف جدوجہد کرنے والے کیتھولک پادری فادر ایڈلمبرٹو موراسینا اپنے فلاحی ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے روایتی طریقۂ علاج کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ خود کو ایسے طریقوں کا طالب علم بتاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جڑی بوٹیوں سے علاج کی انڈین روایت بڑی بھرپور ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کورا دور کہے جانے والے روایتی ڈاکٹروں کے پاس مرض کی وجہ سے تشخیص اور پھر اس کے لیے مناسب جڑی بوٹی تجویز کرنے کی زبردست مہارت ہے۔ بقول فادر ایڈلبرٹو انھیں بھی ذیابیطس کی بیماری ہے اور وہ ایلو پیتھک دوا کی جگہ کورا دور کی تجویز کردہ دوا استعمال کر رہے ہیں۔ میگولیو اولیو نیرا کے مطابق ایمیزن کے ان جنگلات میں نہ صرف پورے پورے مفید درخت ہیں بلکہ کسی کی جڑ تو کسی کا پھل یا کسی درخت کے پتے مفید ہیں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ ایسے کارآمد درختوں کی فہرست مرتب کی جائے تاکہ ان سے لوگوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد لی جاسکے۔

فادر ایڈلبرٹو کے ریڈیو اسٹیشن پر کام کرنے والی ایک افریقی نژاد لڑکی زوایلما و نیانا کے مطابق ایمیزن کے روایتی طریقۂ علاج میں آم کے درخت کی چھال سے گلے کی خرابی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ فادر ایڈلبرٹو کو خدشہ بھی ہے کہ ایمیزن کے جنگلات جس طرح تباہ کیے جارہے ہیں، اُس کے نتیجے میں یہ قیمتی علم کہیں ختم نہ ہو جائے۔ انھوں نے کہا کہ نہ صرف یہاں ایمیزن میں بلکہ برصغیر پاک و ہند وغیرہ میں جس طرح یہ کثیر الملکی کمپنیاں یلغار کر رہی ہیں اُس سے یہ روایتی علم ختم ہو جائے گا، اسی لیے وہ اس کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ اگر ان کے تجویز کردہ نسخے سے کسی کو نقصان ہوا تو ان کے خلاف لوگ کارروائی بھی کر سکتے ہیں، فادر ایڈلبرٹو نے کہا کہ ہاں یہ خطرہ تو ہے بلکہ اسی وجہ سے روایتی طریقوں کے بارے میں بتانے والی ایک بوڑھی انڈین خاتون نے ان سے کہا تھا کہ اب وہ پیچیدہ نہیں، صرف آسان طریقے بتائیں گی کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی غلط نسخہ استعمال کرے، الزام فادر کو دے اور وہ مشکل میں پڑ جائیں۔ لیکن بقول فادر ایڈلبرتو انھوں نے پھر بھی لوگوں تک یہ روایتی علم پہنچانے کا خطرہ مول لینے کا انتخاب کیا ہے اور وہ ایسا کرتے رہیں گے۔

(بحوالہ ’’سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاٹ کام‘‘)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*