امریکا‘ اسرائیل اور یہودی۔۔۔ اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔۔۔!

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون ’’جیوز‘‘ اسرائیل اینڈ امریکا‘ میں مضمون نگار تھامس فرائڈمین نے عراق‘ عرب دنیا اور مسلم دنیا میں عوامی سطح پر امریکا‘ اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں عام جذبات و احساسات کا ایک جائزہ پیش کیا ہے۔ مضمون نگار یہ کہتا ہے کہ عراق میں بالخصوص اور عرب اور مسلم دنیا میں بالعموم امریکا‘ اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں ایک جیسے خیالات پائے جاتے ہیں‘ مسلم دنیا کا عام آدمی انہیں اسلام کا کٹر دشمن خیال کرتا ہے۔ یہ رجحان کسی خاص علاقے تک محدود نہیں ہے نہ کسی خاص طبقہ میں پایا جاتا ہے‘ بلکہ عام آدمی کا خیال ہے اور پوری دنیا میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ اس کی شدت میں فرق ہو سکتا ہے‘ ورنہ موجود ہر جگہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کا ایک عام آدمی اپنے دل کی گہرائیوں سے اس پر یقین رکھتا ہے کہ امریکا‘ اسرائیل اور یہودی تین الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی شے کے تین جدا جدا نام ہیں اور جہاں تک اسلام اور مسلمانوں سے ان کے تعلق کا سوال ہے تو یہ اسلام اور مسلمانوں کے کٹر دشمن ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھی۔ مضمون نگار یہ بھی کہتا ہے کہ اس رجحان کو گیارہ ستمبر کے واقعہ نے وسیع پیمانے پر نہ صرف پھیلا دیا بلکہ عام مسلمانوں کے ذہنوں میں اسے راسخ کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ عرب۔اسرائیل جھگڑے سے بھی اس کو تقویت ملی ہے‘ جو نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں کیا جاسکا ہے۔ تھامس فرائڈ مین مزید کہتا ہے کہ عراق میں تو اس نے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ عام عراقی امریکی فوجیوں کو یہودی کہہ کر پکارتے ہیں‘ جب وہ کسی کو خبردار کرنا چاہتے ہیں اور کسی خطرے سے آگاہ کرنے کا ارادہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ’’باہر مت جائو باہر یہودی سڑک پررکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔‘‘ پوری عرب اور مسلم دنیا کا یہی حال ہے۔ جب کسی کو برا بھلا کہنا ہوتا ہے تو وہ اسے یہودی کہہ دیتا ہے یا کسی کو کسی کے وجود سے انکار کرنا ہوتا ہے تو اسے یہودی کہہ دیتا ہے۔ گویا امریکا‘ اسرائیل اور یہودیوں کا وجود اس درجہ قابلِ نفرت بن گیا ہے کہ وہ ان کے نام سے گھن کھانے لگے ہیں۔ مضمون نگار یہ بھی کہتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے طاقت کے زور پر اپنی بات منوانے اور مسئلہ فلسطین کو اپنی مرضی کے مطابق حل کرانے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس نے بھی اس رجحان کو پختہ سے پختہ تر کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو رہا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ اس میں کمی واقع ہو رہی ہو بلکہ ایک وراثت کی طرح منتقل ہو رہا ہے اور یہ امریکا‘ یہودیوں اور اسرائیل تینوں کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کی خاطر غزہ سے جزوی واپسی کی شیرون پالیسی بھلے ہی کامیاب ہو جائے مگر اس سے امریکا‘ اسرائیل اور یہودیوں کے دشمنِ اسلام اور مسلمان ہونے کے رجحان کو مزید استحکام نصیب ہو گا۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘۔ نئی دہلی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*