امریکا کو چین سے ڈرنا نہیں چاہیے!

Henry Kissinger (L) Xi Jinping (R)

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کہتے ہیں کہ طویل سیاسی کیریئر میں انہوں نے بہت سے دوست اور ان سے کہیں زیادہ دشمن بنائے ہیں۔ زیر نظر دس سالوں میں ہنری کسنجر چین، عراق اور دیگر امور پر اپنی آراء پیش کر رہے ہیں۔


٭ کیا امریکا کو چین سے ڈرنا چاہیے؟

ہنری کسنجر: چین کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ڈرنا لازم نہیں۔

٭ چین سے کیوں نہیں ڈرنا چاہیے؟

ہنری کسنجر: چین اور امریکا دونوں ایک دوسرے سے بعض امور میں اور بعض رجحانات کے باعث ڈرتے ہیں۔ چین کو یہ خوف ہے کہ امریکا اسے عسکری طور پر حصار میں لینا چاہتا ہے۔ امریکیوں کو یہ خوف ہے کہ چین پورے ایشیا پر متصرف ہونا چاہتا ہے اور یقیناً اِس کے نتیجے میں ہمیں یعنی امریکیوں کو باہر کردے گا۔ میرا خیال یہ ہے کہ امریکا اور چین کو مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا چاہیے تاکہ بعض شعبوں میں محاذ آرائی کے بجائے مل کر کام کرنے کا رجحان پروان چڑھے اور دونوں ممالک بہتر انداز سے آگے بڑھ سکیں۔

٭ آپ نے اپنی کتاب ’’آن چائنا‘‘ میں امریکا کے پیشگی حملوں کے نظریے کے مقابلے پر چین کے لیے تحمل کی پالیسی کی وکالت کی ہے۔

ہنری کسنجر: ایسا نہیں ہے۔ میں نے یہ نکتہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکیوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں بہت سے مسائل کو حل طلب پایا اور بنایا ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، ہم یہ سوچتے ہیں کہ اسے حل کیا جاسکتا ہے اور پھر وہ مسئلہ غائب ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہماری تاریخ مختصر سی ہے اور کامیاب رہی ہے۔ دوسری طرف چین کی تاریخ کئی ہزار برسوں پر محیط ہے اور اس میں بہت کچھ ہے۔ چینیوں کی سوچ یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے کا کوئی حتمی حل نہیں ہوتا بلکہ ہر مسئلہ دوسرے بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ چینیوں کے نزدیک تاریخ ایک طویل اور جاری رہنے والا عمل ہے۔ میں اس معاملے میں اقدار کو شامل نہیں کر رہا۔

٭ کیا آپ چین کے بارے میں خاصا دل کش اور خوشگوار کن تصور اس بنیاد پر استوار کیے ہوئے ہیں کہ آپ کا ادارہ چینی حکومت کے لیے کام کرتا ہے؟

ہنری کسنجر: ہم کہیں بھی کسی بھی حکومت کو اپنے کلائنٹ کے طور پر نہیں لیتے۔ چینی حکومت یا کسی بھی چینی ذریعے سے ہم کوئی رقم نہیں لیتے۔

٭ عرب دنیا میں بیداری کی جو لہر دکھائی دے رہی ہے اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا آپ کسی خوشگوار نتیجے کے حوالے سے پُرامید ہیں؟

ہنری کسنجر : جو کچھ ہو رہا ہے وہ یقینی طور پر خوش آئند ہے۔ تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ لازم نہیں کہ یہ جمہوری انقلاب ہی ہو۔ ہمیں ایک ایسے پانچ ایکٹ والے ڈرامے کی حمایت کرنی ہے جس کا پہلا ایکٹ عوام کی بیداری پر مبنی ہے اور جمہوریت پر منتج ہوسکتا ہے۔

٭ یہ جانتے ہوئے کہ مشرق وسطیٰ میں بیرونی مداخلت کے بغیر بھی حکومت یا حکومتی نظام کی تبدیلی ممکن ہے، کیا امریکا عراق میں کسی بڑی تبدیلی کے لیے چند سال انتظار نہیں کرسکتا تھا؟

ہنری کسنجر: میں نے عراق میں فوج بھیجنے کی حمایت کی تھی۔ کانگریس کے ۸۰ فیصد ارکان نے بھی ایسا کرنے کی حمایت کی تھی مگر اب وہ لوگ یہ بات بھول چکے ہیں۔ میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ کسی ملک میں حکومت تبدیل کرنے کے لیے طاقت استعمال کی جائے، مگر کبھی کبھی حالات کے مطابق اپنے خیالات کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔

٭ اور اب؟

ہنری کسنجر: عراق شاید خطے کا واحد ملک ہے جس میں نمائندہ حکومت ہے۔ لیکن اگر کوئی پوچھے کہ کیا میں عراق میں دس سال تک فوج رکھنے کے حق میں ہوں تو میں نفی میں جواب دوں گا۔

٭ کیا امریکا انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا رکن اس لیے نہیں بنا کہ آپ جیسے سابق وزرائے خارجہ کو سنگین جرائم کے ارتکاب کی پاداش میں مقدمات کا سامنا ہوسکتا تھا؟

ہنری کسنجر: ہم اب تک انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے رکن اس لیے نہیں بنے کہ اس کے وکلا یعنی پروسیکیوٹرز کا تعلق مختلف ممالک سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ کسی بھی اہم اشو کے تمام پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

٭ مونٹی پائتھون سے باب ڈائلان تک کئی فنکاروں نے آپ کے بارے میں گیت گائے ہیں۔ آپ کا فیورٹ کون ہے؟

ہنری کسنجر: آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ میں اِن میں سے کسی کو نہیں جانتا۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘ امریکا۔ ۶ جون ۲۰۱۱ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*