امریکی مسلمان سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں: ایک جائزہ

امریکا میں ایک حال ہی میں جاری ہونے والے ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا میں مقیم روایتی طرزِ معاشرت پر عمل پیرا مسلمان تارکینِ وطن بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں امریکی سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔

یہ جائزہ ڈیٹرائیٹ‘ مشی گن اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں کیا گیا‘ جہاں مسلمان زیادہ تعداد میں مقیم ہیں۔ مطالعے سے پتا چلا ہے کہ مسلمان آبادیاں جو ماضی میں خود کو تنہا سمجھتی تھیں اور صرف اپنی جانب دیکھتی تھیں اب امریکا میں زیادہ سے زیادہ سیاسی شرکت کی خواہاں ہیں۔

یہ جائزہ کینٹکی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ سیاسیات احسان باغبی نے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل پالیسی اینڈ انڈر اسٹیڈنگ کے لیے ۲۰۰۳ء کے موسمِ گرما میں مکمل کیا۔ یہ انسٹی ٹیوٹ اسلامی معاملات کے حوالے سے مشی گن میں ایک تھنک ٹینک کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔

اس جائزے کے مطابق مسجد جانے والے ۹۳ فیصد مسلمانوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ امریکی مسلمانوں کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلم کمیونٹی خود کو امریکی معاشرے سے الگ تسلیم کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ مذہبی طور پر قدامت پسند مسلمانوں کی دو تہائی اکثریت نے بھی امریکی سیاست میں فعال شمولیت کی حمایت کی۔

جائزے میں اپنی رائے کا اظہا رکرنے والے ۶۰ فیصد سے زیادہ افراد نے پبلک پالیسی کے حوالے سے اپنی اولین ترجیح شہری حقوق کے معاملات کو قرار دیا۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو دہشت گردی کے واقعات کے بعد امریکا میں یہ سوچ عوامی شعور کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

اس جائزے میں امریکی مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی زندگی میں شرکت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ جائزے کے مطابق ۷۳ افراد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مسلمانوں کو سماجی خدمات کے کاموں میں غیرمسلموں کے ساتھ مل کر ہاتھ بٹانا چاہیے۔ اس سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مسجد جانے والے افراد امریکی معاشرے میں اپنی مثبت موجودگی کا اظہار کرنے پر آمادہ ہیں۔

توقع ہے کہ مسلمان اور عرب امریکی ۲۰۰۴ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔ اکتوبر ۲۰۰۳ء میں چھ ڈیمو کریٹ امیدواروں نے مشی گن کے شہر ڈیئر بورن میں عرب امریکن لیڈر شب کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں مذکورہ بالا مطالعہ کیا گیا ہے اور اس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امیدواروں نے عرب اور مسلم امریکیوں کو ایک نئے اور اہم حلقۂ انتخاب کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

اس جائزے کی مکمل تفصیلات ویب سائٹ
http://www.ispu.us/pdfs/detriot_mosque_2.pdf پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

(بشکریہ: ’’خبر و نظر‘‘۔ امریکی شعبۂ تعلقاتِ عامہ)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*