Abd Add
 

امریکی ایٹمی ہتھیاروں کا مستقبل؟

جس وقت ’’منٹ مین ۳‘‘ نامی بین البراعظمی میزائل پر کام شروع ہواتھا اس وقت لنڈن جانسن امریکا کے صدر تھے اور ویتنام جنگ اپنے عروج پر تھی۔ ۱۹۷۰ء میں جب یہ میزائل باقاعد ہ سروس میں آیا تو یہ وہ پہلا میزائل تھا جو ایک سے زیادہ وار ہیڈ کو متعدد مختلف اہداف تک پہنچا سکتا تھا۔ اس بات کو ۵۰ سال ہونے کو آئے ہیں اور اس وقت ’منٹ مین ۳‘ امریکا کا واحد بین البراعظمی میزائل ہے۔ امریکا کی ۵ مغربی ریاستوں میں چار سو سے زائد میزائل صدارتی حکم ملنے کے چند لمحوں کے اندر فائر کیے جانے کے لیے تیار ہیں۔

امریکا کا ایٹمی مثلث زمین پر موجود اڈوں، سمندر میں موجود آب دوزوں اور فضا میں اڑتے بمبار تیاروں پر مشتمل ہے۔ یہ ایٹمی مثلث وقت پڑنے پر امریکا کے ۱۴۵۷؍ایٹمی ہتھیار ہدف پر داغ سکتا ہے۔ تاہم ایٹمی مثلث میں شامل یہ تینوں ہی چیزیں اب پرانی ہوتی جارہی ہیں۔ امریکا کا سب سے پرانا بمبار طیارہ ’’بی ۵۲‘‘ اب ۶۶ سال پرانا ہوچکا ہے اور بی ۲ بمبار طیارہ بھی ۱۹۷۰ء کی دہائی میں تیار ہوا تھا اور اگلے ۱۰ سال میں ریٹائر ہوجائے گا۔سب سے پرانی اوہایو کلاس آبدوز کو بھی نومبر میں ۴۰ سال ہوجائیں گے۔ ان ہتھیاروں کے متبادل پر کام ہورہا ہے۔ ایک نئے بمبار طیارے ’’بی ۲۱ ریڈر‘‘ کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ اگلے سال کی جائے گی۔ اگلے دس برس میں ایک نئی کولمبیا کلاس آبدوز بھی سمندروں میں موجود ہوگی، تاہم بین البراعظمی میزائلوں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔

اگر ’منٹ مین ۳‘ کے بعد نئے میزائل کی بات کی جائے تو اس پر کاغذی کارروائی ہورہی ہے۔ ستمبر میں امریکی فضائیہ نے نارتھروپ گرومین نامی اسلحہ ساز کمپنی کو گراؤنڈ بیسڈ اسٹریٹیجک ڈیٹیرنٹ (زمین سے مار کرنے والا ہتھیار) تیار کرنے کے لیے تقریباً ۱۳؍ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔ یہ نیا بین البراعظمی میزائل ۲۰۲۹ء تک تیار ہوگا اور ۲۰۷۵ء تک سروس میں رہے گا۔ یہ میزائل زیادہ بھروسے مند اور زیادہ دور تک ہدف کو بخوبی نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ تاہم اس پروگرام کو مکمل پذیرائی حاصل نہیں ہورہی۔

جنوری ۲۰۱۹ء میں امریکی کانگریس کے بجٹ آفس نے اندازہ لگایا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے جانے والے ایٹمی ہتھیاروں کی تجدید کے پروگرام پر سال ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۸ء تک ۴۹۴ ؍ارب ڈالر کے اخراجات ہوں گے، جن میں سے ۶۱؍ارب ڈالر صرف نئے بین البر اعظمی میزائل پر خرچ ہوں گے۔ اس منصوبے کے ناقدین کہتے ہیں کہ جب بمبار طیارے اور آبدوزیں یہ کام کرسکتی ہیں تو نئے میزائل پر اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

تاہم نئے میزائل کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایٹمی مثلث میں زمین سے مار کرنے والا میزائل سب سے زیادہ بھروسے مند اور تیز تر ہتھیار ہے۔ بمبار طیاروں کو فضا سے واپس تو بلایا جاسکتا ہے لیکن انہیں اڑانے کے لیے تیاری کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اسی طرح ایک آبدوز اپنے ہدف کے بہت قریب پہنچ سکتی ہے لیکن اس سے رابطہ برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان دونوں کے برعکس زمین سے ایک بین البراعظمی میزائل کو چند منٹوں کے اندر فائر کیا جاسکتا ہے۔

یہ مستعدی ہی ناقدین کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ وہ اسے ایک ایٹمی بحران کا نقطہ آغاز سمجھتے ہیں۔ لیکن اس مستعدی کا یہ مطلب بھی ہے کہ امریکی میزائل کسی بھی دشمن ملک کے میزائلوں کو فائر ہونے سے پہلے ہی تباہ کر سکتے ہیں یا کسی حملے کی صورت دشمن ملک کے میزائلوں کے گرنے سے پہلے ہی امریکا اپنے میزائل استعمال کرسکتا ہے۔ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نامی ایک تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’اگر یہ بین البراعظمی میزائل نہ ہوں تو کسی دشمن کو امریکا کے زیادہ تر ایٹمی ہتھیار تباہ کرنے کے لیے صرف پانچ اہداف کو ہی ہدف بنانا ہوگا (۳ فضائی اڈے جہاں بمبار طیارے موجود ہیں اور ۲ بحری اڈے جہاں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس آبدوزیں موجود ہوتی ہیں)‘۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ میزائل پانی کے اندر سراغ رسانی اور فضائی دفاع کی جدید ٹیکنالوجی کے خلاف موثر رہتے ہیں، جبکہ بمبار طیاروں اور آبدوزوں کو اس ٹیکنالوجی سے خطرہ ہوسکتا ہے۔ تیسری اور نسبتاً غیر حقیقی دلیل یہ ہے کہ اگر روس امریکا کے میزائلوں کو نشانہ بنانا چاہے گا تو اسے اپنے ایٹمی میزائلوں کی خاطر خواہ تعداد زمین پر موجود امریکی میزائل اڈوں کے خلاف استعمال کرنا پڑے گی لیکن اس حملے کے بعد بھی امریکا کے پاس فضا میں اڑتے ہوئے بمبار طیاروں اور آبدوزوں کی صورت میں اتنے ایٹمی میزائل موجود ہوں گے، جو روس کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دلیل اس وقت ہی قابل قبول ہوسکتی ہے جب آپ روس کی جانب سے ایٹمی حملے میں پہل کے امکان کو تسلیم کرلیں۔

اس دلیل نے ایک سیاسی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ گزشتہ سال امریکی کانگریس نے ایٹمی مثلث، بشمول بین البراعظمی میزائلوں کی تجدید نو کے لیے رقم جاری کی تھی۔ تاہم ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ایڈم اسمتھ اور دیگر معروف ڈیموکریٹ اراکین کو اس پر تحفظات تھے۔ سماعت کے دوران صدر بائیڈن کے سیکرٹری برائے دفاع لائیڈ آسٹن اور ان کی نائب کیتھلین ہکس نے اس منصوبے کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ تاہم مغربی ریاستوں، جہاں ان میزائلوں کے اڈے واقع ہیں کے سینیٹروں نے اس پر سوالات اٹھائے تو ان دونوں کا یہی کہنا تھا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ صدر بائیڈن ہی کریں گے۔

امریکی ایٹمی پالیسی میں اس مثلث کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دراصل پینٹاگون کی ’مقدس تثلیث‘ ہے اور اسی وجہ سے صدر اسے ختم نہیں کرسکتے۔ کارنیگی انڈاؤمینٹ سے تعلق رکھنے والے پنارے وادی کے مطابق اس مثلث کو ختم کرنے کے بجائے ایک متبادل کام یہ ہوسکتا ہے کہ ’’منٹ مین ۳‘‘ کی تعداد میں کمی لائی جائے اور اضافی میزائلوں کو پرزہ جات کی فراہمی کے لیے رکھ لیا جائے۔ اس طرح روس کے ساتھ میزائلوں اور ایٹمی ہتھیارں کے حوالے سے مذاکرات کے لیے وقت بھی مل جائے گا۔ واضح رہے کہ روس بھی اگلے سال نیا بین البراعظمی میزائل متعارف کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

صدر بائیڈن اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں یہ بعد کی بات ہے لیکن ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے امریکا کا رویہ تبدیل ہورہا ہے۔ اپنی انتخابی مہم میں ڈیموکریٹک جماعت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے زمین، فضا اور سمندر سے مار کرنے والے پرانے ایٹمی ہتھیاروں پر ’انحصار اور اخراجات‘ پر سخت تنقید کی تھی۔

ایک جانب تو یہ بحث کی جارہی ہے کہ امریکا کو کس قسم کے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے چاہییں اور دوسری جانب یہ بحث بھی جاری ہے کہ ان ہتھیاروں کو کس طرح استعمال کیا جانا چاہیے۔ ایک سوال یہ بھی موجود ہے کہ آیا امریکا ان ہتھیاروں کے استعمال کو صرف اپنے دفاع کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کرے یا نہیں؟ اس قسم کا فیصلہ بہت معصومانہ معلوم ہوتا ہے۔

بحیثیت نائب صدر جوبائیڈن نے اپنے آخری دنوں میں ایٹمی حملے میں پہل نہ کرنے کی پالیسی کی حمایت کی تھی۔ اس طرح امریکا اپنے اتحادی ممالک پر ہونے والے حملے کی صورت میں بھی جواباً اپنے میزائل استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ ویسے بھی امریکا کے ایشیائی اور یورپی اتحادی ممالک امریکا کی ایٹمی چھتری کی حفاظت میں ہی ہیں اور وہ اسی قسم کی پالیسی سے خوش نہیں ہوں گے۔ بہرحال جب تک امریکا کی مغربی ریاستوں میں موجود میزائل اڈوں میں بین البراعظمی میزائل موجود ہیں تب تک امریکا کے حریفوں کو بہت زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔

(ترجمہ: ایم یو فاروقی)

“America’s ICBMs are ageing. Does it still need them?” (“The Economist”. February 22, 2021)




Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.