ایک لائقِ تحسین فیصلہ مگر۔۔۔

بھارت‘ پاکستان اور چین سمیت انیس ایشیائی ملکوں نے باہمی رشتوں کو مستحکم بنانے‘ تعاون کو فروغ دینے اور تمام موجودہ اور پیش آمدہ مسائل کو بات چیت کے ذریعہ پُرامن طریقے سے آپس میں ہی حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے‘ یہ بات چین کے شہر فنگ دائو میں منعقدہ ایک دو روزہ (۲۲ و ۲۳ جون ۲۰۰۴ء) علاقائی کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہی گئی ہے‘ اس موقع پر ایک علاقائی (ریجنل) فورم ایشین کو آپریشن ڈائیلاگ (اے سی ڈی) بھی تشکیل دیا گیا‘ بتایا جاتا ہے کہ اس میں بھارت‘ پاکستان اور چین نے کلیدی رول ادا کیا ہے‘ پانچ صفحات پر مشتمل اعلامیہ میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ اس فورم میں شامل ممالک ایک مضبوط اور بہتر ایشیا کی ’تعمیر کریں گے‘ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فورم میں شامل ممالک صرف باہمی تعلقات کو بہتر بنانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے ہی کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ علاقائی اور عالمی مسائل کے سلسلہ میں بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر زور دیں گے تاکہ نہ صرف اس خطہ میں امن قائم رہے بلکہ وہ عالمی امن کے قیام کے سلسلہ میں بھی اہم اور نمایاں کردار ادا کر سکیں‘ بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ خواہش اس احساس کا ایک ظاہری روپ ہے جو سابق سوویت یونین کے شکست و ریخت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورت حال میں پیدا ہوا ہے اور آج بھی موجود ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہوا اور پوری دنیا ایک محور پر گردش کرنے پر مجبور کر دی گئی۔ یہ صورتحال کسی کو بھی پسند نہیں تھی مگر اسے گوارہ کرنا اس کی ایک مجبوری بن گئی تھی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تیسری دنیا نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی بلکہ تقسیم بہت واضح ہو گئی‘ ایک دنیا حاکم کی ہو گئی اور دوسری محکوم کی‘ قوموں و ملکوں کی آزادی سلب کر لی گئی‘ مگر تیسری دنیا کے ممالک میں اس صورتحال سے نکلنے کا احساس باقی رہا اور اس کی خواہش کا اظہار بھی ہوتا رہا۔ ایشین کو آپریسن ڈائیلاگ کی بنا ڈالنے کے پیچھے بھی یہی جذبہ کار فرما نظر آتا ہے۔

اس فورم میں بھارت‘ پاکستان اور چین کے علاوہ جاپان‘ بنگلہ دیش‘ ملائیشیا‘ سری لنکا‘ تھائی لینڈ‘ ویتنام‘ قطر‘ جنوبی کوریا‘ کویت‘ بحرین اور کمبوڈیا وغیرہ شامل ہیں‘ ان ملکوں کے مندوبین نے دو دن کے غور و خوض اور بحث و مباحثہ کے بعد ایک تیرہ نکاتی لائحہ عمل تیار کیا جو باہمی تعاون کو فروغ دینے‘ آپس کے اختلافات کو حل کرنے اور مل کر آگے بڑھنے کا ایک نقشۂ کار ہے۔ فورم میں شامل تمام ملکوں نے اس کا تہیہ کیا ہے کہ وہ ہر میدان میں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے‘ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے اور انسانی اور قدرتی وسائل کو اپنے ملک اور پورے خطہ کی عمومی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور طریقے سے بروے کار لائیں گے۔ اعلامیہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممالک نہ صرف سیاسی سطح پر رابطے کو بڑھانے اور تعلقات کو سدھارنے کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ اقتصادی و معاشی میدان میں بھی باہمی تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ان ملکوں میں اس خطہ کو یورپی یونین کے طرز پر ایک سیاسی و معاشی وحدت میں تبدیل کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے‘ وہیں دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان ملکوں پر ’حاکمِ وقت‘ کا جو دبائو پڑ رہا ہے اس کا الگ الگ مقابلہ کرنے کے بجائے سب مل کر اس کی مزاحمت کریں‘ عالمی تنظیم براے تجارت (ڈبلیو ٹی او) کے حوالے سے جو بات اس میں کہی گئی ہے وہ اس خواہش کی غماز ہے‘ اعلامیہ یہ کہہ رہا ہے کہ اس فورم میں شامل ممالک نے خطہ کی مالی حالت کو بہتر بنانے اور مالی استحکام پیدا کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ عالمی ایجنسیوں کو انہیں بلیک میل کرنے کا موقع نہ مل سکے‘ اس میں زرعی شعبہ کو بہتر بنانے‘ صحتِ عامہ کی موجودہ صورتحال میں سدھار لانے اور فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے موثر قدم اٹھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

یہ ایک لائقِ تحسین قدم ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔ براعظم ایشیا اپنے قدرتی اور انسانی وسائل کے لحاظ سے دوسرے تمام براعظموں میں ممتاز ہے۔ جیو پولیٹیکل نقطۂ نظر سے بھی دنیا کے نقشہ پر اس کا ایک خاص مقام ہے‘ اگر ایشیائی ممالک واقعی متحد ہو جائیں اور ایک مرتبہ اس کا فیصلہ کرنے کے بعد اس پر پوری قوت کے ساتھ عامل رہیں کہ وہ خطہ کی علاقائی سلامتی کو ہر قیمت برقرار رکھیں گے‘ اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے تمام ممکنہ قدم اٹھائیں گے‘ باہمی اختلافات و مسائل کو پُرامن طریقے سے آپس ہی میں مل کر طے کر لیں گے تو کسی بیرونی طاقت کو ان کے معاملات میں نہ مداخلت کا موقع ملے گا نہ استحصال کا‘ لیکن سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ جب آپس میں مل بیٹھتے ہیں تو بڑے خوشنما اعلانات اور دل خوش کن منصوبے بناتے ہیں اور جیسے ہی یہاں سے اٹھتے ہیں ان باتوں کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ ان سب کے واحد سپر طاقت کے ساتھ الگ الگ معاملات ہیں۔ اور ان میں کا ہر ملک اس کا دستِ نگر بنا ہوا ہے۔ معیشت مضبوط ہونے کے باوجود جاپان کی امریکا کے آگے ایک نہیں چلتی‘ جاپان اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی ترتیب دیتے وقت بھی امریکا کی خواہش اور اس کی پسند و ناپسند کا لحاظ رکھتا ہے‘ یہی حال چین اور دوسرے تمام ملکوں کا ہے۔ ان میں سے بیشتر ممالک تو وہ ہیں جو امریکا کے مقابلے کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘ اس لیے وہ بری طرح اس کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بعض تو ایسے ہیں جو امریکا بہادر کے چشم و ابرو کے اشاروں پر رقص کرنے کو اپنے لیے سرمایۂ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ تمام علاقائی تنظیمیں جو عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی غرض سے وجود میں لائی گئی تھیں‘ نیم جاں بلکہ مردہ ہو چکی ہیں‘ مذکورہ بالا کوشش ایک قابلِ تحسین و تقلید کوشش ہے مگر یہ اس وقت بار آور اور مفید ثابت ہو سکتی ہے جب اس کے ممبر ممالک اس کو موثر بنانے کی واقعی اور مخلصانہ کوششیں کریں۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘۔ نئی دہلی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*