صرف اقدامات ہی موثر ہیں!

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی ٹائم کے یروشلم بیورو چیف Matt Rees اور ورلڈ ایڈیٹر Romesh Ratnesar سے ملاقات ہوئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں انخلاء کے منصوبے کی منظوری کے بعد شیرون کا کسی میگزین کے ساتھ پہلا انٹرویو ہے‘ جس کا اقتباس درج ذیل ہے:


ٹائم: یہ بہت ہی خوبصورت گھر ہے۔

شیرون: میری رہائش کا یہاں پانچواں سال ہے۔

ٹائم: ابھی کتنے سال اور آپ یہاں رہیں گے؟

شیرون: مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کر رہا ہوں۔

ٹائم: اگر آپ ماضی کے اس مقام پر جا کر سوچیں جبکہ آپ ایک نوجوان فوجی افسر تھے تو ۲۰۰۵ء کا اسرائیل آپ کے خیال میں کس طرح کا ہونا چاہیے؟

شیرون: میں نے اس وقت یہی سوچا تھا کہ یہودیوں کی تعداد ہمارے یہاں مزید بڑھے گی اور واقعتا ایسا ہی ہوا۔ اب مجھے امید ہے کہ یہ تعداد اور بھی بڑھے گی۔ آئندہ ۱۵ سالوں میں میرا یقین ہے کہ یہاں یہودیوں کی تعداد میں مزید دس لاکھ کا اضافہ ہو گا۔ مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ ۵۷ سال بعد بھی یروشلم خطرات سے دوچار رہے گا۔ میں نے اس وقت نہیں سوچا تھا کہ معاملہ اتنا طول پکڑ جائے گا۔ لیکن بہرحال یہ ہوا۔ ہم دہشت کے ماحول میں نہیں رہ سکتے تھے۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی تھی‘ ہمیں اس کے خلاف ردِعمل دکھانا تھا۔ آگے کی طرف دیکھتے ہوئے حقیقی امن کے حصول کے لیے میرے خیال میں دہشت گردی‘ دشمنی اور اشتعال سے ہمیں مکمل طور پر نجات حاصل کرنی ہو گی۔

ٹائم: کیا آپ کا یہ احساس ہے کہ تقدیر آپ کو کسی اور عظیم لمحے کے لیے محفوظ رکھے ہوئے ہے؟

شیرون: میں اس حد تک تو نہیں جائوں گا کہ کہوں کہ تقدیر مجھے محفوظ کیے ہوئی ہے۔ البتہ میں نے اپنے آپ کو باقی رکھنے اور کامیاب ہونے کا انتظام کیا۔ جو قوت مجھے حاصل ہے‘ وہ مجھے سائٹرس کی کھیتی سے حاصل ہوئی۔ یہ قوت مجھے انگور کے کھیتوں میں ہل جوت کر اور خربوزہ کی فصل کی راتوں میں نگہبانی کر کے حاصل ہوئی ہے۔ میرا یقین ہے کہ ان کاموں نے مجھے قوت بخشی ہے۔

ٹائم: کیا آپ بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ یہودی ریاست کا وجود خطرے میں ہے؟

شیرون: پہلے میں کہوں گا کہ میرا یقین ہے کہ یہودی ریاست ہمیشہ باقی رہے گی۔ میں اپنے بچپن کا ایک ذاتی واقعہ آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ میں اپنے والد کے ساتھ کام کر رہا تھا جو کہ ایک Agronomist (فصل اور ماحولیات کے تعلق کے ماہر) تھے۔ اس دن بہت ہی شدید گرمی تھی اور میں پیاسا تھا۔ ہزاروں مکھیاں میری ناک اور آنکھوں میں داخل ہو گئی تھیں۔ جب میرے والد نے مجھے تھکا ہوا محسوس کیا تو وہ ایک منٹ کے لیے رک گئے اور ہل سے ٹیک لگا کر آرام کیا۔ انہوں نے پیچھے سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ دیکھو ہم نے اب تک کتنا کام کر لیا ہے۔ اس کے بعد مزید توانائی کے ساتھ انہوں نے اپنا کام ختم کیا۔ جب مجھے پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے تو میں اس واقعے کو یاد کر لیتا ہوں۔ اب میں پھر کہوں گا کہ دیکھو ہم نے کتنا کام کر لیا ہے۔

ٹائم: غزہ سے انخلاء کے بعد آپ کے آئندہ اقدام کے حوالے سے لوگ غیریقینیت کے شکار ہیں۔

شیرون: ایک بار جب ہم نے واپسی کا عمل مکمل کر لیا تو مکمل خاموشی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو ختم کر دینا چاہیے۔ ان سے اسلحے واپس لے لینے چاہییں اور فلسطینی انتظامیہ میں اصلاح کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ ایک بار جب یہ ہو جاتا ہے تو پھر ہم روڈ میپ کی طرف بڑھیں گے۔ ہم روڈ میپ کو عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ فلسطینیوں نے بھی خود روڈ میپ کے حوالے سے عہد کیا ہے۔ لیکن دنیا کے اس حصے میں معاملات بالکل مختلف ہیں۔ اعلانات‘ وعدے‘ تقاریر حتیٰ کہ دستخط شدہ معاہدے سبھی کچھ بے معنی ہیں۔ صرف اقدامات اور کارروائی اپنا وزن رکھتے ہیں۔ میں تکلیف دہ مصالحت کے لیے تیار ہوں۔ لیکن ایک چیز پر ہم کسی بھی طور مصالحت کے لیے آمادہ نہیں اور وہ ہے اسرائیلی شہریوں اور اسرائیل کی سلامتی کا مسئلہ‘ اس پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی ہے‘ نہ اس وقت اور نہ آئندہ۔

ٹائم: کیا فلسطینی انتظامیہ کے چیئرمین ابو معاذن کی اپنی منصبی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہلیت و لیاقت کے بارے میں آپ کے کوئی تحفظات ہیں؟

شیرون: وہ دہشت گردی کے خطرات کا درک رکھتے ہیں لیکن انہوں نے انتہائی بنیاد پرست دہشت گرد تنظیموں سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اس معاہدے میں انہوں نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ وہ ان سے اسلحہ جمع نہیں کروائیں گے اور نہ ہی انہیں ختم کریں گے۔ میرے خیال میں یہ ان کی غلطی ہے۔

ٹائم: کیا آپ مغربی کنارہ کے مزید سیٹلمنٹس سے پسپائی کا ارادہ رکھتے ہیں؟

شیرون: اگر آپ کا سوال مجھ سے یہ ہے کہ کیا ہم انخلاء کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے والے ہیں تو جواب اس کا نفی میں ہے۔ انخلاء صرف ایک مرحلہ ہے۔ اس کے بعد ہم روڈ میپ پر مذاکرات کریں گے۔

ٹائم: جب سیٹلرز آپ کو یہ الزام دیتے ہیں کہ آپ نے ان کے ساتھ غداری کی ہے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟

شیرون: میں نے ان سے دغا نہیں کیا ہے۔ دیکھیے! ہم اپنے خواب رکھتے تھے لیکن ہم اپنے تمام خواب پورے نہ کر سکے۔ مجھے یہ احساس ہے کہ یہ بہت دکھ کی بات ہے اور یہ بہت کٹھن معاملہ ہے۔

ٹائم: کیا آپ کو اپنی جان کے تحفظ کے حوالے سے کوئی تشویش ہے؟

شیرون: یہ میرے لیے انجان ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی یہودیوں کا دفاع کیا ہے لیکن اب اچانک مجھے یہودیوں سے اپنی جان بچانی ہے۔

ٹائم: چند سالوں میں آپ ریٹائر ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے؟

شیرون: جب تک میری ضرورت ہے‘ میں خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہوں۔ میں مستقبل کو امید کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ ہمیں یہاں یہودیوں کی ضرورت ہے‘ چنانچہ ان سے میری درخواست ہے کہ اسرائیل کی طرف بڑھیں! اسرائیل کی طرف بڑھیں!!

(بشکریہ: ’’ٹائم‘‘۔ ۲۳ مئی ۲۰۰۵ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*