شام کے خلاف کارروائی کا مغربی تناظر

کیمیاوی اسلحہ کے استعمال کے حوالے سے اس وقت شام کے خلاف کارروائی عالمی برادری کے ایجنڈے پر ہے۔ یوں تو پوری دنیا کے لیے یہ ایک تشویش کا مسئلہ ہے، لیکن مشرق اور مغرب میں اس پر جس طرح گفتگو ہو رہی ہے اس میں ایک جوہری فرق ہے۔ اس بحث کا ایک پہلو تووہ ہے جس کا محور کیمیاوی اسلحہ کا استعمال ہے۔ شاید ہی اس سے کسی کو انکار ہوسکتا ہے کہ کسی بھی لحاظ سے اور کسی بھی صورت میں کسی کے بھی خلاف کیمیاوی اسلحہ کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس لیے کہ یہ بقائے نسلِ انسانی کے لیے مہلک ہے۔ یوں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسی طرح اس کا روکنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس کے بچائو اور اس کے استعمال کی روک تھام کا انتظام بھی لازم و ناگزیر ہے۔ یہ بحث تو ہر جگہ ہو رہی ہے، لیکن اس کا ایک پہلو ابھی ابھی ابھر کر سامنے آیا ہے، تاہم شاید پہلی بار مبرہن ہوکر سامنے آیا ہے اور وہ ہے شام کے خلاف کارروائی کے تناظر میں برطانوی وزیراعظم کا وہ بیان جس میں انہوں نے ایک بہت مخصوص اصطلاح Armageddon (ام المعارک) استعمال کی ہے۔ یہ بات انہوں نے کسی معمولی مجلس میں نہیں کہی ہے، نہ یوں ہی سرراہ کہہ دی ہے، بلکہ انتہائی ذمہ دارانہ حیثیت میں برطانوی پارلیمان میں شام کے مسئلے پر ہونے والی بحث کے دوران کہی ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ کے ایک بزرگ معمر ممبر سرپیٹر ٹیپسیل (Sir Peter Tapsell) کے اظہار تردد کو دور کرنے کی کوشش کے طور پر کہی ہے۔ جب انہوں نے بھری مجلس میں برطانوی وزیراعظم کو متوجہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ جب سے شام کا مسئلہ اٹھا ہے میرے ذہن میں آرمیگڈان (معرکۃ الکبریٰ) کا خیال بار بار آرہا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک نہایت معنی خیز جملہ بھی کہا جس سے اس پوری صورتحال کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے، انہوں نے کہا:

If the Americans illegally bombard the Assad forces and Asad legally invites the Russians in to degrade the what will NATO do rebels

ایک ویب سائٹ میٹرو (۵ ستمبر ۲۰۱۳ء) کی رپوٹ کے مطابق اس کارروائی کے سلسلہ میں ۱۰ ڈائوننگ اسٹریٹ کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا گیا:

Downing Street has insisted Britian will play no part in any potential US-led strikes over an allege chemical weapons attack last month with Barak Obama seeking approval from Congress before any action is taken.

بزرگ معمر ممبر پارلیمان کی تشویش کو بظاہر ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے متنبہ کیا کہ اگر مبینہ کیمیاوی حملے کا نوٹس نہیں لیا گیا تو شامی باشندوں کو آرمیگڈان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانوی روزنامہ ’’دی گارجین‘‘ (۴ستمبر ۲۰۱۳ء) کی یہ شہ سرخی بھی ملاحظہ ہو:

Syria: Armageddon is on the agenda-again

یہ صورتحال جنگ خلیج کی یاد تازہ کر دیتی ہے، جس کو شروع کرتے ہوئے امریکی صدر نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ اس کا مقصد نیوورلڈ آرڈر کا قیام ہے۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۱۰؍ستمبر ۲۰۱۳ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.