بیت المقدس کا معاہدہ

بیت المقدس کا معاہدہ خود حضرت عمرفاروقؓ کی موجودگی میں اور ان کے الفاظ میں لکھا گیا‘ ترجمہ حسب ذیل ہے:

’’یہ وہ امان ہے جو خدا کے غلام امیرالمومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی۔ یہ امان ان کی جان‘ مال‘ گرجا‘ صلیب‘ تندرست‘ بیما ر اور ان کے تمام مذہب والوں کے لئے ہے۔ اس طرح پر کہ ان کے گرجائو میںنہ سکونت کی جائے گی‘ نہ وہ ڈھائے جائیں گے‘ نہ ان کو اور نہ ان کے احاطہ کو کچھ نقصان پہنچایا جائے گا‘ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں اُن پر جبر نہ کیا جائے گا۔ نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ایلیاء میں ان کے ساتھ یہودی نہ رہنے پائیں گے ایلیاء والوں پر یہ فرض ہے کہ اور شہروں کی طرح جزیہ دیں اور یونانیوں اور چوروں کو نکال دیں۔ ان یونانیوں میں سے جو شہر سے نکلے گا ‘ اس کی جان اور مال کو امن ہے‘ تاکہ وہ جائے پناہ میں پہنچ جائے اور جو ایلیاء ہی میں رہنا اختیار کرلے تو اس کو بھی امن ہے اور اس کو جزیہ دینا ہوگا۔ اور ایلیا والوں میں سے جو شخص اپنی جان اور مال لے کر یونانیوں کے ساتھ چلا جانا چاہے تو ان کو اور ان کے گھروالوں کو اور صلبیوں کو امن ہے‘ یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائیں۔ اور جو کچھ اس تحریر میں ہے‘ اس پر خدا کا ‘ رسول خدا کے خلفاء کا اور مسلمانوں کا زمہ ہے۔ بشرطیکہ یہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔

اس تحریر پر گواہ ہیں ‘ خالد بن الولید اور عمرو بن العاص اور عبدالرحمن بن عوفؓ اور معاویہ بن ابی سفیان اور (یہ معاہدہ) ۱۵ھ میں لکھا گیا۔‘‘

(بحوالہ: تاریخ ابوجعفر جیر طبریؒ)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*