بنگلا دیش امریکا تعلقات، اتنے اچھے کبھی نہ تھے!

بنگلا دیش میں امریکی سفیر ڈین موزینا نے تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکا میں تین ہفتے گزارنے کے بعد ڈھاکا کے امریکن سینٹر میں بنگلہ دیشی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈین موزینا نے کہا کہ جماعتِ اسلامی ایک تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے اور اِس کا شمار مؤثر پارلیمانی قوتوں میں ہوتا ہے۔ اِس پر پابندی عائد کرنا یا کوئی اور کارروائی کرنا، ہر اعتبار سے موزوں ترین اتھارٹیز کا کام ہے۔ ڈین موزینا کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں کچھ کہنا میرا منصب نہیں، مگر معاملات کو بہتر انداز سے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ امریکا میں تھے، تب لوگوں نے ان سے بنگلہ دیش کے بارے میں بہت سے سوالات کیے۔ لوگ بنگلہ دیش کے بگڑتے ہوئے حالات سے پریشان ہیں۔ امریکا میں مقیم بنگلہ دیشی خاص طور پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ملک کی سمت کیا ہے اور خرابیوں پر قابو پانے کے حوالے سے کیا کیا جارہا ہے۔ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو سزا دینے کے لیے قائم کیے جانے والے ٹربیونل کی کارروائی کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں تحفظات ہیں۔ جنگی جرائم کے ٹربیونل کی کارروائی کے دوران اور سزائیں سنائے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں ہونے والے قتلِ عام کے حوالے سے ذہنوں میں سوالات ابھر رہے ہیں۔ شاہ باغ تحریک کے حوالے سے استفسار کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ قتلِ عام نے بیرونِ ملک بنگلہ دیش کے حوالے سے تشویش بڑھادی ہے۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ کسی بھی معاملے میں احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ شاہ باغ تحریک کے ذریعے لوگ پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اختلافِ رائے کا اظہار بھی کرنا چاہتے ہیں۔ بہت دکھ کی بات ہے کہ اب تک ۱۰۰ سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں۔ بڑے پیمانے پر املاک بھی تباہ کردی گئی ہیں۔ بنگلہ دیشی عوام اور حکومت دونوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ قتل و غارت اور تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ جان و مال کا نقصان انتہائی افسوس ناک ہے۔ تمام بنگلہ دیشیوں کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد کو سزا دینا درست ہے مگر اس کے لیے ٹربیونل تمام ملکی اور بین الاقوامی قوانین اور معیارات سے مطابقت رکھتا ہوا ہونا چاہیے۔ شفافیت یقینی بنانا بھی لازم ہے۔ مقدمات کی کارروائی کے دوران کسی بھی مرحلے پر غیر جانب داریت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ جن کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہوں، اُن کے سیاسی اور شہری حقوق کا خیال رکھا جانا چاہیے۔

ڈین موزینا کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی بحران ختم ہونا چاہیے۔ اگر حکومت اس حوالے سے مدد چاہتی ہے تو اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ غیر جانب دارانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہی بنگلہ دیش میں سیاسی بحران کے خاتمے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ امریکا صرف تکنیکی امداد فراہم کرے گا۔ بنگلہ دیشیوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہیں۔

بنگلہ دیش میں امریکا کے سفیر کا کہنا تھا کہ ڈھاکا اور واشنگٹن کے درمیان دوطرفہ تعلقات جتنے اچھے اب ہیں، پہلے کبھی نہیں تھے۔

امریکا اور بنگلہ دیش کے درمیان اشتراکِ عمل کے حوالے سے امریکی سفیر نے بتایا کہ دو طرفہ مذاکرات کا دوسرا دور ۲۷؍ اور ۲۸ مئی کو ڈھاکا میں ہوگا۔ سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت واشنگٹن میں ہوگی، جبکہ عسکری سطح کے مذاکرات ڈھاکا میں ہوں گے۔

ڈین موزینا نے بتایا کہ ۲۲ مئی کو ۳۷۸ فٹ لمبا امریکی بحری جہاز بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے گا، جو بنگلہ دیشی بحریہ کا سب سے بڑا جہاز ہوگا۔ امریکی سفیر نے بتایا کہ بنگلہ دیشی سرزمین پر امریکا کے مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی مستقل موجودگی برقرار رہے گی۔

(“Jamaat ban an issue for the authorities: US envoy”… “The Independent” London. March 12, 2013)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*