بنگلا دیش میں وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ

بنگلا دیش میں مڈٹرم الیکشن کے مطالبے کے حامل ایک زور دار اور کامیاب تحریک کے آغاز سے پہلے بیگم خالدہ ضیا نے برطانیہ اور امریکا کا ۱۵ روزہ دورہ مکمل کرلیا۔ ۱۴ مئی ۲۰۱۱ء کو وہ لندن کے لیے روانہ ہوئیں جہاں انہوں نے حکمران اور اپوزیشن کی قیادت سے بنگلا دیش کے مختلف معاملات پر بات چیت کی۔ بنگلا دیش کی سیاست بالخصوص ہیومن رائٹس کی تیزی سے گرتی ہوئی صورت حال جیسے موضوعات ہر جگہ سرفہرست رہے۔ علاوہ ازیں خالدہ ضیا نے برطانیہ میں مقیم بنگلا دیشیوں کے مختلف پرہجوم پروگرامات میں شرکت کی۔ خالدہ ضیا اور وفد کے اراکین کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔

۲۱ مئی ۲۰۱۱ء کو خالدہ ضیا امریکا کے لیے عازم سفر ہوئیں۔ امریکا کے مختلف شہروں میں مقیم بنگلا دیشیوں نے ہر جگہ ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ان کے پروگرامات میں لوگوں کے ہجوم دیکھ کر امریکی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہاں بھی امریکی انتظامیہ اور اپوزیشن کے اہم لوگوں سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ چلا۔ برطانیہ اور امریکا دونوں جگہ کی ملاقاتوں میں خالدہ ضیا سے یہ سوال کیا گیا کہ برسراقتدار آنے کے بعد آپ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ خالدہ ضیا نے کہا کہ ہم جمہوری اقدار کو فروغ دیں گے اور انسانی حقوق کا تحفظ کریں گے۔ عدلیہ اور میڈیا کو آزاد کریں گے اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔انہوں نے اپنی تقریروں میں ڈاکٹر محمد یونس کے ساتھ حکومت کی زیادتی کی مذمت کی اور برسراقتدار آنے کے بعد ڈاکٹر محمد یونس کی اپنے عہدے پر باعزت بحالی کے عزم کا اظہار کیا۔

اصل میں بیگم خالدہ ضیا، حسینہ واجد حکومت کے خلاف نتیجہ خیز اور فیصلہ کن تحریک چلانے سے پہلے مغرب بالخصوص امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے خواہاں تھیں۔ کیونکہ وہ جب بھی حسینہ واجد حکومت کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھاتی تھیں تو یورپی یونین کے سفارتکار اور امریکی سفیر رکاوٹ بن جاتے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق خالدہ ضیا مغرب اور امریکا کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتی رہیں کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔ عوام اتنے تنگ ہیں کہ اگر ہم ابھی مڈٹرم الیکشن کے ذریعہ عوام کے گلوخلاصی کا اہتمام نہ کریں تو قیادت کسی کے ہاتھ میں نہیں رہے گی اور پورا ملک انارکی اور افراتفری کی لپیٹ میں آجائے گا۔ لیکن مغرب کا خیال تھا کہ موجودہ حکومت جیسی بھی ہے اس کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد یونس کے معاملے نے مغرب کے موقف کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ڈاکٹر محمد یونس مغرب میں بہت مشہور شخصیت ہیں۔ ان کو مائیکرو اکانومی کا فادر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے گرامن بنک کو اور ان کو نوبل پیس پرائز بھی مل چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کو یورپ اور امریکا کے کئی بڑے قیمتی (Prestigious) ایوارڈ مل چکے ہیں۔ لیکن حسینہ واجد حکومت نے ڈاکٹر محمد یونس کو ذاتی حسد و عناد کی وجہ سے رسوا کرنے کی کوشش کی۔ پہلے ان کے خلاف یہ الزامات لگائے کہ وہ غریبوں کا خون چوسنے والا سود خور اور بددیانت آدمی ہے۔ پھر ان کو گرامن بنک کے ایم ڈی کے عہدے سے نکال باہر کیا۔ جس سے مغرب میں خاصی بے چینی پیدا ہوئی۔ وہاں کے قائدین نے حسینہ حکومت کے اس اقدام کو ناپسند کیا۔ ایک مرحلے پر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے وزیراعظم حسینہ واجد کو فون پر کہا کہ ڈاکٹر محمد یونس امریکا اور یورپ میں خاصے مقبول اور معزز شخصیت ہیں۔ امریکی حکمراں اور پالیسی ساز ڈاکٹر محمد یونس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد یونس کی رسوائی کا یہ سلسلہ اگر نہ رکا تو اس کے خراب اثرات امریکا بنگلا دیش تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ لیکن شیخ حسینہ واجد ہیلری کلنٹن کو ایسی ضمانت دینے سے قاصر رہیں جس سے وہ مطمئن ہو جاتیں۔ درحقیقت حسینہ واجد ڈاکٹر یونس کے خلاف یہ ساری کارروائی بھارت کے آشیرباد سے کر رہی تھیں۔ ان حالات سے بنگلا دیش کی اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ بیگم خالدہ ضیا اور ان کی پارٹی کے دیگر قائدین نے ڈاکٹر محمد یونس کے حق میں بیانات دیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد یونس ایک اہم اور معزز شخص ہیں ان کے گرامن بنک ماڈل نے پوری دنیا میں بنگلا دیش کا نام روشن کیا ہے اور بہت سے ملکوں نے اس سسٹم کو اپنایا ہے۔ انہوں نے بنگلا دیش کو نوبل پرائز جیسے بڑے اعزاز کا مستحق بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد یونس غریبوں کے دوست ہیں وہ تنہا نہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔

سیاسی تبصرہ نگاروں کے خیال میں بیگم خالدہ ضیا کے اس موقف نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ان کی دوری کو ختم کر دیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خالدہ ضیا کا حالیہ دورہ امریکا و برطانیہ دراصل مغرب اور خالدہ ضیا کی باہمی خواہش کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ مغرب کے پالیسی ساز بھی حالات و واقعات کو پوری طرح سمجھ کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہتے تھے۔ اس دورے کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خالدہ ضیا امریکا سے واپس آتے ہی حسینہ واجد حکومت کے خلاف سینہ سپر ہو گئیں۔ سب سے پہلے انہوں نے بنگلا دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت، جماعت اسلامی کو مکمل طور پر اپنے ساتھ ملایا۔ یوں تو جماعت اسلامی پہلے بھی بی این پی کے ساتھ چار جماعتی اتحاد کا حصہ تھی۔ لیکن ۲۰۰۸ء کے الیکشن کے بعد بی این پی اور جماعت میں غیر علانیہ دوری اور فاصلہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے یعنی حسینہ واجد حکومت کے قیام کے بعد بی این پی نے چار ہڑتالیں کیں۔ لیکن جماعت اسلامی سمیت اپنے اتحادیوں کو باضابطہ طور پر کسی ہڑتال میں شریک نہیں کیا۔ لیکن اب بی این پی، جماعت اسلامی اور دیگر اتحادیوں کی طرف سے ۵ جون کو پہلی مشترکہ ملک گیر ہڑتال ہوئی۔ اس ہڑتال کی کامیابی کے بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں۔ اس کے فوراً بعد ۱۲ اور ۱۳ جون کو ۳۶ گھنٹوں کی طویل مشترکہ ملک گیر ہڑتال بھی زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

بنگلا دیش کے سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا تھا کہ حسینہ واجد حکومت جماعت اسلامی کی چوٹی کی قیادت کو جیلوں میں بند کر کے جماعت اسلامی کو بلیک میل کرے گی اور اس طرح جماعت اسلامی بی این پی کے ساتھ حکومت مخالف تحریک کا ساتھ نہیں دے سکے گی۔ لیکن جماعت اسلامی نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ جھکنے، بکنے اور دبنے والی نہیں اور یہ بات واضح کر دی کہ بھارت نواز، عوام دشمن عوامی لیگی حکومت کو گرانے کی مہم میں ان کو کسی طرح سے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔

☼☼☼

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*