شیخ حسینہ کی دَم توڑتی حکومت

بنگلہ دیش میں حکمراں طبقے سے تعلق رکھنے والی آٹھ اعلیٰ شخصیات کی جانب سے بیرون ملک موزوں ملازمتیں تلاش کرنے کی کوشش کا پتا چلا ہے۔ ایک پڑوسی ملک کے خفیہ ادارے نے اپنے وزیر اعظم کو دی جانے والی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بنگلہ دیش میں حکمراں سیٹ اپ سے تعلق رکھنے والی آٹھ اعلیٰ شخصیات نے ۲۰۱۴ء سے ملازمت کے لیے بیرون ملک اعلیٰ درجے کی جامعات اور تھنک ٹینک سے رابطے کیے ہیں اور اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ جن شخصیات نے بیرون ملک ملازمت تلاش کی ہے ان میں وزرا، مشیران اور چند قانون ساز بھی شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت میں اس وقت مشیر کی حیثیت سے کام کرنے والی دو شخصیات ایسی بھی ہیں جو امریکی جامعات میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور جنوری ۲۰۱۴ء سے جاب کے لیے تیار ہیں۔ بعض شخصیات تو اس سے بہت پہلے ہی جاب پر آنے کے لیے تیار ہیں۔

حکومت میں شامل اہم شخصیات کی جانب سے بیرون ملک ملازمت تلاش کرنے کی کوشش اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کی وسیع کرپشن نے سب کے دلوں میں یہ خوف پیدا کردیا ہے کہ اگر شیخ حسینہ دوبارہ حکومت بنانے میں ناکام رہیں اور حکومت ان کے ہاتھ سے چلی گئی تو بڑے پیمانے پر احتساب ہوگا اور پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔ بنگلہ دیش کے خفیہ اداروں نے کرپشن، اقرِبا پروری اور دیگر بے قاعدگیوں سے متعلق خفیہ فائلیں بنانا شروع کر دی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھی کرپشن کے شواہد پر مبنی فائلیں تیار کرنا شروع کردی ہیں۔ حکومت کی نمایاں ترین شخصیات کے خلاف کیس تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ انہیں احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے۔ پڑوسی ملک کے خفیہ اداروں نے جو رپورٹس تیار کی ہیں ان کے مطابق ایک وزیر نے ہر برس یوریا کی درآمد سے متعلق بے قاعدگیوں میں دس سے پندرہ کروڑ ڈالر بنائے ہیں! کہا جاتا ہے کہ اس وزیر کی بیٹی نے ملائیشیا اور کینیڈا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور ان میں سے کسی بھی ملک میں سرمایہ کار کی حیثیت سے رہائشی ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

خفیہ رپورٹس میں زرعی امور کے وزیر موتیا چوہدری، وزیر داخلہ شہارا خان ایڈووکیٹ، امور خارجہ کے وزیر دیپو مونی اور وزیر تعلیم نور الاسلام ناہید کابینہ کے سب سے بے داغ وزرا ہیں۔ دوسری طرف ایسے درجن بھر وزرا اور مشیروں کے نام دیے گئے ہیں جن کی کرپشن سب سے زیادہ ہے اور حکمراں جماعت کی مقبولیت میں غیر معمولی گراوٹ کے لیے بھی انہی کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔

عوامی لیگ کی حکومت کو نقصان پہنچانے میں میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے جس نے حکومتی کرپشن اور بے قاعدگیوں کو بے نقاب کرنے اور پالیسیوں پر تنقید کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ روزنامہ جن کنٹھ، پروتھوم آلو، بھوریر کاگوج، بنگلہ دیش پروتی دِن، کالیر کانٹھو، شاموکال، آمادیر شوموئی اور دیگر اخبارات رفتہ رفتہ حکومت کے خلاف ہوتے گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں اب شیخ حسینہ واجد کے لیے اپنی پالیسیوں کا دفاع انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ بھوریر کاگوج، آمادیر شوموئی اور جن کنٹھ نے حکومت کی مدح سرائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ اس کے نتیجے میں ان کے قارئین کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور اب حالت یہ ہے کہ اپنی وقعت بحال کرنے کے لیے انہیں حکومت کے خلاف لکھنا پڑ رہا ہے۔

خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ روزنامہ پروتھوم آلو، اسٹار، جگانتر، منابزمین اور کالیر کانٹھو نے حکومت کے مالیاتی اسکینڈلز کو بے نقاب کرکے اس کی پوزیشن کمزور کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے تنازعات بھی ان اخبارات و جرائد کے ذریعے سامنے آئے ہیں اور عوامی لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان اخبارات نے حکمراں اتحاد کے خلاف یک زباں ہوکر مہم چلائی ہے۔

روزنامہ دِن کال، روزنامہ سنگرام اور روزنامہ آمر دیش نے اپوزیشن کی بات کرکے نام کمایا ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ دِن کال کو بنگلہ نیشنلسٹ پارٹی اور سنگرام کو جماعت اسلامی کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے جس کے باعث عام قارئین میں اِن کی پوزیشن کمزور ہے۔ امر دیش کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر معاملے میں حکومت کے خلاف جاتا ہے اور بے بنیاد خبریں بھی شائع کرتا رہتا ہے۔ خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عوامی لیگ کی حکومت کو کمزور کرنے اور عوام میں اس کی جڑیں اکھاڑنے میں جن اخبارات نے مرکزی کردار ادا کیا ہے ان میں پروتھوم آلو، اسٹار، کالیر کانٹھو، بنگلہ دیش پروتی دِن، شامو کال اور منابزمین نمایاں ہیں۔ پروتھوم آلو کے قارئین کی تعداد کئی ملین ہے۔ اس اخبار نے حکومت کے مالیاتی اسکینڈلز کو بے نقاب کرنے میں خاصی ہمت دکھائی ہے۔

(“BD Ruling Party Elites Secretly Finding Job Abroad”… Weekly “Blitz”. Sept. 11th, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*