جنگی جنون اور سمندر کے بیچ پھنسے مہاجرین

حوریہ کھانا بنانے میں مصروف تھی، جب اسمگلروں نے اسے بتایا کہ کشتی کا بندوبست ہو گیا ہے۔ ۲۰ سالہ اریٹیرین لڑکی جو صبح سے بھوکی تھی اور پاستہ بنانے میں مصروف تھی،اس نے پاستہ ادھورا چھوڑا اور جلدی جلدی اپنی ضروری اشیا جمع کیں۔یورپ جانے کی راہ تکتے گزشتہ پانچ ماہ اس نے لیبیا میں گزارے، اس دوران اس نے قید و بند کی صعوبتیں، جنسی پامالی اور تشدد برداشت کیا۔ اسے یاد تھا کہ جب وہ اٹلی جانے کے لیے گھر سے نکلی تو بہت خوش تھی اور اس خوشی میں وہ نوڈلز کھانا بھی بھول گئی تھی۔

پھر اس نے صبراتہ (لیبیا کی مغربی بندرگاہ) پر لکڑی کی بنی ایک کشتی دیکھی، جس میں افریقا اور مشرق وسطیٰ سے آئے سیکڑوں مہاجرین سوار تھے۔ لیبیا کے اسمگلر ان سب لوگوں کو احکامات دے رہے تھے، کچھ نے لوگوں کو کنڑول کرنے کے لیے کیبل کے تار تھامے ہوئے تھے اور کچھ اسلحہ دکھا رہے تھے۔ حوریہ نے بتایا کہ یہ سب دیکھ کر اس کی خوشی خوف میں بدل گئی۔ ’’کشتی پر گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے‘‘۔ (افراد کی سیکورٹی اور پیچھے رہ جانے والے رشتے داروں کو کسی ردعمل سے محفوظ رکھنے کے لیے ’’ٹائم میگزین‘‘ نے افراد کے اصل نام چھاپنے سے گریز کیا ہے)۔

عین اسی وقت قریبی ساحل پرا سمگلروں کا ایک اور گروہ سفید کشتی پر آیا۔ ۲۱ اگست کی صبح جب یہ کشتی نکلی تو اس چھوٹی سی کشتی کو بحیرہ روم سے سیسلی تک ۳۰۰ میل کا سفر طے کرنا تھا اور اس پر ۱۳۵ افراد سوار تھے۔ حوریہ کی لکڑی والی کشتی میں ۴۱۶ افراد تھے، جن میں سے بہت سے لوگ عرشے کے نیچے موجود تھے۔

مد د کو آنے والے ذرائع کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے۔ کشتی میں ایندھن صرف اتنا تھا کہ وہ بین الاقوامی سمندر میں ۱۲ ناٹیکل میل کا سفر طے کرسکے۔ گڈنیس وہ نائجیرین خاتون تھی جو ربر کی کشتی میں سب سے پہلے سوار ہوئی تھی۔ اس ۲۰ سالہ خاتون نے آج تک سمندر نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ہجوم سے گھبرا کر اپنے ۳ ماہ کے بچے کو گود میں مضبوطی کے ساتھ تھام لیا۔ جب سفر شروع ہوا تو اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ پانی بھی کشتی میں داخل ہونا شروع ہوا جس سے پریشانی میں اضافہ ہوا۔ خاتون کو لگا کہ اب اس کا زندہ رہنا ممکن نہیں رہے گا۔

حوریہ اور گڈنیس کی کشتیوں میں کل ۵۵۱ افراد سوار تھے جن کا تعلق ۱۴ مختلف ممالک سے تھا، ان میں بنگلادیش جیسے دور دراز ملک کے باشندے بھی سوار تھے۔ ان میں ۳ ماہ سے لے کر ۵۲ سال کی عمر تک کے لوگ موجود تھے۔ ان میں اساتذہ، کسان، موچی اور ڈرائیور وغیرہ سب شامل تھے۔ صدموں کو پیچھے چھوڑے اور بہتری کی امید لیے یہ سب لوگ جنوبی بحیرہ روم کی موجوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ لیکن ان سب میں دو چیزیں مشترک تھیں، ایک یہ کہ سب یورپ کی بہترین زندگی کے خواب دیکھ رہے تھے اور دوسرا یہ کہ سب اس خواب کی تکمیل کے لیے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالنے پر تیار تھے۔

۲۰۱۵ء میں دس لاکھ سے زائد مہاجرین نے یورپ جانے کے لیے بحیرہ روم عبور کیا، جن میں سے بیشتر کا تعلق جنگ زدہ ملک شام سے تھا۔ زیادہ تر نے ترکی اور یونان کے درمیانی راستے کا انتخاب کیا، جو کہ سب سے مختصر راستہ ہے۔ ایک موقع پر دونوں کے درمیان کا راستہ صرف پانچ میل تک رہ جاتا ہے۔ لیکن مارچ میں ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت اس راستے کو بند کر دیا گیا ہے۔ جس سے اس راستے پر ٹریفک بہت کم ہو گیا ہے۔ اب مہاجرین نے وسطی راستے کی جانب رخ کر لیا ہے، جو لیبیا سے اٹلی کی طرف جاتا ہے اور یہ راستہ کافی خطرناک اور طویل ہے۔ اس راستے پر لہروں کی روانی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور اگر حالات ناساز ہو جائیں تو لوگوں کا ڈوب جانا یقینی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیابی سے سمندر عبور کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ ۲۸ اگست تک اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والوں کی تعداد ۱۰۶۴۶۱ ہے۔ سرکاری عہدیداروں کے مطابق یہ تعداد بڑھے گی، ساتھ ہی ساتھ اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ مشرقی راستے سے جانے والوں میں مرنے والوں کی تعداد ۳۸۶ تھی جبکہ اس وسطی راستے پر اب تک ۲۷۲۶ مہاجرین موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ یہ تعداد ۲۰۱۵ء کے پورے سال میں ڈوبنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے جبکہ ابھی سال ختم ہونے میں چند ماہ باقی ہیں۔

مئی میں جاری ہونے والی انٹرپول اور یورو پول کی مشترکہ رپوٹ کے مطابق ۴ لاکھ مہاجرین لیبیا میں ہجرت کے منتظر ہیں اور یہ تعداد اس سال دگنی ہوجائے گی کیوں کہ ترکی سے یورپ جانے میں ناکام ہونے والے لوگ بھی اسی وسطی راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو موت سے بچانے کے لیے صرف یورپین نیوی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ میری ٹائم قوانین کے مطابق کمرشل جہازوں پر لازم ہے وہ ہر اس کشتی کی مدد کریں گے جو کسی مشکل میں ہوگی۔ اور ایسی کشتی جو کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے انسانی مدد کے لیے کرائے پر لے رکھی ہو،اس کی مدد بھی لازم ہے۔

اس وقت اسمگلنگ کی صنعت، جس کی سالانہ آمدن پانچ سے چھ ارب ڈالر ہے، امدادی کارروائیاں تیز کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے، تاکہ اس کے کلائینٹ بحفاظت منزل پر پہنچ سکیں۔ فیڈریکو (ڈائریکٹر تنظیم برائے بین الاقوامی مہاجرین) کا کہنا ہے کہ اسمگلر ایسی کشتیاں استعمال کرتے ہیں جو ڈوبنے کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں۔اگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچے تو سب کے سب ڈوب جائیں۔

’’ٹائم میگزین‘‘ نے اگست میں ایک ہفتہ MV Aquarious پر گزارا جو کہ ریسرچ ورک کے لیے استعمال ہونے والی کشتی ہے، لیکن اب یہ کشتی امدادی کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔یہ کشتی انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں مشترکہ طور پر چلاتی ہیں۔یہ لیبیا کے ساحل کی کڑی نگرانی کرتی ہے۔اس کے علاوہ یہاں ۱۲ امدادی کشتیاں اور بھی ہیں۔ساتھ ساتھ دو ہوائی جہاز ہیں، جو کیمروں کی مدد سے کشتیوں پر نظر رکھتے ہیں۔اٹلی کیوں کہ زیادہ تر افراد کی منزل ہوتی ہے، اس لیے اٹلی ان سب کاموں کی نگرانی کرتا ہے۔اور امدادی کشتیاں بھی یہیں سے روانہ کی جاتی ہیں۔ اکثر و بیشتر وہ امداد کے لیے پہنچ جاتی ہیں مگر ہمیشہ نہیں۔۱۸ اگست کو ایک چھوٹی کشتی پر ۲۷ شامی سوار تھے، جو ڈوب گئی۔ جب امدادی کشتی پہنچی تو سات افراد مر چکے تھے ان میں اپنی ایک سالہ بچی اور بیوی کو کھو دینے والا شخص بھی شامل تھا۔

MV Aquarious پر MSF پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نے بتایا، ایک کشتی کے ڈوبنے کی اطلاع مجھے واٹس ایپ پر ملی۔یہ کشتیاں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ ان کا دور سے نظر آنا ممکن نہیں ہوتا،اس لیے ہم بہت سی کشتیوں تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔پچھلے دنوں ایک کشتی لاپتا ہو گئی جس میں ۱۲۰ افراد سوار تھے،یہ کشتی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکی جس کا مطلب ہے کہ وہ ڈوب گئی ہو گی۔

افریقی مہاجرین نے لیبیا کو کافی عرصے تک یورپ جانے کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا۔جب تک لیبیا میں معمر قذافی برسراقتدار رہے انہوں نے اٹلی حکومت سے معاہدہ کی بنیاد پر مہاجرین کو جانے سے روکے رکھا۔ لیکن ۲۰۱۱ء کے بعد سے جب قذافی کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ملک انارکی کا شکار ہو گیا تو یہ معاہدہ بھی خود بخود ختم ہو گیا۔ ان حالات میں لیبیا کے لوگوں کے لیے اپنے ملک میں رہنا مشکل ہو گیا۔IOM کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’یہاں کے لوگ شیطان اور گہرے سمند رکے بیچ پھنس گئے ہیں‘‘۔

لیبیا کی صورتحال مزید خراب ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے گہرے سمندر والے آپشن کا استعمال کیا۔اس طرح اسمگلروں نے قذافی کے بعد پیدا ہونے والے خلاکو انسانی اسمگلنگ سے پُر کرنے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ کی مدد سے متحدہ حکومت کے معاہدے کے باوجود ملک اندرونی جنگ کا شکار ہے۔ داعش لیبیا میں مہاجرین کی قتل و غارت گری کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔مسلح گروہ کمزور حکومت کے سامنے مزاحمت کر رہے ہیں۔ اسمگلنگ نیٹ ورک بدعنوان پولیس اورکوسٹ گارڈ کے ساتھ مل کر اپنے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں۔

لیبیا کے انتشار کے ساتھ ساتھ افغانستان،شام اور عراق جنگ کے نتیجے میں مہاجرین کا مسئلہ بحران کی صورت اختیار کر گیا ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک موجودہ بحران میں سب سے زیادہ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خوف نے دائیں بازو اور قوم پرست تنظیموں کو سیاست کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا،جس سے یہ تنظیمیں مستحکم بھی ہوئی ہیں۔ ’’بریگزٹ‘‘ کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی عوامل تھے۔ عالمی راہنما ان مسئلہ کاحل ڈھونڈنے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اس مسئلہ پر ایک عالمی کانفرنس بھی بلائی ہے۔ یورپی حکام افریقا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، جس سے تارکین وطن کا بہاؤ یورپ کی طرف کم ہو جائے۔ اس سلسلے میں ترکی اور یورپ کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو سامنے رکھا جارہا ہے، یعنی تارکین وطن کو روکنے کے بدلے میں اچھے تجارتی تعلقات، ویزے کے حصول میں آسانیاں اور ترقیاتی امداد جیسی پیشکشیں کی جا رہی ہیں۔

ترکی والا راستہ بند ہو جانے سے نقل مکانی کا رخ تبدیل ضرور ہوا ہے، مگر وہ رکی نہیں ہے۔ تارکین وطن اس مہنگے اور پُرخطر سفر پر خوشی سے نہیں آتے۔ حوریہ اپنے آبائی ملک اریٹیریا سے آمریت کے ظلم و جبر سے تنگ آکر فرار ہوئی تھی۔ سوڈان میں پانچ سال پناہ گزینوں کے کیمپ میں گزارنے کے بعد وہ لیبیا کشتی کی تلاش کے لیے آئی تھی۔ جب تک یہ جنگیں جاری رہیں گی، اور ان ممالک کے حکمران اپنے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے میں ناکام رہیں گے، یہ لوگ دوسرے ممالک کا رخ کرتے رہیں گے۔ ربڑ کی کشتی میں سوار سینیگال سے تعلق رکھنے والے کیبہ کا کہنا تھا کہ ’’میرے پاس اپنا ملک چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا، کیوں کہ سینیگال میں اب ہمارے لیے کچھ نہیں ہے‘‘۔

تین گھنٹے بعد:

صبراتہ کی بندرگاہ سے نکلنے کے ۳ گھنٹے بعد ان کی کشتی کا انجن فیل ہوگیا۔ ۲۰ سالہ محمد، جس کا تعلق شام کے شہر دارایہ سے تھا، اس نے فوراً ہی معاملے کا اندازہ لگالیا۔ محمد کا کہنا تھا کہ ’’ہم سب بہت خوفزدہ تھے خاص طور پر وہ لوگ جو کشتی کے عرشے کے نیچے تہہ خانے میں موجود تھے‘‘ یہ تہہ خانہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا جس میں بچے بھی شامل تھے۔ جب لوگوں کو کشتی کی خرابی کا پتا چلا تو ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور تہہ خانے سے لوگ عرشے پر آنے کی کوششیں کرنے لگے۔ جس سے کشتی کا توازن برقرا رہنا مشکل ہوگیا اور کشتی میں پانی داخل ہونے لگا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ اگر کشتی ڈوبی تو جو لوگ تہہ خانے میں ہیں ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔ محمد کو ایک ہوائی جہاز کی آواز سنائی دی مگر وہ اسے مدد کے لیے کیسے پکارتا، اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آیا جہاز نے ان کو دیکھ لیا ہے یا نہیں اور وہ وقت پر ان کو بچابھی پائے گا یا نہیں۔

وہ امدادی جہاز ہی تھا۔اس نے MV Aquarious (کشتی) کو مدد کے لیے سگنل دیا جو کچھ فاصلے پر کیبہ کی ربڑ کی کشتی کو بچانے میں مصروف تھی۔ جب ان کو دوسری کشتی کے ڈوبنے کی اطلاع ملی تو پریشان ہو گئے کہ پہلے کس کی مدد کریں۔ کیونکہ حوریہ والی کشتی میں زیادہ لوگ سوار تھے اس لیے بوٹ نے اسی کشتی کو ترجیح دی۔

’’جب MV Aquarious ہماری مدد کو پہنچی تو ہماری جان میں جان آئی‘‘۔ ۳ سے زیادہ گھنٹے کشتی کو خالی کرنے میں لگے۔ پھر مزید ایک گھنٹہ ربڑ والی کشتی کی مدد میں صَرف ہوا۔ ایم ایس ایف کے مترجمین مسلسل انگریزی، عربی اور فرانسیسی زبان میں لوگوں کو اعلانات کے ذریعے پرسکون رہنے کی ہدایت دے رہے تھے اور انہیں یقین دلا رہے تھے کہ سب کو یہاں سے بحفاظت نکال کر دوسری جگہ لے جایا جائے گا۔

جب مہاجرین کشتی پر آگئے تو وہ سب بہت گھبراہٹ اور خوف کا شکار تھے۔ یہ اس سفر کا آخری مرحلہ تھا، جو ہزاروں میل دور افریقا کے دیہی علاقوں سے شروع ہو کر سوڈان اور ایتھوپیا کے پناہ گزین کیمپوں سے ہو کر اب اپنے اختتامی مراحل میں تھا۔ مہاجرین ہزاروں ڈالر اسمگلروں کو دے کر لیبیا پہنچے تھے۔ اس سفر میں زیادہ راستہ زمینی تھا، صحارا کے ریگستان کے ساتھ ہونے والا سفر بہت خطرناک ہوتا ہے، جس میں تارکین وطن کے بے شمار قافلے لوٹ لیے جاتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو جان سے مار دیا جاتا ہے۔

IOM کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہمیں ریگستان میں مارے جانے والے لوگوں کی صحیح تعداد تو معلوم نہیں، لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ جتنے لوگ بحیرہ روم میں مارے جاتے ہیں تقریباً اتنے ہی ریگستان میں بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ہجرت کے اس سفر میں خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے نیٹ ورک سے بین الاقوامی سطح پر جسم فروشی کی تجارت کو بھی فائدہ ہوا ہے۔ آئی او ایم کے مطابق ۸۰ فیصد نائجیرین خواتین جو لیبیا سے اٹلی جاتی ہیں، وہ یورپ میں جنسی تجارت کا شکار ہو جاتی ہیں، جنہیں بہت منظم گروہ چلاتے ہیں۔ ’’گڈنیس‘‘ جو اپنے بچے کے ساتھ ربڑ کی کشتی میں سوار تھی، اس نے اپنی دوست کے کہنے پر نائجیریا چھوڑا تھا۔ اس کی دوست نے اسے لیبیا میں ’’ویٹریس‘‘ کی نوکری دلوانے کا وعدہ کیا اور یورپ جانے کے لیے رقم کے بندوبست کا بھی یقین دلایا۔ لیکن جب وہ طرابلس پہنچی تو اسے قحبہ خانے لے جایا گیا۔ جہاں پہلے سے ۲۰۰ خواتین موجود تھیں۔ وہاں ایک گاہک نے اپنے ساتھ رہنے کی شرط پر ان کے سفری اخراجات (۴۶۰۰ ڈالر) اٹھانے کی بات کی۔ مگر جب وہ حاملہ ہوگئی تو وہاں کے مالک نے کسی اور کو بیچ دیا۔ Destiny کی پیدائش کے بعد اسے پھر بیچ دیا گیا۔ اور اس بار ایک سینیگالی شخص کو جس نے اسے ۱۵۰۰ ڈالر میں خریدا (جو یورپ کے کرائے سے بھی زیادہ تھے)۔ لیکن جب اس آدمی نے امدادی کشتی پر حکام سے اس کے بارے میں پوچھنا شروع کیا تو گڈنیس نے حکام سے درخواست کی کہ وہ کسی کو اس کا پتا نہ چلنے دیں۔ (ایم ایس ایف کی پالیسی کے مطابق ان خواتین کا نام نہیں بتایا جاتا جو بے سہارا اور لاوارث ہوں)۔

IOMکی رپورٹ کے مطابق پچھلے تین سالوں میں اکیلی سفر کرنے والی مہاجر خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں یہ تعداد ۱۴۵۴ تھی جو کہ ۲۰۱۵ء میں بڑھ کر ۵۶۳۳ ہو گئی۔ ۲۰۱۶ ء کی پہلی ششماہی میں یہ تعداد دگنی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ آئی او ایم کے ترجمان ڈی جیاکومو کے مطابق یہ واضح طور پر’’جنسی تجارت‘‘ میں اضافہ کی نشانی ہے۔ اسمگلروں کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ لوگ ایک بار سمندر میں چلے جائیں تو اس کے بعد ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے۔ مگر جسم فروشی کی تجارت کرنے والوں کی شاخیں نائیجیریا اور اٹلی میں پھیلی ہوئی ہیں اور ا ن کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ افراد اٹلی بحفاظت پہنچ جائیں اور اس کام کے لیے ان کا انحصار امدادی کشتیوں پر ہوتا ہے۔

آئی او ایم اور ایم ایس ایف، دونوں کے درمیان اس نکتے پر بحث جاری ہے کہ امدادی کارروائیوں سے تارکین وطن میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور مزید لوگ ہجرت کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح یورپ پر تارکین وطن کا دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ــ’ترجمان آئی او ایم کا کہنا ہے کہ ’’یورپی یونین اور اٹلی کے لوگ اس طرح ہزاروں لوگوں کو ڈوبنے تو نہیں دیں گے‘‘۔ لیکن شامی نوجوان محمد کا کہنا ہے کہ وہ کبھی اپنی زندگی خطرے میں نہ ڈالتا اگر اسے کامیاب امدادی کارروائیوں کی خبریں نہ ملی ہو تیں، اب مجھے یقین ہے کہ وہاں لوگ ہیں جو ہمیں بچا لیں گے اور میں اپنی منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاؤں گا‘‘۔

جب امدادی سرگرمیوں میں مصروف حکام نے تمام افراد کو MV Aquarious پر سوار کردیا تو تارکینِ وطن کو بھاری غذائیت والی خوراک دی گئی۔ کشتی کو سسلی ساحلی شہر کاتانیا پہنچنے میں ۳۶ گھنٹے لگے، اس دوران موسم بھی کافی خراب رہا۔

اس صدی کے اس انسانی المیے کا مقابلہ کرنے کے لیے MV Aquarious جیسی کشتیاں صرف عارضی حل ہیں۔ یورپ کے پالیسی انسٹی ٹیوٹ برائے مہاجرین کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں تارکین وطن کو سنبھالنے کے لیے ہر سطح پر منظم ہوکر کام کرنا ہوگا اور یورپ کو ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا: جہاں سے یہ لوگ ہجرت کرتے ہیں۔ ان ممالک میں مزید مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ لیبیا کا مستحکم ملک کی حیثیت سے سامنے آنا بہت ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی سمندری نگرانی بہتر طور پر کر سکے اور انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر کے کڑی سزا دے سکے۔

مہاجرین کو کنٹرول کر نے کے لیے کی جانے والی تما م تادیبی اور دفاعی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ لکڑی والی کشتی پر موجود صومالی، شامی اور اریٹیریا کے لوگ تو تارکین وطن کی شرائط پر پورے اترتے ہیں۔ لیکن ربڑ کی کشتی پر سوار گھانا، سینیگال اور بنگلادیشی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں غیر قانونی طور پر یورپ میں رہنا پڑے گا۔ IOM کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر یورپی ممالک مہاجرین کے لیے قانونی راستے آسان بنا دیں تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ بحیرۂ روم کو پار کرنے کے لیے خطرہ مول نہ لیں۔

جیسے ہی کشتی کاتانیا پہنچی، مہاجرین کے فنگر پرنٹس لیے گئے اور انہیں رجسٹرڈ کیا گیا، پھر استقبالیہ پر بھیج دیا گیا۔ اٹلی حکومت کی جانب سے احکامات تھے کہ جو مہاجرین پناہ کے لیے نااہل ہیں انہیں فوراً واپس بھیج دیا جائے اور وہ واپسی کا انتظام خود کریں گے۔ مگر آئی او ایم کے مطابق اس کے لیے زبردستی نہیں کی گئی۔ مہاجرین غیر قانونی لیبر مارکیٹ میں نوکریاں تلاش کرتے ہیں یا پھر دوسرے یورپی ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔

آنے والے تقریباً تمام افراد کے پاس کچھ نہ کچھ رقم ہوتی ہے اور وہ کچھ زبانیں بھی جانتے ہیں اور ان سب کو یقین ہوتا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔ کیوں کہ مشکل ترین مرحلہ تو وہ طے کر چکے ہوتے ہیں۔ اریٹیریا سے تعلق رکھنے والی حوریہ اسکینڈے نیوین ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ محمد برطانیہ میں اپنے بھائی کے پاس جانا چاہتا ہے۔ گڈنیس کے پاس اس کی ایک دوست کے دوست کا نمبر ہے، جو اس کی مدد کرسکتی ہے۔ اٹلی کا قانون ان خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے، جو اسمگلنگ میں پھنسی ہوں۔ مگر بعض خواتین شرمندگی اور مجبوری کے تحت اسے قبول نہیں کرتیں۔ گڈنیس کے پاس کوئی صلاحیت یا کوئی تعلیم نہیں تھی۔ اس کی ایک ہی کوشش ہے کہ وہ اپنی بیٹی Destiny کو وہ سب مواقع فراہم کردے جو اسے نہیں مل سکے۔

کیبہ جو ربڑ کی کشتی کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ تھا، اب پر امید ہے کہ وہ یہاں کوئی نوکری حاصل کر لے گا اور اپنے گھر والوں کو سینیگال پیسے بھیج سکے گا۔ اگر اس کو معلوم ہوتا کہ سفر کتنا خطرناک ہے تو وہ کبھی اپنا گھر چھوڑ کر نہیں آتا۔ یورپ میں موجود اس کے دوستوں نے اسے خبردار بھی کیا تھا مگر اس نے ان کی ایک نہ سنی۔ حالانکہ ۳۰۰۰ میل کے سفر میں کئی بار موت اس کے سامنے تھی، مگر وہ زندہ بچ گیا اور وہ کہتا ہے کہ ’’اگر میرے دوست یہاں آنا چاہیں تو میں انہیں اسمگلروں کا نام اور نمبر دینے کو تیار ہوں، جنہوں نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے‘‘۔ اس نے مزید کہا کہ ’’اگر ان کے لیے وہاں کچھ نہیں تو انہیں وہ سب تلاش کرنے یورپ ضرور آنا چاہیے‘‘۔

(ترجمہ: عبدالرحمن کامران)

“Between the devil and the deep blue sea”. (“Time”. Sep. 12, 2016)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*