طالبان کو بلینک چیک؟

مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی تحریک طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے سے روکا تھا۔ امریکا میں ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ملا محمد عمر مجاہد نے ۱۹۹۸ء سے القاعدہ کے سربراہ کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا سے بات نہیں کریں گے اور امریکا کے خلاف کسی بھی نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کریں گے۔

امریکا کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے ملنے والے شواہد اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے اس دعوے سے متصادم ہیں جو انہوں نے ۱۱ ؍ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں میں طالبان کے ملوث ہونے کے حوالے سے کیے ہیں۔ طالبان نے بارہا کہا ہے کہ القاعدہ کے عالمگیر منصوبے یا ایجنڈے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

اسامہ بن لادن اور ملا عمر مجاہد کے تعلقات کے بارے میں ابتدائی ذریعہ مصر کا معروف جہادی ابو الواحد المصری ہے جس نے نائن الیون سے قبل کے عمر اسامہ تعلقات کے بارے میں عربی زبان کی ایک جہادی ویب سائٹ پر ۱۹۹۷ء میں تفصیلی مضمون لکھا تھا۔ ملا عمر اور اسامہ بن لادن کے بارے میں فرداً فرداً اور ان کے تعلقات کے بارے میں اجمالی طور پر بہت کچھ بیان کرنا المصری کے لیے یوں ممکن تھا کہ اس نے ان کے ساتھ خاصا وقت گزارا۔ وہ افغانستان میں القاعدہ کے عربی بولنے والے گروپ کا رکن تھا تاہم ۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۱ء کے دوران اس کا جھکائو افغان کاز کی طرف زیادہ رہا۔ جو کچھ المصری نے بیان کیا اس کے بارے میں انگریزی زبان کا پہلا جامع مضمون کومبیٹنگ ٹیرر ازم سینٹر کے جریدے سی ٹی سی سینٹینیل میں شائع ہوا جو سی ٹی سی کے فیلو واحد برائون نے لکھا تھا۔

ملا عمر نے اسامہ بن لادن کو افغانستان میں قیام کی مشروط اجازت دی تھی۔ یہ معاملہ ابتدا ہی سے مشروط تھا۔ المصری کی دی ہوئی تفصیلات کے مطابق ملا عمر کو یہ بات پسند نہ تھی کہ اسامہ بن لادن اجازت لیے بغیر میڈیا سے بات کریں۔ طالبان تحریک بیرونی رابطوں کے معاملے میں غیر معمولی محتاط تھی۔ افغانستان کے سابق وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل نے انٹر پریس سروس سے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی سخت نگرانی مقصود تھی تبھی تو اسے طالبان ہیڈ کوارٹرز قندھار میں رکھا گیا تھا۔ طالبان نے قندھار کو غیر اعلانیہ دارالحکومت کا درجہ دے رکھا تھا۔

۷ ؍اگست ۱۹۹۸ء کو مشرقی افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں کے بعد امریکا نے افغانستان میں اسامہ بن لادن کے تربیتی مراکز پر کروز میزائل داغے۔ ان میزائلوں کا داغا جانا ہی ممکنہ طور پر القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے متعلق طالبان کی پالیسی میں تبدیلی کا باعث بنا۔ ان میزائل حملوں کے دو ہی دن بعد ملا عمر مجاہد نے امریکی دفتر خارجہ کے حکام کو بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسامہ بن لادن افغان سرزمین پر بیٹھ کر امریکا میں اہم مقامات یا امریکی مفادات کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے ریکارڈ سے پتا چلا ہے کہ ملا عمر نے امریکی حکام سے اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں کے بارے میں مذاکرات کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔

ملا عمر مجاہد نے امریکی حکام سے اسامہ بن لادن کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں جب شواہد طلب کیے اس کے صرف تین ہفتوں کے بعد اسامہ نے امریکی سرزمین کو نشانہ نہ بنانے سے متعلق امریکی ہدایات کو قبول کرنا شروع کردیا۔ الجزیرہ ٹی وی سے ایک انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے کہا تھا ’’طالبان تحریک میں اس امر پر کامل اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہمیں افغانستان کی حدود سے باہر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہی امیر المومنین (ملا عمر مجاہد) کی سوچ ہے۔‘‘

ستمبر اور اکتوبر ۱۹۹۸ء کے دوران طالبان حکومت بظاہر اسامہ بن لادن کو سعودی حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوگئی تھی کیونکہ مشرقی افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے دھماکوں میں اس کے ملوث ہونا ثابت ہو رہا تھا۔ افغان سپریم کورٹ نے القاعدہ چیف کو ان حملوں میں ملوث قرار دے دیا تھا۔ ایک سینئر امریکی سفارت کار نے دفتر خارجہ کو دی جانے والی دستاویز میں بتایا ہے کہ ۲۸ نومبر ۱۹۹۸ء کو ملا عمر کے ترجمان اور امور خارجہ کے مرکزی مشیر وکیل احمد متوکل نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور سے گفتگو میں افغان حکومت کی اس درخواست کا حوالہ دیا کہ امریکا اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے بارے میں شواہد دے تاکہ افغان سپریم کورٹ ان کا تجزیہ کرسکے۔ متوکل نے بتایا کہ امریکا نے چند کاغذات اور ایک وڈیو فراہم کی تھی تاہم انہوں نے یہ شکایت بھی کی کہ وڈیو میں کچھ بھی نیا نہیں تھا اس لیے سپریم کورٹ کے حوالے نہیں کیا گیا۔ متوکل نے امریکی ناظم الامور کو بتایا کہ افغان سپریم کورٹ نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے شواہد اسامہ بن لادن کو مجرم قرار دینے کے لیے ناکافی ہیں۔ وکیل احمد متوکل نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ سپریم کورٹ کی اپروچ تو کارگر ثابت نہیں ہوئی تھی تاہم طالبان حکومت نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ایسے طریقے اختیار کیے جائیں گے کہ اسامہ بن لادن رضاکارانہ طور پر افغانستان چھوڑ دے۔

۱۰ ؍فروری ۱۹۹۹ء کو طالبان نے ۱۰ ؍افسران کا ایک دستہ بھیجا تاکہ وہ اسامہ بن لادن کے باڈی گارڈز کی جگہ لے سکیں۔ ۴ مارچ ۱۹۹۹ء کو نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ دی کہ اس موقع پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ تین دن بعد ایک اور رپورٹ میں نیو یارک ٹائمز نے امریکی اور طالبان ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ طالبان انٹیلی جنس اور امور خارجہ کی وزارت کے لیے کام کرنے والے باڈی گارڈز نے قندھار میں اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ کا محاصرہ کیا اور ان سے سیٹلائٹ فون لے لیا۔

نیو یارک ٹائمز نے اپنی اسٹوری میں یہ بھی بتایا تھا کہ اس زمانے میں اسلام آباد میں افغان سفارت خانے میں متعین عبدالحکیم مجاہد کا کہنا تھا کہ ۱۰ ؍طالبان گارڈز اسامہ بن لادن کو فراہم کیے گئے تھے تاکہ وہ اس پر نظر رکھیں اور بیرون ملک کسی سے بات نہ کرنے دیں اور افغانستان کا کوئی بھی مواصلاتی نظام بھی استعمال نہ کرنے دیں۔

۱۹۹۹ء میں جب طالبان حکومت پر القاعدہ کے تربیتی کیمپ بند کرنے کے لیے دبائو بڑھا تو اسامہ بن لادن پر دبائو بڑھایا گیا۔ افغانستان میں القاعدہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دو عرب رہنمائوں کی جانب سے اسامہ بن لادن کو بھیجی جانے والی ای میل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسامہ اور ملا عمر کے تعلقات کشیدہ تھے۔ اس ای میل کو ایلن کولیزن نے ’’دی اٹلانٹک‘‘ کے ستمبر ۲۰۰۴ء کے شمارے میں شائع کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ طالبان کی جانب سے القاعدہ نیٹ ورک کے تربیتی کیمپ بند کرنے کی بات پھیل چکی تھی اور معاملات اس حد تک بگڑ گئے تھے کہ طالبان کی جانب سے القاعدہ والوں کو لات بھی پڑسکتی تھی۔ اس سے قبل بھی معاملات بگڑے تھے اور اسامہ بن لادن نے ملا عمر کو امیر المومنین تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اپریل ۲۰۰۱ء کی بات ہے جب نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز گرائے نہیں گئے تھے۔

المصری مصر رہے کہ اسامہ بن لادن نے ملا عمر مجاہد کو امیر المومنین تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس نے المصری سے کہا تھا کہ اس کی جگہ وہ بیعت کرے کیونکہ بعد میں وہ عرب دنیا میں آسانی سے کہہ سکتا تھا کہ اس نے ملا عمر کو امیر المومنین تسلیم نہیں کیا تھا اور اس کی بیعت نہیں کی تھی۔ ۲۰۰۱ء کے موسم گرما تک شمالی اتحاد کی فوج کا سامنا کرنے کے لیے طالبان کو بیرون ملک اور بالخصوص عرب دنیا سے آنے والے عسکریت پسندوں کی مدد بھی لینی پڑتی تھی۔ ایسی حالت میں بھی ملا عمر نے اسامہ بن لادن کی موجودگی پر خفگی ظاہر کرنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ افغانستان میں جہادی سیاست کے آسٹریلوی ماہر لی فیرل نے گزشتہ اکتوبر میں ایک بلاگ انٹرویو میں بتایا کہ اسامہ بن لادن کے وفادار جنگجو اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے جنگجوئوں میں متعدد جھڑپوں کے بعد ملا عمر نے تمام غیر ملکی مجاہدین کو اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے کنٹرول میں دے دیا۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے ترجمان جیوف موریل نے کہا کہ ملا عمر سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اسامہ بن لادن کو نائن الیون کی منصوبہ بندی کی اجازت دیئے جانے کے باعث ان کے ہاتھ ہزاروں امریکیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

(بشکریہ: ’’ایشیا ٹائمز آن لائن‘‘۔ ۱۲ فروری ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.