دُمدار ستارے کے ذرّات زمین پر!

فضا اور خلا کے بارے میں قومی انتظامیہ ’’ناسا‘‘ کا خلائی جہاز اسٹارڈسٹ خلا میں تقریباً سات برس گزارنے اور چار ارب ساٹھ کروڑ کلو میٹر سے زائد سفر طے کرنے کے بعد ۱۵ جنوری کو صبح سویرے زمین پر اتر گیا۔ یہ خلائی جہاز اپنے ساتھ ستاروں اور دمدار ستاروں کے قیمتی ذرات کے نمونے لے کر آیا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان ذرات سے دمدار ستاروں اور نظامِ شمسی کی اصلیت کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ یہ خلائی جہاز ۴۶۶۷۰ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا میں داخل ہوا۔ یہ رفتار اب تک انسان کی بنائی ہوئی کسی بھی چیز کی رفتار سے زیادہ ہے۔ اس کے بڑے پیراشوٹ کو اسٹوریج پیک سے نکالنے کے لیے زمین سے ۳۲ کلو میٹر کی بلندی پر ایک چھوٹا پیراشوٹ کھولا گیا تھا۔

تین کلو میٹر کے فاصلے پر بڑا پیراشوٹ کھولا گیا جو سات سال سے لپٹا ہوا تھا۔ اس سے خلائی جہاز کی رفتار ۱۶ کلو میٹر فی گھنٹہ کی شرح سے کم ہوتی گئی اور بالآخر وہ امریکی ریاست یوٹا (Utah) کے شہر سالٹ لیک سٹی کے جنوب مغرب میں واقع امریکی فضائیہ کے تجرباتی اور تربیتی علاقے کے صحرا میں بآسانی اتر گیا۔ اس خلائی جہاز کا قطر ۸۱ سینٹی میٹر‘ اس کی بلندی ۵۳ سینٹی میٹر اور اس کا وزن ۴۳ کلو گرام ہے۔ ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے اسٹارڈسٹ پروجیکٹ منیجر ٹام ڈکسبری (Duxbury) نے امریکا کے مشرقی حصے کے معیاری وقت کے مطابق صبح پانچ بج کر بارہ منٹ پر (گرنیچ کے وقت کے مطابق دن کے دس بج کر بارہ منٹ) اعلان کرتے ہوئے تمام اسٹیشنوں سے کہا کہ اسٹارڈسٹ خلائی جہاز زمین پر اتر گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد مشن کنٹرول روم میں موجود ناسا کے سائنسدانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے تالیاں بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ہیلی کاپٹروں نے یہ خلائی جہاز فوراً تلاش کر لیا۔ اس کا جائزہ لیا گیا اور ابتدائی عمل کے لیے اسے یوٹا میں امریکی فوج کے ڈگ وے پروونگ (Dugway Proving) گرائونڈ پر مائیکل آرمی فیلڈ میں لے جایا گیا۔ بعد میں ذرات کے یہ نمونے ٹیکساس میں ناسا کے جانسن خلائی مرکز کی خصوصی لیبارٹری میں پہنچائے جائیں گے جہاں انہیں محفوظ کر کے ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

سی ایٹل کی یونیورسٹی آف واشنگٹن میں اسٹارڈسٹ کے محقق اعلی ڈان برائون لی نے کہا کہ جنوری ۲۰۰۴ء میں دمدار ستارے وائلڈ ۲ کے قریب اسٹارڈسٹ کے پہنچنے کے بعد ہمیں جو اطلاعات حاصل ہوئیں‘ یہ خلائی جہاز اس سے پہلے بعض مفید سائنسی معلومات فراہم کر چکا تھا۔ انہوں نے کہا ’’ذرات کے یہ نمونے حاصل ہونے سے ہم نظامِ شمسی کی تیاری کے حقیقی مواد پر یہ معلوم کرنے کے لیے کام کر سکیں گے کہ یہ نظام کب تشکیل پایا تھا۔ جس دن یہ معلوم ہو گا‘ وہ سائنس کے لیے عظیم دن ہو گا‘‘۔ یہ مشن‘ جس پر ۴ کروڑ چوراسی لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے (اس میں اسٹارڈسٹ کو چھوڑنے والے خلائی جہاز ’’ڈیلٹا ۷۴۲۶‘‘ پر خرچ ہونے والی رقم شامل نہیں ہے) فلوریڈا میں کیپ کینورل ائر فورس اسٹیشن سے فروری ۱۹۹۹ء میں چھوڑا گیا۔ اسٹارڈسٹ نے تقریباً سات برس میں سورج کے گرد تین چکر لگائے۔ خلائی جہاز نے تصاویر بھی لیں‘ خلائی جہاز نے دمدار ستارے کے قریب جاتے ہوئے نظامِ شمسی کے دو مختلف مداروں پر ستاروں کے ذرات حاصل کیے۔ ۲ جنوری ۲۰۰۴ء کو نظامِ شمسی میں ۳ ارب ۴۱ کروڑ کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد اسٹارڈسٹ‘ دمدار ستارے وائلڈ۲ سے قریب ترین یعنی ۲۴۰ کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچ گیا۔

اسٹارڈسٹ‘ وائلڈ۲ کے قریب پرواز کے دوران جب اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے بادلوں‘ دھول یا ملبے میں سے گزرا تو اس کے خصوصی کلکٹر نے ذرات کے نمونے حاصل کر لیے۔ دمدار ستاروں کا مواد حاصل کرنے کے لیے اسٹارڈسٹ میں سیلیکون سے بنا ہوا ٹینس ریکٹ کی شکل کا ایک آلہ ’’ایروجل (Aerogel)‘‘ نصب کیا گیا تھا تاکہ مواد حاصل کرتے وقت خلائی جہاز کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ خلائی جہاز نے ذرات کے یہ نمونے جمع کرنے کے علاوہ دمدار ستارے وائلڈ۲ کے مرکزی حصے کی نہایت عمدہ تصاویر بھی لیں۔ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دمدار ستارے کی ساخت‘ ڈھلوانوں‘ عمودی پہاڑی چوٹیوں‘ مکانات کے سائز کے پتھروں‘ محرابی چٹانوں‘ عمودی دیواروں کے ساتھ آتش فشاں کے ہموار سطحی دہانوں اور مختلف چمکدار مواد پر مبنی ہے۔ اس ستارے کی سطح ناہموار دکھائی دیتی ہے جو ان دوسرے دمدار ستاروں‘ سورج کے مدار میں گردش کرنے والی چٹانوں اور چاندوں سے قطعی مختلف ہے جن کی تصاویر لی جا چکی ہیں۔

اس ستارے کی سطح پر گہری کھائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کٹائو کی وجہ سے اس کی سطح میں ۱۰۰ میٹر یا اس سے زیادہ گہرے گڑھے پڑ گئے۔ ایک انتہائی شاندار دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ستارے کی سطح پر ۲۰ متحرک جیٹ ہیں جو خلا میں گیس اور دھول خارج کرتے رہتے ہیں۔ دمدار ستارے کے قریب پہنچنے کے چھ گھنٹے بعد خلائی جہاز نے اپنے آلے کے ذریعے نصف گھنٹے کے عمل میں ذرات کے نمونے جذب کرنا اور ذخیرہ کرنا شروع کر دیے۔ اس کے بعد وہ ڈبہ‘ جس میں یہ نمونے جمع ہو گئے‘ بند کر دیا گیا۔

خلائی جہاز کے قریب پہنچنے کے بعد کے گھنٹوں اور دنوں میں اس جہاز سے لی گئی تصاویر‘ سائنسی معلومات اور انجینئرنگ کے اعداد و شمار زمین پر منتقل کر دیے گئے۔ خلا میں خاصے اندر سے حاصل کیے جانے والے نمونے اسٹارڈسٹ پہلا خلائی جہاز ہے جس میں خلا میں خاصے اندر سے نمونہ حاصل کرنے اور انہیں تحقیق کے لیے زمین پر بھیجنے کی صلاحیت ہے۔ ناسا کا خیال ہے کہ بیشتر ذرات کا سائز ملی میٹر کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔ سائنسدان جائزہ کے لیے ان ذرات کو سات چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کریں گے۔

یہ مشن ناسا‘ کئی یونیورسٹیوں اور صنعتی شراکت داروں کی مشترکہ کاوش ہے۔ یہ ناسا کے ڈسکوری مشنز کے سلسلے کا چوتھا مشن ہے۔ نسبتاً کم لاگت کے ان مشنز میں اعلیٰ ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔ اسٹارڈسٹ کے محقق اعلی ڈان برائون لی نے ۲۱ دسمبر کو ’’ہم انہیں ستاروں کی دھول کہتے ہیں‘‘ کے موضوع پر ناسا کی بریفنگ میں کہا کہ ہمارے اس مشن کو اسٹارڈسٹ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے خیال کے مطابق دمدار ستارے کے بعض ذرات‘ سورج اور دوسرے ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں کے ذرات سے قدیم ہوں گے۔ اسٹار ڈسٹ کے بارے میں مزید معلومات ناسا کی درج ذیل ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہیں:

http://www/nasa.gov/mission_pages/stardust/main/index.html
(بشکریہ: ’’خبر و نظر‘‘۔ امریکی شعبۂ تعلقاتِ عامہ‘ اسلام آباد۔ جنوری فروری ۲۰۰۶)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.