بحیرہ قزوین (Caspian Sea) کی بیش بہا دولت کو اسرائیل تک پہنچانے کا منصوبہ

مشرقی ازبکستان میں اٹھنے والی عوامی انقلاب کی لہر کو طاقت کے ذریعے دبا کر کئی سو مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا‘ جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان زخمی کر دیے گئے۔ اس واقعے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اسلامی اور عرب ممالک کے میڈیا نے اس انقلابی واقعے کی کوریج انتہائی محدود اور محتاط انداز میں کی ہے جبکہ اس سلسلے میں مسلم ممالک کے میڈیا میں زیادہ تر رپورٹیں مغربی میڈیا سے براہِ راست ترجمہ کر کے شائع کی گئیں۔ مسلم ممالک کے بعض صحافتی ذرائع ازبکستان میں ہونے والی انقلابی کاوشوں کو حکومتی اور اسلامی تحریکوں کے درمیان جاری طویل کشمکش کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جبکہ اسی دوران ازبکستان میں اسرائیلی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں کویت سے شائع ہونے والی جریدے ’’المجتمع‘‘ نے سوال اٹھایا ہے کہ ’’ازبکستان بلکہ تمام وسطی ایشیا میں اسرائیلی سرمایہ کاری کے حقیقی مقاصد کیا ہیں؟ اور ان اثرات کے ازبکستان کے عوامی انقلاب پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟‘‘ اسرائیل کس طرح بحیرہ قزوین (کیسپین) کی سیال دولت تیل اور گیس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس طرف آنے سے پہلے اس چیز کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ اسرائیل ازبکستان کی کاٹن انڈسٹری کے ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے صنعتی یونٹوں میں بری طرح سرایت کر چکا ہے یعنی ازبکستان کی اقتصادیات کو صیہونیت کی دیمک نے چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں کسی مسلم محقق نے نہیں بلکہ مغرب کے تحقیقی مراکز نے مدون کیا ہے جو گذشتہ دس سال سے اس قسم کی معلومات افشا کر کے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امتِ مسلمہ کے جسد میں اسرائیلی سرطان کس طرح پھیلتا جارہا ہے۔

اقتصادی سرگرمیاں

گذشتہ مئی کے مہینے میں ازبکستان میں جاری خونی کشمکش کے دو ہفتے بعد ہی ازبکستان کے دارالحکومت باکو میں زبردست قسم کی اقتصادی سرگرمیاں اس وقت دیکھنے میں آئیں جب یہاں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ امریکا کے زیرِ سایہ ہونے والی اس کانفرنس میں علاقہ کے اہم ممالک جارجیا‘ ترکی‘ آذر بائیجان اور ترکمانستان کے سربراہان شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا اہم ایجنڈا بحیرۂ قزوین کے تیل کو پائپ لائن کے ذریعہ ترکی کے علاقے اسکندرونہ کی بندرگاہ ’’جیہان‘‘ تک پہنچانا تھا تاکہ موجودہ برس کے آخری حصہ میں بحیرہ قزوین سے تیل کی سپلائی ممکن بنائی جاسکے۔

بحیرۂ قزوین کے تیل کی سپلائی کے اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر لاگت کا تخمینہ تین بلین ڈالر تھا جبکہ باقی حصوں کی مجموعی تکمیل کے لیے ۱۲ بلین ڈالر تخمینہ تھا۔ اس منصوبہ کے تحت ۱۷۶۰ کلو میٹر طویل پائپ لائن کے ذریعہ ۲۰۰۹ء تک ایک ملین بیرل تیل یومیہ سپلائی کیا جاسکے گا۔ اس پائپ لائن کے بعض حصے جو سطح زمین سے ۴۴ میٹر بلند ہوں گے جبکہ پائپ لائن کا بڑا حصہ زیرِ زمین یعنی ڈھکا ہوا ہو گا۔ اس پائپ لائن کے ذریعے صرف آذر بائیجان کا ہی تیل نہیں بلکہ قازقستان کا تیل بھی بحیرہ قزوین (کیسپین) کے مشرقی ساحل کی جانب سے سپلائی کیا جائے گا لیکن سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ ترکی کی بندرگاہ جیہان سے یہ تیل براہِ راست اسرائیل کی بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا۔

اسلامی ملک آذربائیجان کی اقتصادیات کے حوالے سے اسرائیل کا نام آنا اس بات کی مکمل غمازی کرتا ہے کہ اس صیہونی ریاست نے اس مسلم ملک کے تیل اور گیس کے حصول کا سلسلہ اس وقت شروع کر دیا تھا جب وہ ازبکستان سے کاٹن کی سپلائی کو یقینی بنا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی اس کی اقتصادی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس صورتحال کا اگر بہ نظرِ عمیق جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ صیہونیوں کے نزدیک ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا وہ نظریہ جو اسے نیل سے فرات تک وسعت دینے کا خواب تھا‘ اب عالمی افق پر ناکافی تصور کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اب وسطی ایشیا کی ثروت تک پھیلنا چاہتا ہے۔ اس کی معاشی اور اقتصادی سرگرمیاں ماوراء النہر کے اس پار جسے آج وسطی ایشیا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے‘ اسلامی ثقافت کے گہوارے تک جا پہنچی ہیں۔ اسرائیل کے ان استعماری فصیلوں کی وسعت ’’مشترکہ سرمایہ کاری‘‘ کے نام پر وسطی ایشیا کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتی ہے۔

وسطی ایشیا تک اسرائیل کی اس اقتصادی پیش قدمی میں سب سے بڑی معاونت امریکا اور ترکی کی جانب سے حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ سابقہ سوویت یونین کے زمانے میں پروان چڑھنے والے مقامی حکمراں جو اَب اقتصادی سطح پر علاقے میں عالمی صیہونیت کے آلہ کار بن چکے ہیں‘ انہوں نے اسرائیلی وجود کو علاقے میں سب سے زیادہ خوش آمدید کہا ہے۔ وسطی ایشیا کے مغربی نواز ایجنٹ حکمراں یہ سب کچھ اپنے مسلمان عوام کے مزاج کے برخلاف کر رہے ہیں۔ ایسا کر کے وہ اپنے برپا کردہ کرپشن کے طوفان کے الزامات سے بری رہتے ہیں۔ کیونکہ مالی اور سیاسی کرپشن میں گھرے ہوئے لیڈر ہی سب سے زیادہ امریکا اور اسرائیل کے لیے مفید تصور کیے جاتے ہیں۔

تیل پائپ لائن

آذربائیجان‘ جارجیا اور پھر ترکی کی بندرگاہ جیہان تک تیل کی پائپ لائن کا پہنچنا ایک دشوار گزار مرحلہ تھا مگر عالمی قوتیں جنہوں نے دہشت گردی کے نام پر دنیا کے وسائل پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے‘ کسی طور پر بھی اس منصوبے سے دست کش ہونے کے لیے تیار نہیں۔ دشواری اس لیے ہے کہ اس پائپ لائن کو بہت سے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے گزارنا ہے‘ اس کے علاوہ اس پائپ لائن کی حفاظت اور تیل کے رسنے کے امکانات کو روکنے کے لیے بھی انتظامات کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس سلسلے میں وسطی ایشیا کے تین ممالک میں آٹھ ایسے مراکز قائم کیے گئے ہیں‘ جو ان پائپ لائنوں سے پیٹرول رسنے کے امکانات کو کم کریں گے۔ اس لیے اگر یہ پائپ لائن روس یا ایران کے راستے سے گزرتی تو اس پر لاگت انتہائی کم آنا تھی مگر اب اس کے راستے کے ہر کلو میٹر پر کئی گنا زیادہ لاگت آئی ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی ترکی کے علاقے جس میں کردستان بھی آتا ہے‘ اس پائپ لائن کو زبردست خطرات لاحق ہوں گے۔ کیونکہ یہاں پر علیحدگی پسند کرد تحریکیں خاصی سرگرمِ عمل ہیں۔

بحیرہ قزوین (کیسپین) کے تیل کے پائپ لائنوں سے رسنے کے امکان کے حوالے سے منصوبے پر گذشتہ دس برسوں سے کام کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ متبادل پائپ لائنوں کے حوالے سے بھی بہت سی تجاویز زیرِ غور تھیں کیونکہ اس پائپ لائن کا ایک سرا باکو میں اور آخری سرا ترکی کی بندرگاہ جیہان میں ہے۔ عرب صحافتی ذرائع کے مطابق امریکا اور ترکی میں قزوین (کیسپین) کے تیل کی سپلائی کے منصوبے اس وقت ہی زیرِ غور آ گئے تھے جب ابھی ان ریاستوں کو سوویت یونین سے آزادی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت سے چار ملکی (واشنگٹن‘ انقرہ‘ باکو اور تل ابیب) کی کوششیں اس علاقے تک پہنچنے کے لیے شروع ہو چکی تھیں۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکا کو اس چار ملکی اتحاد میں بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہو گئی جو قفقاز اور مشرق قریب میں تیزی کے ساتھ پیر جما رہا تھا۔ اس سارے عمل میں جو سب سے بڑی رکاوٹ تھی‘ وہ روس ایران کے درمیان سیاسی اور جغرافیائی اتحاد تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آرمینیا اور لبنان کی حزب اﷲ بھی اس معاملے میں کسی سے کم خطرناک نہیں تھے۔ اسی دور میں نیٹو اور امریکا کے فوجی اڈوں کو بحیرۂ قزوین (کیسپین) کے دھانے پر واقع ممالک جن میں آذربائیجان اور جارجیا شامل تھے‘ فوجی اڈے بنانے لگے۔ یہ اڈے ترکی سے یہاں منتقل کیے جارہے تھے۔

تیل کی پائپ لائن جو باکو- تبلیسی اور جیہان تک وسیع تھی‘ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی امریکا اپنے اوپر لے کر علاقے کے اہم ملک آذربائیجان کو سیاسی طور پر مضبوط کر کے یہاں پر اپنی مرضی کی انتظامیہ کو بھرپور معاونت فراہم کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے صدر حیدر علی نوف سے جب صدارت اکتوبر ۲۰۰۳ء میں اس کے بیٹے الہام حیدر علی نوف کو غیرجمہوری اور غیرآئینی طور پر منتقل کی گئی تو امریکا اور یورپ کی رگِ جمہوریت نے پھڑکنے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب اس منصوبے کا اہم رکن ترکی امریکا سے کردوں کے خلاف کارروائی میں خاموشی کی شکل میں قیمت وصول کر رہا تھا۔ ترکی اس علاقے میں ’’کرد باغیوں‘‘ کے خلاف کارروائی میں طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہا تھا‘ جہاں سے اس تیل کی پائپ لائن کو گزرنا تھا۔

ان حالات میں اسرائیل عسکری راستے سے باکو پائپ لائن کے قریب ہو رہا تھا۔ اس سلسلے میں ۲۳ فروری ۱۹۹۶ء میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ عمل میں آیا۔ اس معاہدے میں امریکا اور اس کی صیہونی لابی نے کلیدی کردار ادا کیا تاکہ اس معاہدے کے تحت علاقے میں روس‘ ایران اور شام کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ترکی اور صیہونی ریاست اسرائیل کے یہ معاہدے آہستہ آہستہ بحیرۂ قزوین (کیسپین) کے تیل کی جانب پیش قدمی کرنے لگے۔ اسرائیل اس کے ساتھ ساتھ روس سے ترکی آنے والی گیس پائپ لائن سے بھی استفادہ کرنا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے اسرائیل مصر سے گیس کی پائپ لائن صحراے سینا کے راستے حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ مصری قدرتی گیس سے استفادہ کیا جاسکے مگر اس سلسلے میں اسرائیل۔مصر سیاسی تعلقات کی نوعیت اس طرح نہیں تھی کہ یہ کام آسانی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا۔ اس کے علاوہ مصر کی اپوزیشن پارٹیوں اور اسلامی تحریکوں نے بھی امریکا اور اسرائیل نواز حسنی مبارک انتظامیہ کا یہ منصوبہ بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا تھا‘ اس لیے ترکی کے راستے روسی قدرتی گیس کے اسرائیل پہنچانے کے منصوبے پر سوچ بچار شروع ہوئی مگر جس وقت مئی ۲۰۰۵ء کو باکو‘ تبلیسی پائپ لائن منصوبے میں ترکمانستان نے شمولیت اختیار کی تو اس کا فیصلہ کیا گیا کہ ترکمانستان سے گیس کو پہلے ترکی اور اس کے بعد اسرائیل تک پہنچائی جسکے۔

تیل اور گیس کے ذخائر

بحیرۂ قزوین (کیسپین) کے تیل اور گیس کے ذخائر کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں علاقے کی حلیفانہ قوتوں میں تغیر رونما ہو سکتا ہے‘ کیونکہ آذربائیجان اور ایران میں اہلِ تشیع کی حکومت ہے۔ اس کے علاوہ ایران میں آذری قومیت کی ایک بڑی اقلیت سکونت پذیر ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ آذربائیجان کی برآمدات کا اَسّی فیصد انحصار بھی تہران پر رہا ہے کیونکہ ۱۹۹۵ء سے آذربائیجان کی ایران کے ساتھ تجارت کا سلسلہ جاری ہے مگر ان تمام معاملات کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان سخت قسم کی سرد مہری پائی جاتی ہے۔

علاقے کی صورت حال سے باخبر بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کی حکمراں پارٹی رفاہ کی قیادت نجم الدین اربکان کے ہاتھ میں رہتی ہے تو جلد علاقے میں حلیف ممالک کی ترتیب تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ جون ۱۹۹۶ء سے لے کر جون ۱۹۹۶ء میں انقرہ اور تہران نجم الدین اربکان کی قیادت میں تیزی کے ساتھ قریب آگئے تھے۔ اس صورتحال پر اسرائیل اور مغرب کی جانب سے سخت تنقید بھی کی جارہی تھی۔ یہ قربتیں سیاسی بنیاد پر استوار ہو رہی تھیں جبکہ ترک فوج میں موجود صیہونی نیٹ ورک امریکا کے اشارے پر اس عمل کو سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نجم الدین اربکان کی حکومت سے ہٹنے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقا ت میں تیزی کے ساتھ قربتوں میں اضافہ شروع ہو گیا۔

ترکی میں بدلتے ہوئے سیاسی تناظر میں ترک فوج کے صیہونی آلہ کاروں نے وسطی ایشیا میں اسرائیل کے لیے راستے ہموار کرنے کی کوششوں میں اضافہ شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں ترکمانستان کو اہم ہدف قرار دیا گیا کیونکہ بحیرہ قزوین (کیسپین) کے ساتھ اس کا بڑا ساحلی علاقہ متصل ہے۔ یہاں پر اسرائیل نے اپنے تیل کمپنی میرہاف گروپ (Merhav Group) کا دفتر قائم کر دیا جس کا انچارج اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کا سابق آفیسر ’’یوسف مایمان‘‘ ہے۔ میر ہاف گروپ کی ترکمانستان میں ذمہ داریاں قدرتی گیس کے وسائل کو ترقی دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس صیہونی کمپنی نے بحیرہ قزوین (کیسپین) کے کنارے پر واقع ترکمانستان کے ساحلی شہر میں تیل صاف کرنے کی ریفائنری بھی نصب کی ہے۔

ترکمانستان میں

صیہونی کمپنی میرہاف نے ترکمانستان میں پیر جمانے کے بعد علاقے میں روس کی گیس کمپنیوں کا مقابلہ شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صیہونی کمپنی میر ہاف نے ترکی میں ڈیموں کی تعمیر اور مرمت کے کاموں پر بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ دجلہ اور فرات دونوں دریا چونکہ ترکی سے نکلتے ہیں‘ اس لیے شام اور عراق کے لیے ان پانیوں کو کم کر کے اسرائیلی علاقے میں پانی کا بحران پیدا کر سکتا ہے۔ ایک اور صیہونی کمپنی میگل Magal باکو۔ جیہان پائپ لائن جو آذر بائیجان‘ جارجیا اور ترکی کے بڑے حصے سے گزرتی ہے کہ سکیورٹی کی ذمہ داری ہے۔

بعض یہودی سیاسی محققین کے مطابق آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت صرف تیل کی پائپ لائن تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ایران کا خوف‘ اسلامی تحریکوں سے خدشات روس‘ ایران اور ایران ترکی تعلقات کا دبائو اور ترکی کی یورپ میں شمولیت کی رغبت شامل ہے۔ ان ہی خدشات نے مل کر علاقے کو سیاسی سطح پر نئے حلیفانہ گروپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ان معاملات کے ساتھ ساتھ اب چیچنیا بھی زیادہ دور نہیں ہے۔ مغربی ماہرین کا ایک گروپ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ چیچنیا کے معاملے میں روسی یہودی صدر پیوٹن کے خلاف تہہ در تہہ پردوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان یہودی کی زیادہ تعداد روسی سرمایہ کاروں کی شکل میں موجود ہے جو چیچنیا میں ہونے والے اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہیں‘ ذرائع کے مطابق روسی سرمایہ دار یہودی چاہتے ہیں کہ روس چیچنیا کی دلدل میں پھنسا رہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہاں روس کا آہنی دبائو بھی جاری رہے تاکہ یہاں کی اسلامی تحریکیں مستقبل میں اسرائیل کے لیے کیے جانے والے اقتصادی اقدامات کے لیے کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر سکیں۔ اس سلسلے میں روس ماضی قریب میں ترکی پر بھی الزام تراشی کرتا رہا ہے کہ باکو پائپ لائن کو اپنی سرزمین تک لانے کے لیے ترکی نے اس خطے میں جنگ کے شعلوں کو ہوا دی تاکہ اس پائپ لائن کا فائدہ اسے مل سکے۔ کیونکہ باکو جیہان پائپ لائن کو چیچنیا کی سرزمین سے بھی گزرنا تھا۔

باکو پائپ لائن اور ترکی اسرائیل اتحاد کے تناظر میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ خسارے میں ایران اور روس ہیں مگر لوگ جانتے ہیں کہ اس سلسلے میں عرب ممالک کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جو اقتصادی سطح پر وسطی ایشیا کے علاقے کے ممالک میں سرگرم عمل ہیں‘ نقصانات میں ان کا حصہ بھی کم نہیں ہے۔

وسطی ایشیا کی اپوزیشن سمجھتی ہے کہ امریکا یہاں فوجی اڈے قائم کر کے ایک طرف یہاں کی معدنی اور تیل کی دولت پر کنٹرول چاہتا ہے تو دوسری جانب اسے ایک طرف روس کا اور دوسری جانب چین کا راستہ روکنا ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ امریکا نے پہلے سوویت یونین کو افغانستان میں پھنسا کر اسے یہاں طویل جنگ میں الجھا کر تباہ کر دیا۔ اس کے بعد اس نے یہاں اسلامی انقلابی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا نعرہ دیا۔ اس دہشت گردانہ سازشوں کو کامیاب کرانے کے لیے مالیاتی رشتوں‘ آزادیٔ رائے‘ حقوقِ انسانی اور جمہوریت کے نام سے محاذ بنا لیے گئے۔ مقامی حکمرانوں اور فوجی آمروں کو فروغ جمہوریت کے نام پر نئے محاذ کھول کر دیے۔

مقامی آمروں کا رول

مقامی حکومتوں اور ان پر مسلط آمروں کو واضح اہداف دیے گئے کہ وہ قوت کے ذریعہ اسلامی عناصر کو روکیں‘ ورنہ ان کی جگہ کسی اور کو مسلط کر دیا جائے گا۔ اس صورتحال میں بھی روس اور چین کی پیش قدمی کسی نہ کسی طرح جاری ہے۔ دوسری جانب روس ایران کے راستے گرم پانیوں کی جانب دوبارہ پیش قدمی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ اس کا جوہری تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس سے علاقے میں امریکی استعماریت کا جواب دیا جاسکتا تھا مگر بدقسمتی سے یہاں کے علاقائی ملک آپس میں اتنا تعاون نہیں کر رہے۔

جاری ہے۔۔۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*