Abd Add
 

شمارہ یکم اکتوبر 2009

یورپی یونین: ترکی کی شمولیت کا قضیہ

October 1, 2009 // 0 Comments

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ظاہر کرنا دشوار تر ہوتا جارہا ہے کہ یورپی یونین سے ترکی کے مذاکرات اب تک درست سمت میں جاری ہیں۔ یورپی یونین میں ترکی کے دوست ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ ان قوم پرست سیاست دانوں، سفارت کاروں اور یورپی یونین کے عہدیداروں سے پوچھیے کہ کیا ان کے خیال میں ترکی کسی دن یورپی یونین کی مکمل رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ترکی کو مکمل رکنیت ملنی ہی چاہیے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ایک دو عشروں میں ترکی پر کیے جانے والے اعتراضات دم توڑ دیں گے، مسلم دنیا سے رابطے کے ذریعے کے طور پر، علاقائی سفارتی قوت کی [مزید پڑھیے]

افغانستان: جنگ کی پشت پر منشیات کی تجارت

October 1, 2009 // 0 Comments

افغانستان میں افیم کی تیاری میں خام مال کے طور پر استعمال ہونے والی پوست کی کاشت رکوانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد گزشتہ جون میں امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے یہ حیرت انگیز اعلان کیا کہ پوست کی کاشت رکوانا وسائل کا ضیاع ہے! اس کے بجائے اب نیٹو اور افغان افواج نے افیون کی تجارت اور طالبان کے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی کے نیٹ ورک پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ویت نام میں قائم یو این آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم کے سربراہ انتونیو ماریا کوسٹا سے بڑھ کر اس صورت حال پر کسی کی نظر نہیں۔ انتونیو ماریا کوسٹا افغانستان جاتے رہتے ہیں اور تین سو ساٹھ مقامی اہلکاروں کی ٹیم ملک بھر میں گھوم پھر کر [مزید پڑھیے]

کرد بحران: پُرامن حل کی جانب پیش قدمی

October 1, 2009 // 0 Comments

یکم مئی ۱۹۲۰ء کو ترکی کی نوزائیدہ پارلیمنٹ میں مصطفی کمال اتاترک نے اعلان کیا کہ ملک کے شمال میں آباد کرد بھی دوسروں کی مانند ترک باشندے ہیں اور ان سے کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آٹھ عشروں سے بھی زائد مدت کے دوران کردوں سے بدترین امتیاز برتا گیا ہے۔ ترکی کے ایک کروڑ ۴۰ لاکھ کردوں نے جب جب اپنی شناخت کا سوال اٹھایا ہے، انہیں کچلا گیا ہے، آبائی علاقوں سے نکال باہر کیا گیا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، قید و بند کی صعوبتیں دی گئی ہیں اور قتل کیا گیا ہے۔ اپنے وجود کو منوانے کے لیے کردوں نے پے در پے بغاوتیں کی ہیں۔ ان میں سب سے خونریز [مزید پڑھیے]

میں نے بش پر جوتا کیوں پھینکا؟

October 1, 2009 // 0 Comments

عراق کے بہادر صحافی منتظر الزیدی رہا ہو گئے ہیں، رہائی کے بعد انہوں نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ ان کے اس خطاب کا متن حاضر ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم آج میں تو آزاد ہوں، مگر میرا وطن (عراق) آج بھی جنگی قیدی ہے۔ میں ان سب اصحاب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرا ساتھ دیا۔ وہ عراق میں ہیں یا عراق سے باہر اسلامی دنیا میں، میرے شکریہ کے مستحق ہیں۔ میں نے جو کام کیا اس کے بارے میں بڑی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ میرے بارے میں بھی بہت کچھ کہا اور سنا گیا۔ میرے بہادرانہ کام اور اس کی علامتی حیثیت پر بھی بہت کچھ کہا گیا، لیکن میں صرف اس بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں [مزید پڑھیے]

معمر قذافی کے اقتدار کے ۴۰ سال

October 1, 2009 // 0 Comments

لیبیا کے لیڈر معمر قذافی کا زوال اب اختتام پذیر ہے۔ قوم انہیں عملی سطح پر مسترد کرچکی ہے۔ مگر اس سے کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ معمر قذافی نے چالیس سال قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ ان چالیس برسوں میں انہوں نے پڑوسی ممالک سے کئی جنگیں لڑی ہیں، کئی بار ان پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں، ملک کو مختلف تنازعات کے باعث اقتصادی ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دنیا نے ان کا تمسخر بھی اڑایا ہے۔ معمر قذافی نے یکم ستمبر کو اقتدار کے چالیس سال مکمل کیے۔ انہوں نے ۱۹۶۹ء میں آرمی کیپٹن کی حیثیت سے شاہ ادریس کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ اب بھی وہ جواں عزم ہیں اور مزید حکمرانی [مزید پڑھیے]