Abd Add
 

شمارہ یکم جولائی 2012

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:5، شمارہ نمبر:13

موغا دیشو: رونقیں لوٹ رہی ہیں!

July 1, 2012 // 0 Comments

صومالیہ کو خانہ جنگی نے تباہ کردیا ہے۔ ملک میں بظاہر کوئی طاقتور مرکزی حکومت نہیں جس کے باعث خرابیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ مغربی میڈیا نے اسلامی شدت پسندی کا ایسا راگ الاپا کہ مشکلات کم ہونے کے بجائے آپس میں ضرب ہوتی گئیں۔ مگر اب صومالیہ کے ساحل کے حوالے سے یہ امید افزا خبر آئی ہے کہ سب کچھ معمول کی طرف لوٹ رہا ہے۔ ایک طرف تو ساحلوں پر رونق بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف ملک میں خریداری کا رجحان بھی تقویت پارہا ہے۔ یہ بہت حیرت انگیز اور خوش کن امر ہے۔ صومایہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ابھی کل تک لوگ کسی نہ کسی طرح صبح سے شام کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ اپنی دکانوں کو سجانے اور [مزید پڑھیے]

عدم رواداری کے لیے رواداری

July 1, 2012 // 0 Comments

انڈونیشیا میں مذہبی بنیاد پر تشدد کو فروغ مل رہا ہے۔ مئی کے دوران کئی مقامات پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کی چند مذہبی رسوم کے دوران مسلمانوں نے گرجا گھروں پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں بھی حملے کیے گئے۔ دارالحکومت جکارتہ کے نواح میں بھی ایک چرچ پر حملہ کیا گیا۔ بہت سے عیسائیوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شمالی سماٹرا میں بنیاد پرست مسلمانوںکی اکثریت والے صوبے آچے میں ۱۶؍گرجا گھر اجازت نامہ نہ ملنے کے باعث بند کردیے گئے ہیں۔ انڈونیشیا میں مذہب کے نام پر ڈرانے دھمکانے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے مگر اس کے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں کیا جارہا۔ ۲۶ [مزید پڑھیے]

صدیوں سے ’شناخت سے محروم‘ اراکانی مسلمان

July 1, 2012 // 0 Comments

برما کے صوبے اراکان میں آباد روہنگیا مسلمان خدا جانے کون سا مقدر لے کر اس دنیا میں آئے ہیں کہ ان کی پریشانیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ برمی حکومت انہیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہیں۔ کئی صدیوں سے وہ اپنی شناخت کے لیے متحرک رہے ہیں مگر اب تک کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔ روہنگیا مسلمان ہر دور میں جبر و استبداد کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ ان پر ان کی اپنی ہی زمین تنگ کردی گئی ہے۔ برمی حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سرزمین کو اپنالیں اور بنگلہ دیش ان کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اراکانی مسلمانوں کی شناخت کا مسئلہ کسی طور حل ہوکر نہیں دے [مزید پڑھیے]

غزہ کے حالات معمول پر آ سکیں گے؟

July 1, 2012 // 0 Comments

غزہ کا پانچ سالہ محاصرہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ لڑائی ختم ہوچکی ہے۔ بمباری کا اب نشان نہیں۔ یہ بجائے خود خوشی کا موقع ہے۔ مگر حماس کے حلقوں میں دور دور تک حقیقی مسرت کے آثار نہیں۔ حماس نے ۱۴؍جون کو ملٹری ٹیک اوور کی سالگرہ منانا بھی گوارا نہ کیا۔ غزہ شہر کی انتظامیہ معاملات درست کرنے میں مصروف ہے۔ داخلی سلامتی کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ انتظامی امور کو بہتر انداز سے انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مصر سے تجارتی روابط بڑھائے جارہے ہیں تاکہ مشکلات کم ہوں اور معیشت رواں ہوں۔ ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ حماس اب سیاسی سمت کے اعتبار سے مخمصے میں ہے۔ چند ماہ کے دوران حماس نے الفتح [مزید پڑھیے]

عراق: تیل کی کوئی کمی نہیں!

July 1, 2012 // 0 Comments

عراق میں تیل کی کمی نہیں۔ غیر مستحکم سیاست اور اس سے بھی غیر مستحکم معیشت نے مسائل پیدا کیے تھے جو اب بہت حد تک حل ہوچکے ہیں۔ بہت جلد عراق تیل کے حوالے سے عالمی طاقتوں میں شمار ہوگا مگر خیر، وہ اس صورت حال سے زیادہ محظوظ نہ ہوسکے گا۔ بصرہ کے نزدیک خلیج میں نئی پائپ لائن بچھائی جارہی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بہت جلد عراق کا شمار تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں ہو گا اور ملک پر پیٹرو ڈالر کی بارش بھی ہوگی۔ آسٹریلیا کی فرم لیٹن آف شور (Leighton offshore) عراق میں تیل کی تنصیبات کو مستحکم کرنے اور تیل کی برآمد کے لیے ٹینکروں کو بھرنے کے حوالے سے سرمایہ کاری کر [مزید پڑھیے]

چین سے متعلق امریکی فوجی حکمتِ عملی

July 1, 2012 // 0 Comments

امریکا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ہے۔ اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کی کوششیں اب تک ملے جلے اثرات کی حامل رہی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے چین کے خلاف بحری و فضائی جنگ کی سوچ اپنائی ہے مگر ناقدین نے اس میں خامیاں تلاش کی ہیں۔ گزشتہ عشرے کے بیشتر حصے میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات نے امریکا میں صنعتی سطح پر مقبولیت حاصل کی اور اس کے نتیجے میں اسٹریٹجک سوچ رکھنے والے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مگر اب دفاعی امور میں ایک نئے فیشن کی آمد ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے لیے جمع ہونے والے ایشیائی وزرائے دفاع کے سامنے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک [مزید پڑھیے]