Abd Add
 

شمارہ یکم جولائی 2015

علی احسن مجاہد کا سزائے موت سننے پر ردِعمل

July 1, 2015 // 0 Comments

ایک شخص کب، کیسے اور کہاں مرے گا، اس کا فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ اور کسی کے پاس اللہ کے فیصلے میں رد و بدل کا اختیار یا طاقت نہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے دی جانے والی سزائے موت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور مجھے سپریم کورٹ کی جانب سے یہ سزا برقرار رکھنے کے فیصلے کی بھی کوئی پروا نہیں۔[مزید پڑھیے]

امریکا اور مشرقِ وسطیٰ: انکسار یا بے نیازی؟

July 1, 2015 // 0 Comments

امریکا کئی مشکلوں کے بعد یہ بات سمجھ چکا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ مگر براک اوباما کی سوچی سمجھی بے نیازی مسائل کو اور بڑھا رہی ہے۔ مئی کا آخری پیر تھا، جب براک اوباما نے آرلنگٹن قومی قبرستان میں سفید سنگِ مرمر سے بنے اسٹیج پر کھڑے ہو کر مختصر تقریر کرتے ہوئے اس حوالے سے کافی کچھ بتا دیا کہ وہ امریکی عسکری قوت کا استعمال کن معنوں میں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج ۱۴؍برس بعد آنجہانی فوجیوں کو یاد کرنے کا یہ پہلا دن آیا ہے، جب امریکا کسی بڑی زمینی جنگ میں ملوث نہیں ہے‘‘۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد جو کبھی ایک لاکھ سے زائد تھی، اب اس کے دسویں حصے [مزید پڑھیے]

اوپیک کی اِجارہ داری خطرے میں!

July 1, 2015 // 0 Comments

امریکا کی سلیٹی صنعتیں (Shale Firms) تیل کی منڈی میں پیداوار مسلسل بڑھا رہی ہیں جس سے کم قیمت پر زیادہ تیل حاصل ہوسکے گا۔ اس سے قبل تیل کی صنعت گویا اس طرح چلائی جارہی تھی کہ بڑی کمپنیاں تیل کے کنوؤں کو اپنے قبضے میں رکھتی تھیں اور تیل پیدا کرنے والی ریاستیں خود کو خوشحال رکھنے کے لیے گٹھ جوڑ کرکے قیمتوں کو تبدیل نہیں ہونے دیتی تھیں۔ یہ گٹھ جوڑ اب ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ تیل استعمال کرنے والے بڑے ممالک کی نمائندہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے ۱۳؍مئی کو کہا کہ عالمی سطح پر اضافی تیل جمع ہورہا ہے کیونکہ امریکی سلیٹی صنعتوں کا عالمی منڈی میں حصہ کم کرنے کے لیے سعودی عرب نے تیل مسلسل فراہم کیا ہے۔ [مزید پڑھیے]

عُمان کی خارجہ پالیسی

July 1, 2015 // 0 Comments

جزیرہ نما عرب کے جنوب مشرقی حصے، میں واقع عُمان ایسے ممالک کے گرد گِھرا ہوا ہے جو فرقہ وارانہ سرد جنگ اور ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ لیکن مختصر سی سلطنت رکھنے والا عُمان عدم مداخلت کی پالیسی پر کارفرما ہے اور بدلے میں اپنی خودمختاری کا احترام چاہتا ہے[مزید پڑھیے]

شمال مشرقی بھارت کے باغیوں کا اتحاد

July 1, 2015 // 0 Comments

شمالی ہند کے باغی گروپوں نے ۱۷؍اپریل کو ایک متحدہ مورچہ تشکیل دیا ہے، جس کے بعد سے مرکزی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس مورچے کی تشکیل کا بنیادی مقصد مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لیے مشکلات بڑھانا ہے تاکہ اپنے مطالبات زیادہ طاقتور انداز سے منوائے جاسکیں۔ ناگا لینڈ اور میانمار کی سرحد پر ایک گشت کے دوران باغیوں سے جھڑپ میں بھارتی نیم فوجی دستوں کے آٹھ جوان مارے گئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ باغیوں نے بڑی تعداد میں علاقے کا محاصرہ کرکے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔ یہ سب کچھ اتنے بڑے پیمانے پر تھا کہ مقامی باشندے شدید خوفزدہ ہوگئے۔ باغیوں کے پاس جدید اور وافر اسلحہ تھا۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو گمان بھی نہ تھا [مزید پڑھیے]

جنوبی ایشیا میں خواتین کی حالتِ زار

July 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے کنوارے وزیراعظم ہمیشہ مخالف جنس سے مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ پچھلے سال انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد اپنی والدہ کے گھر جا کر انہوں نے اپنے آپ کو ماں کی تعظیم کرتے ہوئے دکھانے کی کوشش کی، لیکن وہ انہیں حلف برداری کی انتہائی اہم تقریب میں نہ بلا سکے۔ وہ اکثر خواتین کی عزت و احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ خواتین کو ایسے رشتوں سے مخاطب کرتے ہیں، جن سے مرد کا غلبہ یا پھر عورت کے تحفظ کے لیے مرد کے لازم ہونے کا تاثر ملتا ہے، جیسا کہ مائیں، بہنیں اور بیویاں۔ یہ باتیں ان کی ساکھ بہتر کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں کر رہیں کیوں کہ وزیراعظم کے انتخاب [مزید پڑھیے]