روس کے عزائم میں تبدیلی

کسی بھی ٹیکنالوجی کے لیے جغرافیائی اور اخلاقی حدود کا تعین ممکن نہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں۔ امریکا نے ایٹمی عدم پھیلائو کے نام پردنیا بھر میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے مؤثر، غیر فوجی استعمال کی راہ مسدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہت سے پسماندہ ممالک چاہیں تو ایٹمی ٹیکنالوجی کے ذریعے توانائی کا بحران ختم کر سکتے ہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی بہت سے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کی نقیب اور وسیلہ ثابت ہوئی ہے۔ امریکا اور یورپ نے اس شعبے میں غیر معمولی پیش رفت کے ذریعے اپنے بہت سے بنیادی مسائل حل کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

ایٹمی عدم پھیلائو اب مقصد سے زیادہ ڈھکوسلے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مغربی طاقتیں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کے خدشے کا ڈھنڈورا پیٹ کر کئی ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے روک رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی بنیادی ضرورت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے توانائی کا بحران مستقل بنیاد پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ شمالی کوریا اور ایران کے ایٹمی پروگرام کی حقیقت کوئی نہیں جانتا۔ بہت سے مبصرین ایران کے وعدوں پر بھی یقین کے لیے تیار نہیں۔ شمالی کوریا کا بھی کچھ کچھ یہی معاملہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران اور شمالی کوریا سے ڈرا کر ایٹمی ٹیکنالوجی کے دروازے پسماندہ اور ترقی پذیر دنیا پر بند کیے جا رہے ہیں۔

روس نے نئی ایٹمی ڈاکٹرائن کا اعلان کر کے امریکا اور یورپ کے لیے پریشانی کا سامان کیا ہے۔ روسی صدر کے دستخط سے جاری کی جانے والی ڈاکٹرائن میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی بلا جواز ہے اور ضرورت پڑنے پر روس ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ روس کی ایٹمی ڈاکٹرائن کو نیٹو نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ امریکا اور یورپ کی خواہش یہ ہے کہ کسی اور خطے کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔ یعنی جب جنگ وسعت اختیار کر کے بے قابو ہو تو ایٹمی ہتھیار استعمال کر کے حالات اپنے حق میں کیے جائیں۔ ایشیائی قوتیں اس معاملے میں الگ رائے رکھتی ہیں۔ روس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایشیا میں بھی ہے اور یورپ میں بھی۔ ایسے میں اس کے لیے ایشیا سے ہٹ کر سوچنا خاصا مشکل ہے۔ ایشیا میں اس کے حلیفوں کی تعداد بھی ایسی نہیں کہ نظرانداز کر دی جائے۔

روس نے ایٹمی ڈاکٹرائن میں یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی حلیف ملک کے خلاف جنگ کی صورت میں وہ ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ یہ ایک خطرناک اشارہ ہے۔ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے استعماریت کی شکل بدل دی ہے۔ کسی ملک پر حملے کے بعد قبضہ جمانا گزرے ہوئے وقتوں کی بات ہے۔ اب عسکریت پسندی کے ذریعے دنیا بھر میں خرابیاں پیدا کی جاتی ہیں اور پھر ان خرابیوں کی آڑ میں اپنا اُلو سیدھا کر لیا جاتا ہے۔ امریکا نے دنیا بھر میں پائوں پھیلا رکھے ہیں۔ اس کی فوج پر دبائو میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ معاشی مفادات نے امریکا کو بہت سی ناخوشگوار حرکتوں پر مجبور کر رکھا ہے۔ روس جیسے طاقتور ممالک کو اب یہ بات بری طرح کَھل رہی ہے۔ وسط ایشیا میں بھی امریکی مفادات کو تقویت بہم پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امریکی پالیسی ساز بھی روس اور دیگر بڑے ممالک میں پائے جانے والے تحفظات کو سمجھتے ہیں۔ ان کی کوشش قومی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے پر مرکوز رہتی ہے۔ وہ اس سے آگے دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔

سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سے روس بین الاقوامی سفارت کاری اور معیشت کے میدان میں قدرے خاموش رہا ہے۔ اس نے ایشیا میں بھی کسی نئی مہم جوئی کی تیاری نہیں کی۔ وسطِ ایشیا کی جن ریاستوں کو وہ کبھی اپنا طفیلی گردانتا تھا وہ اب مغرب کی ہم نوا ہو گئی ہیں۔ یورپی یونین کی مشرقی یورپ تک توسیع نے روس کے تحفظات کو ہوا دی ہے۔ اب بین الاقوامی معاملات میں اس کا نمایاں طور پر لاتعلق رہنا ممکن نہیں رہا۔ روس عالمی برادری میں اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ اپنی آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔ پانچ بڑی طاقتوں میں شامل ہونے کی بدولت اسے ویٹو پاور بھی حاصل ہے۔ امریکا اور یورپ کے لیے اب روس کو نظر انداز کرنا بہت حد تک ممکن نہیں رہا۔ روس کی نئی ایٹمی ڈاکٹرائن اس نکتے کی غماز ہے کہ وہ اب سرجھکا کر چلنے کے موڈ میں نہیں۔ امریکا اور یورپ کو اس کی بات سننی پڑے گی۔ روس اور چین ہم آہنگ ہو کر مغرب پر دبائو بڑھا بھی سکتے ہیں۔

(بشکریہ: ’’رائٹرز‘‘۔ ۵ فروری ۲۰۱۰ء۔ ترجمہ: سعیدہ رحیم)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*