اسلان مسخادوف: چیچنیا کی آزادی کا عظیم رہنما

چیچنیا کی آزادی اور اسے سابق سوویت یونین اور (اس کے ٹکڑے ہو جانے کے بعد) روس سے نجات دلانے کی تاریخ جب مرتب کی جائے گی تو اس میں اسلان مسخادوف کا نام سرفہرست ہو گا۔ برسوں سے جاری جدوجہدِ آزادی میں جو اور دو نام ابھرتے ہیں‘ وہ دوایف اور شامیل بسائیف کے ہیں۔ دودایف کو روسی فوجوں نے جو مسلسل اس کے تعاقب میں تھیں‘ ایک موبائل فون پر اس (دودایف) کی گفتگو کے دوران سٹیلائٹ سے پتا چلا کہ میزائل اور راکٹوں سے حملہ کیا اور اس کا خاتمہ کر دیا۔ چیچن عوام اپنے لیے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں‘ وہ سابق سوویت یونین اور موجودہ روس کی حکمرانی سے نالاں ہیں۔ انصاف سے محرومی اور عوام کو بے وطنی کی زندگی گزارتے دیکھ کر چند سرفروشوں نے مسلح تحریک شروع کر دی۔ کئی مقامی افراد اور اہم رہنما جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے۔ دودایف کے بعد اسلان مسخادوف کو ایک طاقتور عوامی لیڈر کا موقف حاصل ہوا۔ ان کی قیادت میں چیچن کی پہلی جنگِ آزادی لڑی گئی اور اپنے زمانہ کی بڑی طاقت روس کو شکست دینے کے بعد اسلان مسخادوف کا نام کامیاب رہنمائوں میں شامل ہو گیا۔ ۱۹۹۴ء اور ۱۹۹۶ء کے درمیان چیچنیا نے روسی فوج سے لوہالیا اور مسخادوف کو کامیابی ملی۔ اس وقت چیچنیا عملاً آزاد جمہوریہ بن گیا تھا۔ ۱۹۹۶ء میں مسخادوف نے عبوری وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا جب دودایف کا قتل ہوا تھا۔ اس کے بعد کے سال ہی میں صدارتی انتخابات ہوئے تو مسخادوف کو اتنی بھاری اکثریت سے کامیابی ملی کہ اس وقت کے روسی صدر بورس یلسن نے انہیں مبارکباد بھی دی اور یہ وعدہ کیا کہ وہ چیچنیا کی تعمیرِ نو میں مدد کریں گے۔ تاہم ایسا کچھ نہ ہو سکا اور گزرتے وقت کے ساتھ چیچنیا اور روس میں خلیج بڑھتی گئی۔ روس چیچنیا کو علیحدہ کرنے یا اس کی آزادی تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا۔ مسخادوف اور بسائیف کے گروپوں میں اختلاف بڑھتے گئے۔ بسائیف کے کارکنوں نے روس اور دیگر کئی مقامات پر حملوں کی کارروائیاں کیں۔ بسائیف نے مسخادوف کو ہلاک کرنے کی کئی سازشیں بھی کیں۔ دونوں گروپ اسلام پسند اور سیکولر طاقتوں میں بٹ گئے۔ مسخادوف کا رجحان سیکولرازم کی طرف تھا اور بسائیف کو اسلام پسند کٹر گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ چیچنیا میں کٹر مذہبی رجحانات کے حامل اس کو مکمل اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ الغرض آپسی لڑائیوں کے باوجود روسی فوج کی موجودگی کے خلاف دونوں گروپ سرگرم رہے۔ روس نے یہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی۔ ستمبر ۱۹۹۹ء میں بسائیف کے مسلح گروپ نے پڑوسی جمہوریہ داغستان پر حملہ کر دیا تو روس نے اکتوبر ۱۹۹۹ء میں اپنی فوجیں دوبارہ چیچنیا میں بھیج دیں اور پھر بعد کی کہانی آج تک اپنا انجام تلاش کر رہی ہے۔ مسخادوف کو صدارتی عہدہ چھوڑنا پڑا اور وہ پھر علیحدگی پسند گوریلا لیڈر کی حیثیت سے آزادیٔ وطن کی مسلح جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ چیچنیا کی آزادی کی دوسری لڑائی میں وہ ناکام رہے لیکن جدوجہد جاری رہی۔ مسخادوف کی عملی زندگی کی شروعات سوویت فوج سے ہوئی۔ وہ جلاوطن والدین کے گھر پیدا ہوئے جو بعد میں چیچنیا واپس آگئے تھے۔ روسی فوج میں وہ ترقی کرتے ہوئے فوجی کمانڈر اور چیف آف اسٹاف چیچنیا کے عہدہ تک پہنچے۔ اس وقت سوویت یونین کا زوال ہو چکا تھا۔ مسخادوف ہر وقت بندوق کی آواز میں بات کرنے کے قائل نہ تھے۔ چنانچہ جب پہلی جنگ چیچنیا میں کامیابی کے دو سال بعد روس نے امن کی بات کی تو وہ اس کے لیے تیار ہو گئے اور امن وفد کی قیادت کرتے ہوئے روسی قائدین سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے نتیجہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ لیکن بعد کے حالات نے واضح کر دیا کہ روس‘ چیچنیا کو علیحدہ کرنے تیار نہیں تھا اور وہاں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ حالیہ عرصہ میں بیسلان اسکول کا واقعہ اور ماضی میں ماسکو تھیٹر میں بم دھماکے‘ دو طیاروں کو مار گرانے کے واقعات کے علاوہ کئی پرتشدد کارروائیوں کے لیے ان کو ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا جس میں ہزاروں جانیں گئیں۔ انصاف اور آزادی کی لڑائی کے طریقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ کامیاب بغاوت کو انقلاب اور ناکام کو بغاوت کہا جاتا ہے۔ آزادی کے لیے لڑائی لڑنے والے صرف چیچنیا میں ہی نہیں ہیں۔ فلسطین میں نصف صدی سے بے وطنی کی حالت میں زندگی گزارنے والوں کا عزم و حوصلہ فولاد کا ہے جو ایک مثال ہے۔ چیچنیا کے دوسرے بڑے لیڈر (دودایف کے بعد) کی ہلاکت سے کچھ تبدیلیاں ہوں گی۔ روس نے حالات پر نظر رکھی ہے جو اپنی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعہ عوام کو بہلانے کی کوشش کرے گی۔ عوام کا ردِعمل اس واقعہ میں بے حد اہم ہے۔ روس نے مسخادوف پر القاعدہ سے روابط کا بھی الزام رکھا تھا۔ ان کا قتل بھی معمہ بنا ہوا ہے کہ آیا اور روسی فوجوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے یا ان کے باڈی گارڈ نے انہیں دشمنوں کے ہاتھوں میں دینے کے بجائے ان کو خود ہی مار ڈالا۔ وقت آنے پر یہ معمہ بھی سلجھ جائے گا۔ فی الوقت چیچنیا میں امن و امان کی برقراری اصل مسئلہ ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’سیاست‘‘۔ حیدرآباد دکن)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.