پانی کا کیمیائی معجزہ

پانی میں جس طرح بہت سی اہم طبیعیاتی خصوصیات پائی جاتی ہیں‘ اس طرح وہ بہت سی اہم کیمیائی خصوصیات سے بھی مالا مال ہے۔ ان میں سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ تمام حل پزیر چیزوں کو اپنے اندر حل کرلیتا ہے اور بہت سی چیزیں بڑے اچھے انداز سے اس میں حل ہوجاتی ہیں۔ زندگی میں پانی کی اس خاصیت کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے معدنیات اور نمکیات سمندروں تک پہنچی ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طریقے سے پانچ کھرب ٹن سے زیادہ نمکیات اور معدنیات سمندروں میں منتقل ہوچکی ہیں خود پانی میں بھی ان چیزوں کا وجود زندگی کے لیے ضروری ہے۔ دوسری جانب پانی کو اکثر کیمیائی تعاملات میں ایک اہم معاون کی حیثیت حاصل ہے۔

پانی کی دوسری کیمیائی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سب سے اچھی ممکنہ سطح پر کیمیائی تعامل کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں پانی ایسڈ (تیزاب) کی طرح تعامل میں نہایت تیزی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اور نہ آرکوں‘ گیس کی طرح نہایت سستی کا‘ بلکہ بقول مایکل ڈینٹن ’’پانی‘‘ حیاتیاتی اور ارضیاتی طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے کیمیائی تعامل کی نہایت مناسب سطح پر ہوتا ہے۔

دوسری جانب زندگی میں پانی کے اہم کردار سے اس کی کیمیائی خاصیات کی مطابقت کے سبب‘ پانی پر ہر نئی تحقیق کے نتیجے میں نئی نئی معلومات حاصل ہورہی ہیں۔

بیل یونیورسٹی میں حیاتیاتی طبیعیات کے استاد‘ پروفیسر پارولڈ موروٹز اس بارے میں کہتے ہیں:

’’زمانہ قریب میں ایسی علمی پیش قدمی ہوئی ہے جس سے پانی کی ایک نئی خاصیت دریافت ہوئی ہے جو قبل ازیں معلوم نہ تھی۔ یہ خاصیات ’’پروٹانی ایصال‘‘ ہے جو صرف پانی میں پائی جاتی ہے۔ اس خاصیت کی دو رُخوں سے غیر معمولی اہمیت ہے: ایک حیاتیاتی توانائی کی ترسیل اور دوسری زندگی کی اصلیت کی پہچان۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جوں جوں ہمیں فطرت کے اسرار کا علم ہوتا جاتاہے توں توں اس کی ہماری زندگی سے مطابقت پر ہمارے تعجب میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔‘‘

(بحوالہ: ’’سلسلۂ معجزات‘‘۔ مصنف: ہارون یحییٰ)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*