پاکستان اور بھارت سے چین کے تعلقات کی بدلتی نوعیت

چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ نے گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک میں ان کے دورے کی نوعیت تقریباً یکساں تھی۔ انہوں نے تعلقات بہتر بنانے اور خطے میں حقیقی استحکام پیدا کرنے کے حوالے سے مختلف معاہدے کیے۔ چین کے وزیر اعظم نے بھارت کو تجارتی حوالے سے اور پاکستان کو اسٹریٹجک معاملات میں غیر معمولی اہمیت دی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوستی کی روش پر گامزن رہا جائے گا۔ وین جیا باؤ کے دورے پر ایک چینی دانشور اور ایک بھارتی صحافی نے جو کچھ محسوس کیا ہے وہ ہم آپ کی خدمات میں پیش کر رہے ہیں۔


فو ژیاؤ کیانگ:

وزیراعظم وین جیا باؤ نے حال ہی میں بھارت اور پاکستان کا دورہ کیا جو کئی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل اور سود مند رہا۔ وین جیا باؤ نے دونوں ممالک کو چین کی بے مثال ترقی سے مستفید ہونے کی پیشکش کی۔ نئی دہلی میں انہوں نے کہا کہ چین پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی ملک سے مخاصمت اس کی پالیسیوں کی بنیاد نہیں۔ انہوں نے بھارت کی قیادت سے کہا کہ چین ایسا ماحول چاہتا ہے جس میں کسی بھی فریق کے لیے ناکامی اور شکست نہ ہو بلکہ ہر قوم عزت نفس برقرار رکھتے ہوئے زندگی بسر کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہتر انداز سے مل کر کام کرنے کی راہ ہموار کرنا چین کی پالیسیوں کی بنیاد ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد میں پاکستانی قیادت سے بات چیت میں وین جیا باؤ نے کہا کہ پاکستان سے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینا چین کے لیے بہت ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان سے اس کے تعلقات اسٹریٹجک حوالے سے بہت اہم ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مشکلات اور مفادات کو بہتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی ضرورت پر خاص زور دیا۔

بھارت واحد ملک ہے جس سے چین کا سرحدی تنازع ہے۔ اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مغربی میڈیا اس تنازع کا ڈھول پیٹتے رہنے میں خاصی مسرت محسوس کرتا ہے۔ رائی کا پہاڑ بنانے کے معاملے میں مغربی میڈیا کی بے تابی قابل دید ہے۔ بھارتی قیادت سے مذاکرات میں وین جیا باؤ نے واضح کیا کہ ان کا ملک بھارت سے اسٹریٹجک معاملات پر کوئی معاہدہ کرنے پر تجارتی روابط کو بہتر بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس نکتے پر بھی زور دیا کہ چین اور بھارت کے بہتر اور خوشگوار تعلقات جنوبی ایشیا میں حقیقی استحکام کی بنیاد ہیں۔

چین اور بھارت کے سفارتی تعلقات کی ساٹھویں سالگرہ بھی قریب ہے۔ دونوں ممالک ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اقتصادی حوالے سے دوطرفہ تعاون بڑھ رہا ہے۔ اب تک دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم ۶۰ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اب طے کیا گیا ہے کہ ۲۰۱۵ء تک اس حجم کو ۱۰۰ ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے گا۔ بھارت میں چین کی سرمایہ کاری بڑھتی جارہی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے اپنی مارکیٹس کھولتے جارہے ہیں۔ ہنر مند اور کاروباری افراد ایک دوسرے کے ہاں بڑی تعداد میں جا رہے ہیں۔ تجارتی تعلقات کا وسیع ہوتا ہوا دائرہ معاشرتی اور ثقافتی تعلقات میں بھی وسعت کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

۲۰ سال قبل چین اور بھارت کے تعلقات معمول کی سطح پر آئے اور تب سے اب تک دو طرفہ تجارت کو مسلسل فروغ مل رہا ہے۔ چین کی طرف سے دیا جانے والا پیغام واضح ہے یعنی یہ کہ دوستی اور مفاہمت میں ترقی اور خوش حالی ہے جبکہ مخاصمت اور تنازعات سے صرف دکھ ملتے ہیں۔

چین اور بھارت نے اعلیٰ سطحی رابطوں کا میکینزم قائم کرلیا ہے۔ تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ پروٹوکول میٹنگز کے علاوہ سرحدی تنازع پر خصوصی ایلچیوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی کانفرنسوں کے موقع پر دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور دیگر اعلیٰ حکام کی ملاقات یقینی بنانے پر بھی خاص توجہ دی جارہی ہے۔ اسٹریٹجک اکنامک ڈائیلاگ کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ یہ اہتمام اس لیے کیا گیا ہے کہ کہیں کوئی تصفیہ طلب امر تمام تعلقات کو داؤ پر نہ لگا دے۔

تجارت کے حوالے سے بھارت اور چین کو یکساں نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو آلودگی کا مسئلہ ہے اور پھر بین الاقوامی تجارتی مذاکرات کے حوالے سے تحفظّات ہیں۔ توانائی کا بحران بھی دونوں ممالک کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ چین کئی ممالک سے تیل درآمد کرتا ہے تاکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔ عین ممکن ہے کہ چین اور بھارت نئے عالمی نظام کی شکل بدلنے کے لیے اتحاد کرلیں۔

یہ سب تو ٹھیک ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ بھارت اب تک چین سے ماضی کی کشیدگی بھلا نہیں پایا ہے۔ وہ آج بھی چین کو اپنے لیے سب سے بڑا اسٹریٹجک خطرہ گردانتا ہے۔ چین کے بارے میں بھارتی رائے عامہ آسانی سے تبدیل ہو بھی نہیں سکتی۔ دونوں ممالک کو اس معاملے میں قدرے انقلابی سوچ اپنانی ہوگی۔

چین جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا کھیل نہیں کھیل رہا۔ اسے اس کھیل سے کچھ خاص غرض بھی نہیں۔ پاکستان کا دورہ کرکے وین جیا باؤ نے امریکا اور یورپ کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ ان کا ملک پاکستان کا ساتھ کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑے گا۔ پاکستان نے چین کو اسٹریٹجک کوریڈور فراہم کرنے اور بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں نمایاں ہونے کا موقع خوب فراہم کیا ہے۔ چین اور پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ دونوں کے سیاسی اور اسٹریٹجک مفادات یکساں ہیں۔ امریکا اور یورپ سے پاکستان کے تعلقات موڈ اور حالات کے تابع ہیں۔ چین کے معاملے میں ایسا نہیں۔ اس دوستی اور اعتماد کو برقرار رہنا ہی چاہیے۔

(فو ژیاؤ کیانگ دی چائنا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپوریری انٹرنیشنل ریلیشنز کے ریسرچ اسکالر ہیں۔)

سنندا کے دتہ رے:

چین کے وزیر خارجہ یینگ جئیچی کا کہنا ہے کہ چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ کا بھارت اور پاکستان کا دورہ ہر اعتبار سے کامیاب رہا اور بالخصوص تجارت میں وہ اپنی بات منوانے میں زیادہ کامیاب رہے۔ وین جیا باؤ نے بھارت اور پاکستان میں مقامی زبان اور روایات کا خاص خیال رکھا۔ بھارت میں انہوں نے ہزاروں سال پرانی دانش کے نمونے اپنشد سے متعلق معلومات رکھنے کا ثبوت دیا۔ انہوں نے نوبل انعام یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیقات کا بھی حوالہ دیا جس سے سب حیران رہ گئے۔ پاکستان میں بھی چینی وزیر اعظم کے خطاب کو پوری توجہ سے سنا گیا اور جب انہوں نے اردو میں پاک چین دوستی زندہ باد کہا تو پارلیمنٹ کے ارکان کے ہاتھ تالیاں بجاتے ہوئے تھکنے کا نام نہ لیتے تھے۔

وین جیا باؤ نے نئی دہلی میں واضح کردیا کہ ان کا ملک صرف دوستی اور مفاہمت چاہتا ہے۔ انہوں نے بھارتی قیادت کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ بھارت کو وہ دشمن ملک کی حیثیت سے نہیں دیکھتے۔ ان کا استدلال تھا کہ اچھا ہمسایا خدا کی نعمت سے کم نہیں۔ واضح رہے کہ وین جیا باؤ نے پاکستان اور بھارت دونوں سے دوستی اور مفاہمت کی بات کی۔

چینی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان سے اسٹریٹجک تعلقات نمایاں ہیں۔ دوسری جانب بھارت سے تجارت معاہدے کیے جاسکتے ہیں۔ اگر بھارت سے تعلقات مخاصمت پر مبنی رجحان کے حامل ہوں تو چین کی ترقی میں مشکلات پیدا ہوں گی اور اکیسویں صدی کو ایشیائی صدی بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

چین کے لیے بنیادی مشکل یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت سے اس کے تعلقات کسی نہ کسی مخالف بنیاد پر استوار ہیں۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مخاصمت ختم ہو جائے تو چین کی اہمیت اس خطے میں برائے نام رہ جائے گی۔ اِسی طور اگر اسے پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تب بھی اس کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔

بھارت میں چین کے وزیر اعظم نے جو اعلامیہ جاری کیا اس سے سے پاکستان کو یقینی طور پر مایوسی ہوئی ہوگی کیونکہ اس میں کشمیر کے تنازع کا کہیں بھی ذکر نہ تھا۔ دوسری جانب پاکستان میں جاری کیے جانے والے اعلامیے میں ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان کی مذمت سے سو فیصد تک گریز کیا گیا۔ سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے حصول کے لیے بھارت کی حمایت کا کھل کر اعلان کرنے پر بھی چین آمادہ نہیں ہوا۔ ساتھ ہی چینی وزیر اعظم نے یہ یقین دہانی کرانے سے بھی معذرت کرلی کہ کشمیری باشندوں کو چین کا ویزا نہیں دیا جائے گا۔ یہ تینوں باتیں پاکستان کے حق میں گئیں۔

چینی وزیر اعظم نے بھارت میں ۱۶ ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے کیے جبکہ پاکستان میں ان معاہدوں کی مالیت ۳۰ ارب ڈالر سے کم نہ تھی۔ یہ فرق اس بات کا مظہر تھا کہ چینی قیادت پاکستان کو خطے میں کس قدر اہمیت دیتی ہے۔

بھارت کا بنیادی شکوہ یہ ہے کہ چین آزاد تجارت کا معاہدہ تو کرنا چاہتا ہے تاہم اس سلسلے میں وہ بھارت کو کوئی بھی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ بھارتی قیادت کا کہنا ہے کہ مختلف پابندیوں کے باعث بھارت کو چین سے تجارت میں کم و بیش ۱۹ ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ اگر آزاد تجارت کا معاہدہ طے پاگیا تو بھارت کے بازاروں میں سستی چینی مصنوعات کا سیلاب آ جائے گا۔ ایسی کوئی بھی صورت حال بھارتی صنعتوں کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دے گی۔

چینی وزیر اعظم نے پاکستان کے دورے میں یہ بات کھل کر کہی کہ پاک چین دوستی کسی کے موڈ کی محتاج نہیں۔ انہوں نے پاکستان کو اسٹریٹجک حوالے سے غیر معمولی ملک قرار دیا۔ امریکا کو پیغام دیتے ہوئے چینی وزیر اعظم نے کہا کہ دور افتادہ رشتہ دار سے اچھا پڑوسی زیادہ سود مند ہے۔ ان کی بات کا واضح مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو امریکا کے مقابلے میں چین سے زیادہ مدد مل سکتی ہے۔

چین کا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک افغانستان میں امریکا ہے، پاکستان کچھ نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف بھارت کا معاملہ یہ ہے کہ اسے اب بھی یقین ہے کہ امریکا اسے بین الاقوامی سطح پر زیادہ نمایاں سفارتی اور ایٹمی حیثیت دلائے گا۔ وین جیا باؤ نے پاکستان اور بھارت میں جب قائدین سے مذاکرات کیے تو ایک بات بہت شدت سے محسوس کی گئی۔ ہر ملک میں امریکا تیسرے، نادیدہ فریق کی حیثیت سے موجود تھا!

(سنندا کے دتہ رے بھارتی اخبار دی اسٹیٹسمین کی سابق ایڈیٹر ہیں۔ کئی سال سنگاپور میں کام کیا۔ وہ ایوارڈ یافتہ کتاب ’’لُکنگ ایسٹ ٹو لُک ویسٹ‘‘ کی مصنفہ ہیں۔)

(بشکریہ: ’’چائنا ڈیلی‘‘۔ ’’ایشیا ویکلی‘‘۔ ۲۵ تا ۳۱ دسمبر ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*